بنت ابو جہل کے عقد کا افسانہ اور امت مسلمہ کی کذب بیانی

🛑 بنت ابو جہل کے عقد کا  افسانہ اور امت مسلمہ کی کذب بیانی ،،
🛑 بندہ ثقیفائی ھو اور خائن نہ ھو ،، 
🟡 ایسا ھرگز ھرگز ممکن ھی نہیں ھے ۔۔

🔵 مولا علی علیہ السلام کا ،،
🟤 ابوجہل کی بیٹی سے  شادی والا افسانہ ۔۔
🌒 اور اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل ناصبی و خارجی معترضین حضرات کو مکتب تشیع کیطرف سے مدلل و علمی جواب ،، ۔۔۔۔

❤️‍🩹 اکثر دیکھنے کو ملتا ھے کہ ،،
💛 یہ اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل لوگ کبھی بھی شیعہ مصادر سے حوالہ نہیں دینگے ۔ دوسرا یہ لوگ  بغیر علمی تحقیق کے غیر معیاری گفتگو کرنے کے عادی ھوتے ھیں ۔ بلکہ خیانت سے کام لینا انکی فطرت میں شامل ھو چکا ھوتا ھے ۔۔

🖤 ان جہلاء کو آج تک اصولی شیعہ منہج  کے مطابق استدلال قائم کرنے کا اسلوب تک معلوم نہیں ھوا ۔۔

🤎 فرمائیں تو سہی کہ اگر آپ اھل حدیث کو حنفی اصولِ حدیث کے مطابق دلیل دینگے تو کیا اھل حدیث بندہ اسے قبول کرے گا ? قطعی نہیں !!

جیسے حنفیوں کے نزدیک تابعین کی مرسل روایات بھی قابل حجت ھوتی ھیں ۔ لیکن اھل حدیث کے نزدیک ھر تابعی کی مرسل روایت حجت نہیں سوائے چند ایک کے ۔۔

💚 ھمارا پہلا جواب :-
فرض محال اگر ھم اس روایت کو قبول کریں تو حکم نازل ھونے سے پہلے کوئی بھی مجرم قرار نہیں پاتا ۔ جیسے شراب کا حکم نازل ھونے سے پہلے شراب حرام نہ تھی ۔ اگر کوئی پیتا تو گنہگار نہ تھا اس پر تمام سنی و شیعہ علماء کا اتفاق ھے ۔
تو مولا علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کی خواھش کی تو یہ کوئی بھی غیر اسلامی کام نہ تھا ۔ اسلام ، دین اور شریعت میں چار شادیوں کی اجازت تھی ۔۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اس سے منع کر دیا ۔ کیونکہ سیدہ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ کی ناراضگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اللہ تعالٰی کی ناراضگی ھے ۔۔

ایک باریک نکتہ جو سامنے آیا خدا سیدہ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ کی خاطر اپنی شریعت بھی بدل دیتا ھے کیونکہ خدا کے ہاں سیدہ صلواۃ اللہ کا بہت بلند مقام ھے ۔۔
قصہ مختصر مولا علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اس نکاح کو سیدہ صلواۃ اللہ کی خوشی اور حکم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں ترک کر دیا اب ان پر کوئی شرعی حکم لاگو نہیں ھوا ۔

کیونکہ یہ فعل حکم نازل ھونے سے پہلے کا تھا اور آخری دن تک سیدہ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ مولا علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے راضی تھیں ۔ یہ بات شیعہ و سنی کتب سے ثابت ھے ۔۔ 

لیکن مسلمہ حقائق یہ ھیں کہ سیدہ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ کو غضبناک کرنے والے شیخین ھیں جو سنی و شیعہ منابع سے ثابت شدہ ھے سوچو جو خدا سیدہ صلواۃ اللہ کی خاطر اپنی شریعت بدل دیتا ھے وہ بھی ایک جائز کام کے لیئے وہ ان لوگوں کیساتھ کیا سلوک کرے گا ۔ جو سیدہ صلواۃ اللہ کا حق غصب کر کے بیٹھ گئے تھے ?

🖤 ھمارا دوسرا جواب :
یہ واقع شیعہ کتب سے کسی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ۔ اس میں دو مجہول الحال راوی موجود ھیں ۔ جنکی توثیق شیعہ رجال میں نہیں ملتی تو سندی لحاظ سے اس حدیث کو قبول ھی نہ کیا جائیگا ۔۔

کیا تم اھلسنت لوگ اپنی ان کتب کی تمام احادیث کو صحیح مانتے ھو جبکہ مصنفین نے اس پر صحیح حسن کا حکم لگا رکھا ھے یا پھر مصنفین کے نزدیک ان کتب کی تمام احادیث صحیح ھیں ۔۔

مستدرک الحاکم ۔
الاحادیث المختارہ ۔
صحیح ابن خزیمہ ۔
صحیح ابن حبان ۔ 
ترمذی کی تحکیم ۔

بلکہ تم اتنے خائن کو ذھبی جیسے یا کسی دوسرے محقق نے سخت قسم کی تحکیم بھی لگائی ھو تو  پھر بھی تم لوگ قبول نہیں کرتے ۔ اور خود ھمیں ھمارے اصولی منہج کے خلاف جاکر استدلال قائم کرتے ھو ۔ اور حکم تم کسی اخباری عالم کا دکھاتے ھو ??

چونکہ شیعہ عقیدہ کے مطابق سیدہ صلواۃ اللہ اور مولا علی علیہ السلام دونوں معصوم ھیں تو انکا آپس میں ناراض ھونا ھی محال ھے ۔ اور دوسرا نکاح اسلام میں جب جائز ھے تو ایک جائز کام پر کسی معصوم کا ناراض ھونا بنتا ھی نہیں ۔۔

 کیونکہ ناراضگی معصیت اور جہل کی وجہ سے ھوتی ھے تو خدا نے قرآن میں انکو ھر قسم کی برائی سے پاک رکھنے کی محکم سند نازل کر رکھی ھے ۔ 
تو  ھر لحاظ سے متن بھی مردود ھے ۔ 

💚 البتہ ایک  دوسری روایت میں ھے جس  میں مولا علی علیہ السلام شادی کی خواھش کرنا ھی ثابت نہیں بلکہ یہ جھوٹ شیخین سمیت دوسرے منافقین نے پھیلایا تھا ۔ جو بعد میں سیدہ صلواۃ اللہ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کر دیا ۔ کہ یہ بات ھی غلط ھے ۔ اور سیدہ صلواۃ اللہ کو بتایا یہ کسی نے جھوٹ پھیلایا تھا تو اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات گئے شیخین کو طلب کیا اور یہ حدیث سنائی کہ سیدہ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ کو جس نے ناراض کیا اس نے مجھے اور خدا کو ناراض گیا۔ تو یہ حجت شیخین پر ثابت ھو گئی ۔ اگر اب وہ سیدہ صلواۃ اللہ کو ناراض کرتے ھیں تو پھر انکا انجام خدا کے نزدیک جہنم سے کم نہ ھوگا ۔۔

تو بنو امیہ کے نمک خواروں نے اس واقع کو الٹ کر دیا لیکن اس کے باجود بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ھو سکے ۔ 

💙 اب ھم ان سے سوال کرتے ھیں ،،
سورہ حجرات کی یہ آیات شیخین کی مذمت میں نازل ھوئیں جیسا کہ بخاری نے بھی اسکو کتاب التفسیر میں نقل کیا ھے ۔ (حدیث ۴۸۴۵ - ۴۸۴۷)

‏Holy Quran 49:2
------------------
يَا أَيُّهَا الَّذِسید عمار حسینیا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ،،

اے ایمان والو ! 
تم اپنی آوازوں کو نبی (ص) کی آواز پر بلند نہ کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اونچی آواز میں کرتے ھو کہیں ایسا نہ ھو کہ تمہارے اعمال اکارت ھو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ھو ۔

اب بتاؤ اس آیت کے تحت جہاں تم مدلس والا چورن بھی نہیں بیچ سکتے تمہارے شیخین کے اعمال ضائع ھو گئے ۔۔

⛔️ شیعہ کتب میں روایت کی حقیقت ۔۔
⛔️ ایک افسانہ جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ھے ، اس افسانہ کو ثابت کرنے کے لیئے اھلبیت علیھم السلام کے بعض و عناد اور عداوت کے حامل ناصبی و خارجی افراد شیعہ کتب سے تمسک کرتے ھیں ۔ روایت بمہ ترجمہ و دعوت فکر ۔۔۔۔۔

حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَى عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی الْمِقْدَامِ وَ زِیَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالا أَتَى رَجُلٌ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع فَقَالَ لَهُ یَرْحَمُکَ اللَّهُ هَلْ تُشَیَّعُ الْجَنَازَةُ بِنَارٍ وَ یُمْشَى مَعَهَا بِمِجْمَرَةٍ أَوْ قِنْدِیلٍ أَوْ غَیْرِ ذَلِکَ مِمَّا یُضَاءُ بِهِ قَالَ فَتَغَیَّرَ لَوْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع مِنْ ذَلِکَ وَ اسْتَوَى جَالِساً ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ جَاءَ شَقِیٌّ مِنَ الْأَشْقِیَاءِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص فَقَالَ لَهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

ترجمہ۔  ۔۔۔۔👇🏻👇🏻
الصدوق ، ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین (المتوفى 381هـ) ، علل الشرائع جلد اول صفحہ 185 - 189 حدیث دوئم الناشر منشورات کتاب فروشى داورى‏ قم الطبعة الأولى 1385 هـ - 1966 م ۔۔

امام صادق علیه السّلام نے فرمایا : ایک نامراد اور بدبخت انسان بیبی فاطمہ علیہا السلام کے پاس آکر کہنے لگا ۔ کہ کیا آپ جانتی ھیں کہ على علیه السّلام نے ابو جهل کی بیٹی سے خواستگارى کی ھے ؟ فاطمه سلام اللہ علیہا نے کہا : کیا جو کچھ تم کہتے ھو وہ حقیقت ھے ؟ اس شخص نے تین دفعہ کہا کہ جو کچھ کہتا ھوں وہ حقیقت ھی حقیقت ھے ، حضرت فاطمہ صلواۃ اللہ علیہا کی غیرت حرکت میں آئی ، اور اپنے احساسات پر قابو نہ پا سکی ، یہ اس لیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورت پر غیرت اور مرد پر جھاد کو واجب کیا ھے اور وہ عورت جو صبر سے کام لے اس کا اجر اس مرد جتنا ھے جس نے نگھبانی کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ھجرت کی ھو ۔۔

کہا : کہ بیبی فاطمہ صلواۃ اللہ علیہا زیادہ غمگین ھوئی حتی کہ رات ھوئی بیبی فاطمہ (ص) نے حسن ، حسین علیہم السلام اور ام کلثوم (س) کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر گئیں ، جب مولا علی علیہ السلام گھر آئے تو فاطمہ زھرا صلواۃ اللہ علیہا کو گھر میں نہیں دیکھا اور اس ماجرہ کا ان کو کوئی علم نہیں تھا ، اور وہ بیبی (ص) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے بلانے پر شرماتے تھے ۔ لہذا وہ مسجد میں عبادت کرنے گئے ۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیبی کو دیکھا ۔ کہ ان کو نیند نہیں آ رھی ، تو کہا ، اے بیٹی اٹھو وہ اٹھیں اور حسن ، حسین علیہم السلام اور ام کلثوم (س) کو اپنے ساتھ لا کر مولا علی علیہ السلام کے پاس آئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی علیہ السلام کو جگایا اور کہا ، اے ابوتراب اٹھو اور ابوبکر و عمراور طلحہ کو بلاؤ ، مولا علی علیہ السلام نے سب کو بلایا وہ سب آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ اے علی (ع) کیا تم نہیں جانتے ۔ کہ فاطمہ (ص) میرے وجود کا حصہ ھے اور میں اس سے ھوں ؟ جس نے ان کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔۔

مولا علی علیہ السلام نے کہا !!کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، میں جانتا ھوں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ پھر کیوں تم نے یہ کام کیا ؟

مولا علی علیہ السلام نے کہا ، کہ قسم اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا ۔ میں نے یہ کام نہیں کیا ھے ، حتیٰ میں نے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں ھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ، کہ بالکل تم نے سچ کہا ، بیبی فاطمہ زھرا صلواۃ اللہ علیہا خوش ھوئیں اور مسکرائیں اس طرح کہ ان کے مبارک دانت نظر آئے ۔۔

⛔️ پس ان دوبندوں میں سے ایک نے دوسرے دوست کو کہا کہ عجیب بات ھے اس وقت ھم کو کیوں بلایا گیا ؟

⛔️ اولا : یہ روایت کی سند میں «احمد بن محمد بن یحیی» مجهول ھے ۔۔
(معجم رجال الحدیث آیة اللَّه خوئى جلد 3 صفحہ 122) ۔۔

⛔️ ثانیا : اس روایت کو پڑھنے سے یہ پتہ چلتا ھے ۔ کہ یہ بات کہ مولا علی علیہ السلام نے ابوجھل کی بیٹٰی سے شادی کا ارادہ کیا تھا ، بالکل جھوٹ ھے ۔ روایت کے اس حصے پر توجہ کریں ۔۔

⛔️ ایک نامراد اور بدبخت انسان نے بیبی فاطمہ صلواۃ اللہ علیہا کے پاس آکر کہنے لگا ۔ کہ کیا آپ جانتی ھیں کہ على علیه السّلام نے ابو جهل کی بیٹی سے خواستگاری ۔۔۔۔ مولا علی علیہ السلام نے کہا !! کہ قسم اس ذات کی جس نے اپکو مبعوث کیا ، میں نے یہ کام نہیں کیا ھے ، حتیٰ کہ میں نے اسکے بارے میں سوچا بھی نہیں ھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ، کہ بالکل تم نے سچ کہا ، بیبی فاطمہ صلواۃ اللہ علیہا خوش ھوئیں اور مسکرائیں ۔۔

⛔️ ثالثا:
 کیا ھو سکتا ھے ، کہ بیبی فاطمہ زھرا صلواۃ اللہ علیہا مولا علی علیہ السلام پر اس کامل اعتماد کے باوجود ایک بدبخت شخص کی بات پر یقین کرے ؟

❗️کیا ھو سکتا ھے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بغیر کسی تحقیق کے فیصلہ سنائیں اور طرف مقابل مولا علی علیہ السلام سے بات پوچھے بغیر قضاوت کریں ؟

❗️کیا ھو سکتا ھے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹی اور داماد کے درمیان صلح کرنے کے لیئے نا محرم ابوبکر ، عمر اور طلحہ کو بلائیں ؟ یعنی کیا ھو سکتا ھے کہ ایک فیملی کی معمولی سی بات پر باھر کے لوگوں کو بلایا جائے ؟

 ❤️‍🩹 اور شیعہ کتابیں اس سے خالی ھیں ۔ فقط یہی شیخ صدوق کی کتاب علل الشرایع ہی ھے ۔ جس میں یہ روایت ذکر ھے ، البتہ یہ ضعیف اور من گھڑت روایت کو علامہ مجلسی نے بھی ذکر کیا ھے جو کہ وہ بھی علل الشرایع سے ھی ماخوذ ھے ۔۔۔۔

💚 شیخ صدوق کا عمرو بن مقدام تک طریق ضیعف ھے ۔
(معجم رجال الحدیث جلد 14 صفحہ 82) ۔۔

💛 اس روایت کی سند میں موجود راوی زیاد بن عبداللہ کا شیعہ علم رجال میں کوئی نام نہیں ھے ۔ مرحوم سید مرتضی نے اس روایت کو باطل اور جعلی کہا ھے اور اس روایت کو ذکر کر کے اس کو تفصیل کے ساتھ رد کیا ھے ۔۔
(تنزیهالأنبیاء صفحہ 218 )
مرحوم بحر العلوم نے بھی اس واقعے کو جھوٹا اور من گھڑت کہا ھے ۔ (مقدمه الفوائد الرجالیه جلد اؤل صفحہ 88) ۔۔

🛑 التماس دعا :
🛑 سید فاخر حسین رضوی ۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں