أمير المؤمنين امام علی علیہ السلام ،،🛑 کیا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔۔ !!

🛑 أمير المؤمنين امام علی علیہ السلام ،،
🛑 کیا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔۔ !!
🟡  یہ سوال اھلسنت کا ھر فرد بڑے فخر یہ انداز میں شیعوں کے خلاف ایک بہت بڑے ھتھیار کے طور پر استعمال کرتا ھے ۔ ان کے اپنے خیال میں یہ ایک ایسا سوال ھے جو اھلسنت کے خلفاء ثلاثہ کی خلافت کو ثابت کر سکتا ھے ۔ اور انکی خلافت کو قانونی اور شرعی جواز مل سکتا ھے ۔ اور شیعوں کے خلفاء ثلاثہ کے خلاف موقف کو باطل ثابت کر نے کے لیئے ایک دندان شکن سوال ھے ۔ ان کے خیال کے مطابق جس کا جواب کوئی شیعہ عالم نہیں دے سکتا ۔ اسی لیئے سوال بنانے والوں نے بڑے سوچ سمجھ کر یہ سوال ارشاد بھٹی صاحب کے ہاتھوں تھما دیا تھا ۔ اور انہوں نے یہ سوال علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی صاحب کے سامنے رکھا ۔۔

🔵 سوال یہ تھا کہ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام خلیفہ اول کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ اس عمل سے یہ ثابت ھوتا ھے ۔ کہ حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں خلفاء ثلاثہ عادل تھے ۔ بس وہ امامت اور خلافت کے اھل تھے ۔ لہذا شیعوں کا خلفاء ثلاثہ کو نہ ماننا باطل عقیدہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔ !!

🌒 اور اھلسنت اپنے اس مدعا کو بعضے شیعہ کتب روایات سے پیش کرتے ھوئے کہتے ھیں کہ جناب  امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے پہلے خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی ۔ پھر اس بات کو دلیل بنا کر کہتے ھیں ۔ کہ "کسی کے پیچھے نماز پڑھنا اس کی عدالت اور حقانیت کی دلیل ھے"۔۔ لہٰذا اگر امام علی علیہ السلام نے خلفاء کے پیچھے نماز پڑھی ھے تو اس کا مطلب ھے کہ آپؑ خلفاء کے عادل اور حق پر ھونے کے قائل تھے ۔ اسی بنا پر وہ کہتے ھیں کہ خلفاء کی خلافت جائز تھی اور شیعوں کا ان کے خلاف اعتراض بے بنیاد ھے ۔۔

🛑 جواب :
🛑 اس کا جواب ھم دو پہلوؤں سے دیں گے ۔ 

❤️‍🩹 1- روایات کی سند ،،
❤️‍🩹 2- اور مفہوم پر اعتراض ،،
 
اولاً ، جو روایات امام علیؑ علیہ السلام کے خلفاء کے پیچھے نماز پڑھنے کی بات کرتی ھیں ، وہ یا تو ضعیف السند ھیں یا ان کا مفہوم متنازعہ ھے ۔ بعضے روایات میں صرف یہ بیان ھوا ھے کہ امامؑ نے اجتماعی نماز میں شرکت کی ، لیکن یہ واضح نہیں کہ آپؑ نے کسی خاص خلیفہ کے پیچھے اقتداء کی تھی ۔ شیعہ عقیدے کے مطابق امامؑ کی شرکت کا مقصد امت کے اتحاد کو برقرار رکھنا ، یا نماز کی فضیلت حاصل کرنا تھا ، نہ کہ خلفاء کی خلافت کو تسلیم کرنا ۔ اور کچھ روایات میں تو مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی نماز ثابت ھونے کی بجائے چند مخصوص افراد کا قتل علی علیہ السلام کا منصوبہ ثابت ھوتا ھے ۔ جو چار یاری لوگ اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت میں بیان کرتے ھوئے نہایت مکاری و عیاری اور دجلہ و فریب کاری کے ساتھ یہ اقتباس شیر مادر سمجھ کر پی جاتے ھیں ۔۔

 2- اقتداء کا مطلب خلافت کی توثیق نہیں  
ثانیاً ، اگر فرض کریں بھی کہ امام علیؑ علیہ السلام نے کسی خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھی ، تو یہ عمل ھرگز خلیفہ کی حقانیت یا خلافت کی توثیق نہیں سمجھا جا سکتا۔ نماز میں کسی کے پیچھے کھڑے ھونے کا مطلب یہ نہیں ھے کہ وہ شخص نماز اور سیاست دونوں کی امامتِ کے اھل تھے ۔ اگر آپ کسی کافر فاسق کے پیچھے کھڑے ھو تو اس کا مطلب یہ تھوڑی ھے کہ وہ آپ کا امام اور خلیفہ اور واجب الا طاعہ ھو ۔ جبکہ سنی مکتب میں تو ھر فاسق و بد کردار ، غلام اور حرامزادے کے پیچھے نماز کی ادائیگی درست تصور ھوتی ھے ۔۔
  
🟤 شیعہ کتب سے پیش کردہ روایات ،،
1. روایت اول : روایت احتجاج طبرسی ۔۔
2. روایت دوئم : روایت وسائل الشیعہ ..
3. روایت سوئم : روایت قرب الاسناد ..

حقیقت تک پہنچنے کے لیئے ان تمام روایات کا جائزہ لینا ضروری ھے ۔ سب سے پہلے روایت احتجاج طبرسی کو دیکھتے ھیں ۔۔

💚 روى الطبرسي في الاحتجاج : 
اصل میں یہ روایت تفسیر قمی میں شیخ علی ابن ابراہیم قمی نے نقل کی ہے۔ حوالہ کے لیئے تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 155 ؛ 159 ملاحظہ ھو ۔ یہی روایت علامہ مجلسی نے اپنی کتاب حق الیقین میں بھی درج کی ھے ۔ روایت کا فی بڑی ھے ، اس لیئے ھم فقط چیدہ نکات نقل کریں گے ۔ اسکے بعد جہاں سے دلیل دی جا رھی ھے ، اس پر بحث کریں گے ۔ حاکم وقت نے نے سیدہ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ علیہا کے نمائندوں کو فدک کی زمین سے بے دخل کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ علیہا نے حاکم وقت کے اس فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔۔۔۔ اور اپنی جاگیر لینے دربار گئیں .... خلیفہ صاحب نے گواھوں کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔ سیدہ کائنات سلام الله علیہا نے جناب ام ایمن (جنت کی عورت) اور امیرکائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو بطور گواہ پیش کیا ۔۔۔ ابتدائی مرحلے میں خلیفہ نے سیدہ کے گواھوں کی گواھی قبول کرتے ھوئے جاگیر فدک بیبی دو عالم کے نام لکھ کر دے دی ۔۔ راستے میں ثانی ملا ۔ اس نے خط چھین کر پھاڑ دیا ۔۔۔ جس کی وجہ سیدہ عالم صلواۃ اللہ علیہا غضبناک
ھوئیں ۔۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے شیخین و انصار ، اور مہاجرین کے اس رویہ پر شدید احتجاج کیا اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ۔۔ اب کی بار اب کی بار حاکم وقت کا جواب تھا کہ باغ فدک مال غنیمت ھے اور مسلمانوں کی ملکیت ھے ۔۔

💛 امیرالمومنین علیہ السلام نے دربار میں ایسے قاطع دلائل سے ثابت کر دیا کہ باغ فدک زھرا مرضیہ (ص) کی ملکیت ھے ۔ اور گواہ تو حاکم وقت کو لانا چاھیئے ، نہ کہ سیدہ کونین صلواۃ اللہ علیہا کو ۔ کیونکہ مدعی خلیفہ صاحب ھیں ۔ مولائے کائنات علیہ السلام نے بھرے دربار میں ایسے قاطع اور دندان شکن دلائل سے سیدہ عالم صلواۃ اللہ علیہا کا موقف ثابت کیا ۔ کہ دربار میں بیٹھے افراد داد دیئے بغیر بیٹھ نہ سکے ۔ یہاں پر خلیفہ صاحب نے اپنے مشیر خاص اور دیرینہ یار ثانی سے مشورہ کیا اگر علی روزانہ اسی طرح دربار میں آ کر دلائل دیتے رھے تو شیخین کی دال نہیں گل پائے گی ۔۔۔ یہاں پر خلیفہ ثانی صاحب نے امیرالمومنین علیہ السلام کو قتل کرنے کا مشورہ دیا ۔ اور اس کام کو انجام دینے کے لیئے خالد بن ولید کا انتخاب کیا ۔

💙 حاکم وقت نے کہا !! 
اے خالد علی علیہ السلام کے بازو میں بیٹھو اور نماز ختم ھونے سے پہلے انکی گردن مار دو ۔ اسماء بنت  عمیس نے یہ بات سن لی اور امیرالمومنین کو بتا دیا ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا اللہ تعالٰی انہیں اپنے اس ناپاک مقصد میں کامیاب ھونے نہیں دے گا ۔۔

اب آگے کی روایت تفصیل کے ساتھ دیکھو ۔ 

وحضرالمسجد ووقف خلف أبي بكر. وصلي لنفسه وخالدابن وليد إلي جنبه ومعه السيف فلما جلس أبوبكر في التشهد ندم علي ما قال وخاف الفتنته وشدته علي وباسم فلم يزل متنكرا ۔۔
حضرت علی علیہ السلام مسجد میں داخل ھوئے اور ابوبکر کے پیچھے ھوگئے اور اپنی فرادا نماز پڑھنے لگے (وصلي لنفسه) جب کہ خالد بن ولید آپ کے بازو میں بیٹھا ھوا تھا ، اور اس کے پاس تلوار بھی تھی ۔ بس جب ابوبکر تشہد میں گیئے تو اپنے کیئے پر بڑا نادم اور شرمسار ھوا اور اسکے رد عمل میں جو فتنہ وقوع پذیر ھونا تھا ۔ اس سے گھبرانے لگے ۔ اس فکر میں وہ اتنے ڈوبے رھے کہ سلام ھی نہیں پڑھا پا رھے تھے ، یہاں تک کہ لوگ گمان کرنے لگے کہ خلیفہ صاحب کو کچھ ھو چکا ۔ بالاخر ابوبکر خالد کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے خالد جو میں نے تمہیں حکم دیا تھا اسے مت کرنا ۔ اور یہ جملہ تین بار دھرایا اور پھر سلام پھیرا ۔ اسکے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام نے خالد بن ولید سے دریافت کیا تمہیں کیا حکم دیا گیا تھا ۔ خالد نے کہا آپ کی گردن اڑھانے کا ، قتل  کرنے کا ۔ حضرت نے دریافت کیا اور کیا تم یہ کام کرتے ۔ خالد نے جواب میں کہا ۔ اللہ کی قسم اگر سلام پھرنے سے پہلے منع نہ کیا ھوتا یہ کام ضرور کرتا ۔ یہاں شیر خدا طیش میں آ گئے ۔ خالد کو اپنے ایک ہاتھ سے اٹھایا اور زمین پر پٹخ دیا ۔ یہ منظر دیکھ کر ثانی نے شور مچا نا شروع کر دیا اور کہا رب کعبہ کی قسم آج علی خالد کو قتل کر دیں گے ۔ اور یہ دیکھ لوگ علی علیہ السلام کی طرف بڑھے اور خدا اور قبر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے دے کر خالد کی جا بخشی کرائی ۔ آپنے خالد کو چھوڑ دیا اور عمر کو گلے سے دبا کر فرمایا ۔ اے ابن صھاک اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت اور کتاب خدا نہ ھوتی تو تجھے معلوم ھو جاتا ۔ ھم میں سے کون کمزور اور بے یارو و مددگار ھے ۔۔
 
🤎 اب قارئین کرام خود فیصلہ کریں ،،
کہ اھلسنت کا یہ حوالہ دینا کہ امیرالمومنین علیہ السلام اور خلیفہ صاحب کے درمیان باھمی محبت اور پیار کا رشتہ تھا اور شیر اور شکر کی طرح رھتے تھے ۔ اور کہاں یہ روایت اور اس جیسی سینکڑوں روایتیں جو شیخین کی اصلیت کا پول کھول کر رکھ دیتی ھیں ۔ یہ حضرات اپنے مخالفین کو راستے سے ھٹانے کے لیئے کس قسم کے اوچھے ھتھکنڈوں کو بروئے کار لاتے ۔ قارئین محترم ہمارے مخالفین یہ ثابت کریں اس روایت سے کہ مولائے کائنات نے کسی کو امام سمجھ کر اسکے پیچھے نماز پڑھی ھے ۔ یا مولائے کائنات علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ ثابت ھو رھا ھے ۔ نیز ھم نے روایت میں سے یہ بھی دکھا دیا کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے کسی کی اقتداء میں نہیں ، بلکہ فرادا نماز پڑھی ھے ۔۔

جبکہ صحیح بخاری شریف کے دوباب خلف کے نام سے ھیں ۔ باب الصلاته خلف النايم . یعنی سوئے ھوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا ۔ اور باب التطوع خلف المرائته ۔ یعنی نفل نماز عورتوں کے پیچھے پڑھنا : صحیح بخاری شریف صفحہ ۱۳۴ - کتاب الصلوۃ باب ۱۰۳ , ۱۰۴ ۔۔ اب کیا کہیں گے اھلسنت !! کیا اب بھی کہیں گے کہ یہاں پر خلف سے مراد اقتداء میں نماز پڑھنے کے ھے ، یعنی سوئے ھوئے بندوں اور عورتوں کی اقتداء میں نماز پڑھنا ۔۔

اگر بالفرض صرف فرض کریں ۔ کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے خلیفہ صاحب کے پیچھے نماز پڑھی بھی ھے تب بھی یہ کسی کی افضلیت کی دلیل نہیں ھے ، کیونکہ اھلسنت کے مطابق ھر فاجر کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ھے ۔۔

ابن تیمیہ کہتا ھے کہ صحابہ ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جن کے بارےمیں وہ جانتے تھے کہ فاجر ھیں ۔۔

الاحتجاج : 1/126 ,  وعنه في بحار الأنوار 27 حدیث 27/ مدينة العاجز 3/152 ۔۔
طبرسی نے اپنی کتاب "احتجاج" میں نقل کیا ھے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام مسجد میں حاضر ھوئے اور خلیفہ اول کے پیچھے نماز پڑھی [۱]۔  

🖤 اس روایت کا تجزیہ :
سند کے لحاظ سے یہ روایت مرسل (سند کے بغیر) ھے ، کیونکہ طبرسی نے اسے براہ راست حماد بن عثمان سے نقل کیا ھے جو امام صادق علیہ السلام کے راوی ھیں ۔ لیکن حماد بن عثمان (متوفی 190 ھجری) اور طبرسی (متوفی 548 ھجری) کے درمیان زمانی فاصلہ ھے ۔ جس سے سند میں ٹوٹ پڑتی ھے ۔۔

2. مصدر کا اشکال ،،
طبرسی کا یہ بیان دراصل تفسیر قمی سے لیا گیا ھے ، جس میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ھے کہ امام علی علیہ السلام مسجد میں آتے تھے اور ابوبکر کے پیچھے کھڑے ھوتے تھے ، لیکن نماز فرادی (اکیلا) پڑھتے تھے ۔۔

تفسیر قمی میں روایت جو  نقل ھوئی ھے ۔ اوپر بیان کیا گیا ۔ حضرالمسجد و وقف خلف ابی بکر وصلی لنفسه (لنفسه) : امیرالمومنین مسجد میں حاضر ھوتے تھے ؛ لیکن اپنی نماز (فرادا) پڑھتے تھے ۔ اس روایت کی سند درست ہمھے ، لیکن اس کا مفہوم بالکل مختلف ھے ۔ یہ ثابت نہیں ھوتا کہ امامؑ نے ابو بکر کی اقتداء میں نماز پڑھی ، بلکہ وہ ان کے پیچھے کھڑے ھو کر اپنی الگ نماز ادا کرتے تھے ۔۔  

تیسرا نقطہ : 
اس روایت میں خود یہ بات موجود ھے ۔ کہ خلیفہ صاحب نے ثانی کے مشورے پر خالد بن ولید کو حکم دیا تھا ۔ کہ نماز کے سلام کے وقت علیؑ علیہ السلام کو تلوار سے قتل کر دے ۔ لیکن نماز پڑھاتے ھوئے خلیفہ صاحب کو پچھتاوا ھوا اور اس نے سلام پھیرنے سے پہلے ھی خالد سے کہا :
يا خالد ما تفعل ما امرتك ،، اے خالد ! جو میں نے تمہیں حکم دیا تھا ، اسے مت کرنا ۔۔۔۔

اھلسنت بھی اس روایت کے مفہوم کو قبول نہیں کر سکتے ، کیونکہ اگر وہ امام علیؑ علیہ السلام کا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھنا ثابت کرنا چاھتے ھیں ، تو انہیں خلفاء کے دھشت گردانہ اقدامات اور روایت کے ما حصل کو بھی درست ماننا پڑے گا ۔ کیونکہ کسی روایت کے ایک حصے کو ماننا اور دوسرے حصے کو رد کرنا بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنے والی بات ھوگی اور اسلام تبعیض بردار نہیں ھے ۔ کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام كا وہ حصہ جو مجھے پسند ھے قبول ھے ۔ اور جو پسند نہ آئے اسے رد کر دے ایسا نہیں ھو سکتا ۔ (نؤمن بعض ونكفر ببعض) ..

(سورہ نساء: ۱۵۰) کے زمرے میں آتا ھے ۔
اس طرح اھلسنت اپنے اصولوں کے مطابق خود ھی اس تضاد میں پھنس جائیں گے ۔  

ایک دلچسپ بات : 
سمعانی (اھلسنت کے بڑے علماء میں سے) ھیں نے اپنی کتاب انساب الاشراف میں "باب زندگی نامہ رواجنی" (امام بخاری کے استاد) کے تحت یہی واقعہ نقل کیا ھے ۔ وہ لکھتے ھیں کہ میں نے
عمر بن ابراہیم حسینی کوفی سے اس واقعے کی تفصیل پوچھی تو انہوں نے جواب دیا : "ابوبکر نے خالد بن ولید کو امام علی علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا ، لیکن بعد میں پشیمان ھو کر خالد کو اس کام سے روک دیا ۔ 

حديث أبي بكر رضي الله عنه : أنه قال : لا يفعل خالداماامربه . سألت الشريف عمران ابن إبراهيم الحسيني بالكوفة عن معنى هذا الأثرفقال : كان أمرخالدابن الوليد أن يقتل عليا ، ثم ندم بعد ذالك ، فنهي عن ذالك ۔۔

🛑 روایت دوئم : (روایت وسائل الشیعہ)
وفي نوادر أحمد بن عيسى الأشعري عن عثمان بن عيسى ، عن سماعة ، قال : سألته عليه السلام عن مناكحتهم والصلاة معهم ۔۔
فقال : هذاامرتمديدان يستطيعوت ذالك ۔ قدانكح رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، وصلي علي عليه السلام وراءهم ۔۔ شیخ حر عاملی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں تقیہ کی حالت میں ایسے شخص کے پیچھے نماز جماعت میں شمولیت جو قابلِ اقتداء نہ ھو کے استحباب
اور ان کے ساتھ پہلی صف میں کھڑے ھونے کے باب میں یہ روایت نقل کی ھے :  
سماعہ بیان کرتے ھیں ۔ کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے اھلسنت (مخالفین) سے شادی کرنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا ۔ آپؑ نے فرمایا : یہ ایک اھم معاملہ ھے جس سے گریز نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ پیغمبر اکرمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان سے شادی کی اور امیرالمؤمنین علیہ السلام نے بھی ان کے پیچھے نماز پڑھی ۔۔

تشریح :
اس روایت سے واضح ھوتا ھے کہ تقیہ (خطرے کی صورت میں ظاھری موافقت) کے دوران ، اگر جان ، مال یا عزت کو خطرہ لاحق ھو ، تو ایسے شخص کے پیچھے نماز جماعت میں شمولیت مستحب ھے ، چاھے اس کی اقتداء کرنا شرعاً جائز نہ ھو ۔ اسی طرح ، علامہ مجلسی رحمتہ اللہ علیہ نے  بحار الانوار میں مشرکین ، کفار ، مخالفین اور ناصبیوں سے شادی کے باب میں اس کی تائید کی ھے ۔  

نتیجہ :  
یہ روایت اھلسنت کے موقف کی تائید نہیں کرتی ، کیونکہ تقیہ کی بنیاد مجبوری یا جبر  پر حمل ھوتی ھے ۔ اگر کوئی مجبور ھو تو وہ اپنی بیٹی کو کافر یا مشرک سے بھی بیاہ سکتا ھے ، چہ جائیکہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھے جو ظاھراً خود کو مسلمان کہتا ھو اور نماز پڑھتا ھو ۔  

🟡 روایت سوم : (روایت قرب الاسناد)
روي الحميري عن جعفر ، عن أبيه : كان الحسن والحسين عليهما السلام يقرأ خلف الإمام : حمیری نے اپنی کتاب قرب الاسناد میں ایک روایت نقل کی ھے جس میں آیا ھے کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام اپنی نماز امام کے پیچھے پڑھتے تھے  اسی طرح کی روایت دوسری سند کے ساتھ وسائل الشیعہ میں بھی موجود ھے ۔۔

عبداللہ بن جعفر في ( قرب الاسناد) عن الحسن بن ظريف ، عن الحسين بن علوان ، عن جعفر ، عن أبيه قال : كان الحسن و الحسين عليهما السلام يقرأن خلف الإمام ۔۔
تشریح :
لیکن علامہ مجلسی رحمت اللہ علیہ نے اس روایت میں امام کی وضاحت کرتے ھوئے فرمایا ھے کہ :  
اس روایت میں 'امام' سے مراد وہ جابر حکمران ھیں ۔ جو امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام کے زمانے میں اقتدار میں تھے ۔ ہاں ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام ان کے پیچھے کھڑے ھوتے تھے ، لیکن ان کی اقتداء نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ الگ نماز پڑھتے تھے ۔۔

تفصیل -
عام حالات میں مخالفین کی جماعت میں شمولیت جائز ھے ، جیسا کہ بہت سے علماء اس کے قائل ھیں اور روایات بھی اس کی تائید کرتی ھیں۔ ۔
تقیہ کی حالت میں اگر خطرہ ھو تو جماعت میں شمولیت واجب ھے ۔ البتہ اگر ممکن ھو تو پہلے گھر میں نماز پڑھ لے ، پھر جماعت میں شامل ھو ۔ اگر ممکن نہ ھو تو جماعت میں شامل ھو ، لیکن الگ نماز پڑھے اور قراءت (سورہ فاتحہ اور دوسری سورتیں) ترک نہ کرے ۔۔ 

🔵 حتمی نتیجہ :
یہ تمام روایات خلفاء کی حقانیت یا خلافت یا کسی فضیلت کی تائید نہیں کرتیں ، بلکہ تقیہ یا امت کے اجتماعی مصلحت کے تحت عملی اقدامات کو ظاھر کرتی ھیں ۔ شیعہ عقیدے کے مطابق ، امامت کا حق صرف اھلبیتؑ علیہم السلام کو حاصل ھے ، اور یہ روایات اس اصول کے منافی نہیں ھیں ۔ جبکہ روایات کے متن سے ظلم ، جبر اور قتل کے منصوبہ جات بھی ثابت و واضح ھوں ۔۔۔۔۔۔۔

التماس دعا ۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں