8 سالہ شیعہ بچّی کا غیر شیعہ پرنسپل سے ایک انوکھا سوال:::
8سالہ شیعہ بچّی کا غیر شیعہ پرنسپل سے ایک انوکھا سوال:::
جس کا جواب اسے اپنے مذھب کے
بڑے بڑے علماء اکرام سے بھی نہ مل سکا!!
میری کلاس میں 24 بچے ہیں ہمارے استاد جب کلاس کے باھر جاتے ہیں تو مجھ سے کہتے ہیں کہ خانم محمدی تم کلاس کی دیکھ بھال اور نظارت کرو، کہیں کلاس کا نظم درھم برھم نہ ہوجائے۔ پھر بچوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:
بچوں ! تم خانم محمدی کی باتوں کو دھیان سے سننا اور ان پر عمل کرنا۔
آٹھ سالہ بچّی کہتی ہے:
تم لوگ کہتے ہو کہ پیمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے چلے گئے لیکن کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا۔ کیا پیمبر اکرم (ص)کے پاس ہمارے معلم اور استادکے برابر بھی علم نہیں تھا کہ اپنے بعد ایک جانشین کا انتخاب کریں تاکہ اسلامی معاشرے کا نظام درھم برھم نہ ہونے پائے
-یہ سن کر اس پرنسپل نے کہا:جاؤ کل اپنے ولی کو ساتھ لیکر آنا مجھے ان سے کچھ کام ہے۔
وہ بچی دوسرے دن اپنے دوست کو ساتھ لے گئی۔
پرنسپل نے کہا : اے لڑکی تمہارا ولی کہاں ھے ؟کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ کل اپنے ولی کو ہمراہ لانا
بچّی نے اپنے دوست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:یہی تو میرا ولی ہے
پرنسپل یہ سن کر غصے میں بولا : میری مراد تمہارا سرپرست تمہارا باپ تھا اور تم اپنے دوست کو لے آئیں.
بچی نے کہا : یہ کیا بات ہوئی ؟
یہاں ولی سے مراد سرپرست لیتے ہو لیکن جب پیمبر ص فرماتے ہیں کہ یہ علی تم مسلمانوں کے ولی ہیں تو کہتے ہو کہ یہاں ولی بمعنی دوست ہے؟!
#تو_پرنسپل_کیساتھ_کوئی_جواب_ہوگاکیا؟؟؟جس سے وہ بچی کوجواب دیدیں؟؟؟؟😈😈😈
Comments
Post a Comment