Posts

ابن تیمیہ کا اعتراف کہ صحابی ولید شرابی اور فاجر تھا

ابن تیمیہ کا اعتراف کہ صحابی ولید شرابی اور فاجر تھا! الفتاوى الكبرى (2/ 308) ﻭَﻣَﻦْ ﺗَﺮَﻙَ ﺍﻟْﺠُﻤُﻌَﺔَ ﻭَﺍﻟْﺠَﻤَﺎﻋَﺔَ ﺧَﻠْﻒَ ﺍﻹِﻣَﺎﻡِ ﺍﻟْﻔَﺎﺟِﺮِ ﻓَﻬُﻮَ ﻣُﺒْﺘَﺪِﻉٌ ﻋِﻨْﺪَ ﺍﻹِﻣَﺎﻡِ ﺃَﺣْﻤَﺪ ﻭَﻏَﻴْﺮِﻩِ ﻣِﻦْ ﺃَﺋِﻤَّﺔِ ﺍﻟﺴُّﻨَّﺔِ .. وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يُصَلِّيهَا، وَلَا يُعِيدُهَا، فَإِنَّ الصَّحَابَةَ كَانُوا يُصَلُّونَ الْجُمُعَةَ وَالْجَمَاعَةَ خَلْفَ الْأَئِمَّةِ الْفُجَّارِ، وَلَا يُعِيدُونَ كَمَا كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي خَلْفَ الْحَجَّاجِ، وَابْنِ مَسْعُودٍ وَغَيْرُهُ يُصَلُّونَ خَلْفَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، وَكَانَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ  جس نے بھی فاجر امام کے پیچھے جمعہ اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ترک کردیا وہ امام احمد و دعگر علماء کے نزدیک بدعتی ہے! صحیح یہ ہے کہ فاجر کے پیچھے نماز پڑھی جائے اور اعادہ بھی نہیں کرے گا کیونکہ صحابہ جمعہ اور جماعت فاجر اماموں کے پیچھے پڑھتے تھے اور اعادہ بھی نہیں کرتے تھے جیسا کہ ابن عمر حجاج کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور ابن مسعود و دیگران ولید بن عقبہ کے پیچھے نماز پرھتے تھے جبکہ ولید شراب پیتا تھا!

دامادِ عثمان مروان بن حکم کی حقیقت

*× دامادِ عثمان مروان بن حکم کی حقیقت × قسط ۞٧۞* *۞دامادِ عثمان مروان بن حکم نے سنتِ رسولﷺ وآلہ کو اِس لیئے ترک کیا تاکہ وہ علیؑ کو گالیاں دے۞* قارئین : قسط نمبر دو ٢ میں ہم نے دامادِ عثمان مروان بن حکم کے حوالے سے گزارش کی تھی کہ وہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق تارکِ سنتِ رسولﷺ وآلہ ہے اور دامادِ عثمان مروان بن حکم کے جہنمی ہونے کیلئے یہ کافی ہے  لیکن کیا وجہ ہے کہ دامادِ عثمان مروان بن حکم نے اِس ( سنتِ رسولﷺ وآلہ ) کو ترک کیا؟  سنیوں کے علامہ انور شاہ کشمیری اُس (بخاری والی) روایت کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "سنت نبوی یہ ہے کہ نماز کو خطبہ سے پہلے ادا کیا جائے، مگر دامادِ عثمان مروان بن الحکم نے خطبہ کو نماز پر پہلے جاری کر دیا (یعنی سنت کو ترک کیا)   *کیونکہ وہ خطبے میں علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کہتا تھا۔* *حوالہ:[ فیض الباری شرح صحیح بخاری، جلد ١ ، ص ٤٦٧، کتاب العیدین]* قارئین: آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ:  ۞١۞ دامادِ عثمان مروان بن حکم نے سنتِ  رسولﷺ وآلہ کو ترک کیا   *۞٢۞ ترک اس لیئے کیا تاکہ وہ لوگوں سے سامنے نفسِ رسولﷺ برادرِ رسولﷺ سید المسلمین امیر...

روایت و درایت

Image
🚩 *قابلِ توجہ تحریر*  ضرور ملاحظہ فرمائیں   *محمد بِن محمد نعمان*   ( *شیخِ مفید* ) ✍️شیخ مفید کے زمانہ میں اہل سنت کا ایک بہت ہی عظیم عالم دین جسے لوگ قاضی ”عبد الجبار“ کے نام سے جانتے تھے جو بغداد میں  درس دیا کرتے تھے، ایک روز قاضی عبد الجبار درس کے لئے بیٹھے تھے اور تمام شیعہ سنی شاگرد بھی اس کے اس درس میں موجود تھے اس دن شیخ مفید بھی درس میں حاضر ہوئے اور آکر چوکھٹ پر بیٹھ گئے۔ قاضی نے شیخ مفید کو اب تک نہیں دیکھا تھا لیکن انھوں نے ان کے اوصاف سن رکھے تھے۔کچھ وقت گزرنے کے بعد شیخ مفید نے قاضی کی طرف دیکھ کر کہا: ”آیا مجھے ان دانشوروں کے سامنے اجازت دیتے ہو کہ میں آپ سے ایک سوال کروں؟“ شیخ مفید: یہ حدیث جس کے بارے میں شیعہ حضرات روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر نے صحرائے عرب غدیر میں علی علیہ السلام کے لئے فرمایا: ”من کنت مولاه فهذا علی مولاه“۔ جس کا میں مولا ہوں پس اس کے علی مولا ہیں“۔ کیا یہ صحیح ہے یاشیعوں نے گڑھ لی ہے ؟ قاضی: ”یہ روایت صحیح ہے“۔ شیخ مفید :اس روایت میں کلمہ مولا سے کیا مراد ہے ؟“ قاضی: ”مولا سے مطلب سر پرست اور اولویت ہے“۔ شیخ م...

وہ 12 منافقین کون تھے

وہ 12 منافقین کون تھے جنہوں رسولؑ کوقتل کرنے کی سازش رچی تھی؟   https://karbalaviews.com/%d9%88%db%81-12-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%81%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%aa%da%be%db%92-%d8%ac%d9%86%db%81%d9%88%da%ba-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84%d8%91-%da%a9%d9%88%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9/

ابو مخنف تاریخ میں ثقہ ہے

ابو مخنف کو ہمارے یہاں خاصی بُرا بھلا کہا جاتا ہے کہ کذاب ہے حالانکہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس کو کذاب صرف متأخرین نے کہا ہے۔یہ حدیث میں ضعیف ہے کیونکہ کثرت سے مجاہیل سے روایت کرتا ہے جو کہ ضعف کی ایک وجہ ہوتی ہے اور ایسے شخص کی احادیث میں شبہ ہر وقت رہتا ہے، مگر تاریخ میں ثقہ ہے۔ دلائل پیش ہیں: ۱۔ ابن فقیہ الہمذانی رحمہ اللہ نے اس کو "الثقة المؤتمن" قرار دیا ہے۔ [كتاب البلدان لابن الفقيه، صفحہ نمبر ۲۵۵] یہ ایک توثیق ہے۔اور ابنِ فقیہ الہمدانیؒ کا اپنا موضوع تاریخ و جعرافیہ ہی تھا۔اس فن میں ان کی مہارت کا کسی نے انکار نہیں کیا ہے۔ ۲۔ اس کے علاوہ مؤرخ یعقوبی اس کو ابو جعفر منصور کے دور کے بڑے علماء میں شمار کیا ہے۔ [تاريخ اليعقوبي، صفحہ نمبر ۲۷۴]  مؤرخ یعقوبی کی اس کتاب کی تعریف امام زرکلی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ [الأعلام للزركلي، جلد ۱، صفحہ نمبر ۹۵] ۳۔ امام ابن کثیر (المتوفیٰ: ۷۷۴ھ) کہتے ہیں:  ذكر ابن جرير عن ابي مخنف لوط بن يحيى وهو أحد أئمة هذا الشأن  ترجمہ: ابن جریر نے نقل کیا ابو مخنف لوط بن یحیی سے جو کہ اس معاملہ (تاریخ میں) میں امام ہیں۔ [البداية والنهاية ط هجر...

عقیدہ ختم نبوت اور عقیدہ امامت

عقیدہ ختم نبوت اور عقیدہ امامت سوشل میڈیا یا عام زندگی میں ہمارے مسلمان بھائی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن نے عقیدہ امامت کو بیان نہیں کیا آپ شیعہ حضرات اسکو اس قدر کیوں بڑھ چڑھ کر بیان کرتے ہو اور اپنے اصول دین میں شامل بھی کرتے ہو۔ جبکہ اس پہ ایمان لانے کی کوئی ایک آیت بھی قرآن میں موجود نہیں ہے۔  ہم جواباً عرض کرتے ہیں آپ ختم نبوت کو جو اتنا بڑھ چڑھ کر بیان کرتے ہو اور اسی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر و مرتد قرار دیتے ہو اور انکے فالورز کو بھی کافر کہتے ہو۔ کیا ختم نبوت پہ ایمان لانے پہ کوئی تاکید قرآن نے کی ہے؟؟ جواب دیا جاتا سورہ احزاب میں خاتم النبین کی ایک آیت موجود ہے اور وہی کافی ہے اس عقیدہ کو ماننے کے لئے۔  تو ہم بھی جواباً یہی گذارش کرتے ہیں اگر ایک آیت جس میں بیان ہوا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبین ہیں اس سے عقیدہ بنانا اسلامی رکن قرار پاتا ہے اور اسی کی وجہ سے اس کے منکر کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا تو سوچو امامت پہ تو قرآن نے متعدد آیات پیش کی ہیں ۔ پہلی آیت ‏Holy Quran 2:124 ------------------ ۞ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَ...

کیوں علی ع نے فدک واپس نہیں لیا

https://fb.watch/cN2sbVLTln/