Posts

أمير المؤمنين امام علی علیہ السلام ،،🛑 کیا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔۔ !!

🛑 أمير المؤمنين امام علی علیہ السلام ،، 🛑 کیا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔۔ !! 🟡  یہ سوال اھلسنت کا ھر فرد بڑے فخر یہ انداز میں شیعوں کے خلاف ایک بہت بڑے ھتھیار کے طور پر استعمال کرتا ھے ۔ ان کے اپنے خیال میں یہ ایک ایسا سوال ھے جو اھلسنت کے خلفاء ثلاثہ کی خلافت کو ثابت کر سکتا ھے ۔ اور انکی خلافت کو قانونی اور شرعی جواز مل سکتا ھے ۔ اور شیعوں کے خلفاء ثلاثہ کے خلاف موقف کو باطل ثابت کر نے کے لیئے ایک دندان شکن سوال ھے ۔ ان کے خیال کے مطابق جس کا جواب کوئی شیعہ عالم نہیں دے سکتا ۔ اسی لیئے سوال بنانے والوں نے بڑے سوچ سمجھ کر یہ سوال ارشاد بھٹی صاحب کے ہاتھوں تھما دیا تھا ۔ اور انہوں نے یہ سوال علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی صاحب کے سامنے رکھا ۔۔ 🔵 سوال یہ تھا کہ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام خلیفہ اول کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ اس عمل سے یہ ثابت ھوتا ھے ۔ کہ حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں خلفاء ثلاثہ عادل تھے ۔ بس وہ امامت اور خلافت کے اھل تھے ۔ لہذا شیعوں کا خلفاء ثلاثہ کو نہ ماننا باطل عقیدہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔ !! 🌒 اور اھلسنت اپنے اس مدعا کو بعضے شیعہ کتب روایات سے پ...

شیعہ نوجوان سے فدک کے موضوع پر ہونے والی گفتگو

*سنسنی خیز لیکن متین مکالمہ* *کہانی کا دوسرا رخ* *اسلامیہ کالج پشاور کے پروفیسر کی ایک شیعہ نوجوان سے فدک کے موضوع پر ہونے والی گفتگو* [ *نہایت شائستہ، استدلالی اور منطقی گفتگو، براہ کرم آخر تک مطالعہ کریں اور دوسروں کو بھی فاروڈ کیجیے* ]  👇👇👇👇 مجھے ابھی اسلامیہ کالج پشاور آئے کچھ ہی دن گزرے تھے.،پتہ چلا کہ ایک بڑے علمی گھرانے سےتعلق رکھنے والا اہل تشیع سٹوڈنٹ ہے اور اس کا  دعوی ہے کہ اس کے سوالات کا جواب کسی سنی مولوی کے پاس نہیں ہے۔ میں نے اس کو سبق سکھانے کی ٹھان لی،  اتفاق سے ایک خالی پیریڈ دیکھ کر اس کو میں نے اپنے روم میں  بلالیا ، اور بڑے اخلاق سے بٹھایا۔ تھوڑی دیر احوال پرسی  کے بعدگفتگو شروع ہوگئی   👳 میں نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: میں نے سنا ہے کہ تم یونیورسٹی طلباء کے اذہان میں صحابہ کرام و بالاخص ابوبکر صدیقؓ کےمتعلق شکوک و شبہات پیداکر رہے ہو، جب کہ وہ رسول خدا کے برحق خلیفہ تھے ، آج میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کا ابوبکرصدیق کےمتعلق کیا اعتراض ہے؟   پہلے تو سٹوڈنٹ کی حیثیت سے وہ کچھ  ہچکچا رہا تھا ، میں نے اس کو جب اط...

بنت ابو جہل کے عقد کا افسانہ اور امت مسلمہ کی کذب بیانی

🛑 بنت ابو جہل کے عقد کا  افسانہ اور امت مسلمہ کی کذب بیانی ،، 🛑 بندہ ثقیفائی ھو اور خائن نہ ھو ،،  🟡 ایسا ھرگز ھرگز ممکن ھی نہیں ھے ۔۔ 🔵 مولا علی علیہ السلام کا ،، 🟤 ابوجہل کی بیٹی سے  شادی والا افسانہ ۔۔ 🌒 اور اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل ناصبی و خارجی معترضین حضرات کو مکتب تشیع کیطرف سے مدلل و علمی جواب ،، ۔۔۔۔ ❤️‍🩹 اکثر دیکھنے کو ملتا ھے کہ ،، 💛 یہ اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل لوگ کبھی بھی شیعہ مصادر سے حوالہ نہیں دینگے ۔ دوسرا یہ لوگ  بغیر علمی تحقیق کے غیر معیاری گفتگو کرنے کے عادی ھوتے ھیں ۔ بلکہ خیانت سے کام لینا انکی فطرت میں شامل ھو چکا ھوتا ھے ۔۔ 🖤 ان جہلاء کو آج تک اصولی شیعہ منہج  کے مطابق استدلال قائم کرنے کا اسلوب تک معلوم نہیں ھوا ۔۔ 🤎 فرمائیں تو سہی کہ اگر آپ اھل حدیث کو حنفی اصولِ حدیث کے مطابق دلیل دینگے تو کیا اھل حدیث بندہ اسے قبول کرے گا ? قطعی نہیں !! جیسے حنفیوں کے نزدیک تابعین کی مرسل روایات بھی قابل حجت ھوتی ھیں ۔ لیکن اھل حدیث کے نزدیک ھر تابعی کی مرسل روایت حجت نہیں سوائے چند ایک ...

کیا مولاعلیؑ نے ابوبکر عمر پر فضیلت دینے پر حد جاری کی

✨کیا مولاعلیؑ نے ابوبکر عمر پر فضیلت دینے پر حد جاری کی✨ شیعہ مخالف ناصبی حضرات اپنے شیخین کی جھوٹی فضیلت ثابت کرنے کیلئے شیعہ اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی سے ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ مولا علی رض نے حضرت ابوبکر عمر سے ان کو افضل کہنے والوں کے لئے دروں کی سزا کا حکم دیتے تھے اصل عبارت درج کی جاتی ہے: 🚫انہوں نے حضرت علی ع کو کوفہ کے منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہےتھے اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درے لگاؤں گا جو کہ مفتری کی حد ہے۔ (رجال کشی - ص ٣٣٨ - سطر ٤ تا ٦ مطبوعہ کربلا)🚫 ناظرین ہمارے پاس جو نسخہ رجال کشی کا ہے موسستہ آل البیت علیھم السلام تحقیق سید مھدی رجائی والا ہے اس نسخہ کی جلد ٢ ص٦٩٥ پر مذکورہ عبارت ہے لیکن اس سے پہلے کہ ہم جواب دیں اصل روایت کے ابتدائی حصہ کو پیش کرتا ہوں : شیخ کشی نقل کرتے ہے: ▪بحذف سند۔۔ راوی میمون کہتے ہے کہ ایک گروہ امام صادق ع کے پاس آتا ہے جنکی عادت یہ تھی کہ وہ مختلف جگاہوں پر جاکر روایات کو لیا کرتے تھےاور میں امام صادق ع کے پاس تھا تو امام صادق ع نے کہا کیا تم اس گروہ کو جانتے ہو...

الموحدون یعنی دروز، ایک تعارف اور حالیہ جنگ

* *تحریر: سید اسد عباس* دروز خود کو "الموحدون" کے نام سے پکارتے ہیں، جس کا مطلب ہے "توحید پر عمل کرنے والے" یا "ایک خدا پر ایمان رکھنے والے۔" یہ نام ان کے بنیادی عقیدے کی عکاسی کرتا ہے، جو ایک ابدی، غیر مادی خدا پر یقین پر مبنی ہے۔ لفظ "دروز" محمد بن اسماعیل الدروزی کے نام سے ماخوذ ہے، جو اس فرقے کے ابتدائی داعیوں میں سے ایک تھے ۔ تاہم، دروز خود کو حمزہ بن علی بن احمد) جنھیں حمزہ بن زرونی بھی کہا جاتا ہے (اپنا حقیقی بانی اور سب سے معتبر رہنماء تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے اکثر مذہبی رسالے بھی انہی سے منسوب ہیں اور انھوں نے 804 ہجری میں ایک نیا سن (کیلنڈر) بھی جاری کیا تھا، جو ان کے مرکزی کردار کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ دروز مذہب کی ابتدا 10ویں اور 11ویں صدی عیسوی میں فاطمی سلطنت کے دارالحکومت قاہرہ، مصر میں اسماعیلی شیعہ اسلام سے ہوئی۔ یہ تعلق ان کے ابتدائی مذہبی ارتقاء کو سمجھنے کے لیے بنیادی ہے اور ان کے عقائد پر اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ ہندو اور یونانی فلسفے کا بھی اثر پایا جاتا ہے۔  باوجود اس کے کہ دروزیت اسلام سے نکلی ہے، اب اسے ایک الگ اور منفرد م...

تو تاریخ کہتی ہے کہ

تو تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر ابن خطاب اسلام لایا تواس کی عمر چالیس  40 برس تھی اور ترسٹھ  63 برس کی عمر میں عمر ابن خطاب کا قتل ہو گیا ۔ 2- تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ دعوتِ ذولعشیرہ یعنی اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علی کی عمر مبارک 9 برس تھی ۔ 3- تمام شیعہ سنی مورخین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ امام علی کا جناب ِ فاطمہ زہرا سے نکاح 25 برس کی عمر میں ہوا۔۔ یعنی دعوت ذولعشیرہ کے 16 برس بعد۔ 4- یعنی عمر بن خطاب ، دعوت ذولعشیرہ کے 7 سال بعد اسلام لیا ، یعنی جب اس نے کلمہ پڑھا تو اس وقت امام علی ؑ کی عمر مبارک 16 برس تھی ۔ 5- عمر کے اسلام لانے کے 9 برس بعد امام علی کا نکاح بحکم خدا جنابِ زہرا سے ہوا یعنی 25 سال کی عمر میں ۔یعنی جب امام علیؑ کی شادی ہوئی تب عمر ابن خطاب  49  برس کے تھا  ( 40+9=49 برس ) 6- تمام مورخین نے یہ بھی لکھا کہ امام علیؑ کی شادی کے ایک سال بعد امام حسن ؑ کی ولادت با سعادت ہوئی اور 2 برس بعد امام حسین ؑ دنیا میں تشریف لائے اور پھر 4برس بعد سیدہ زینب ؑکی ولادت باسعادت ہوئی ۔ ٹھیک! 7- اہل سنت مورخین کے مطابق جناب ِ ام کلثوم بنت امام علی ؑ ، جناب...

امام حسین علیہ السلام کے اہلِ خانہ کی کربلا کے سفر میں ہمراہی کے اسباب کیا تھے ؟

امام حسین علیہ السلام کے اہلِ خانہ کی کربلا کے سفر میں ہمراہی کے اسباب کیا تھے ؟ واقعہ عاشورا سے متعلق ایک بار بار دہرایا جانے والا سوال یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام اپنے اہلِ خانہ کو کربلا کیوں ساتھ لائے ؟ اگر امام حسین علیہ السلام کا مقصد یزید کے خلاف قیام کرنا تھا تو فقط اپنے لشکر کے ساتھ تشریف لاتے ، بقیہ خانوادے کو ساتھ لانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس تحریر میں ہم تاریخی شواہد اور عقلی دلائل کی روشنی میں چند بنیادی اسباب کا اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے، جن کی بنیاد پر امام حسینؑ نے اہلِ خانہ کو کربلا ساتھ لے جانے کا فیصلہ فرمایا۔   سب سے پہلے یہ واضح رہے کہ امام حسین ع یزید کے خلاف قیام کے ارادے سے ہی مدینہ سے نکلے ہیں  امام حسین علیہ السلام کے مقصد و فلسفہ قیام کو جاننے کے لئے سب سے بہترین اور سب سے مطمئن سند خود آپ کے یا دیگر ائمہ معصومینؑ کے ارشادات اور بیانات ہیں۔  آپ کے سارے خطبات، ارشادات، خطوط، وصیت نامے جو کہ آپ کے قیام کے اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں ہیں نیز ائمہ معصومینؑ کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کے لئے وارد زیارت ناموں میں بھی آپ کے قیام کے اغراض و مقا...