کیا نبوت بند ہو گئی ہے؟
کیا نبوت بند ہو گئی ہے؟
اللہ تعالی فرماتا ہے کہ
هُوَ الَّذِىۡ بَعَثَ فِىۡ الۡاُمِّيّٖنَ رَسُوۡلاً مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ﴿۲﴾ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴿۳﴾ وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں ان ہی میں سے (محمدﷺ) کو پیغمبر (بنا کر) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے ﴿۲﴾ اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (ان کو بھیجا ہے) جو ابھی ان نہیں ملے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے ﴿۳﴾
اوپر لکھی گئی آیات
سورہ جمعہ کی ہیں، آیت نمبر دو اور آیت نمبر تین۔ اللہ تعالی اس آیت میں نبی اکرم ص کی بعثت ثانی کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے اس رسولؐ کو ایسے لوگوں کی طرف بھی بھیجا ہے جو ابھی تم سے نہیں ملے۔
بخاری
کتاب التفسیر سورہ الجمعہ میں انہی آیات کی نبی اکرم ص کی بیان کردہ تفسیر موجود ہے، فرماتے ہیں کہ آخری زمانے میں اللہ تعالی فارسی النسل میں سے کسی ایک شخص کو یا مختلف اشخاص کو اسلام کی سر بلندی کے لیے بھیجے گا اور اس کا آنا میرا آنا ہے۔ اب یقینًا آپ یہ سوال تو نہیں کریں گے کہ کیا حضرت محمدؐ اللہ کے رسولؐ تھے؟ جو یہ بھی رسول ٹھہرا۔
دوسری آیت
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ اِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِىۡۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾ اے بنی آدم! جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ﴿۳۵﴾
یہ آیت
سورہ الاعراف کی ہے، آیت نمبر پینتیس۔ یہ آیت یقینًا نبی اکرم ص پر نازل ہوئی اور اللہ تعالی نبی اکرم ص کے زریعہ تمام بنی آدم کو یہ حکم دے رہا ہے کہ تمہاری طرف میرے رسول آئیں گے اور تم پر میری آیات تلاوت کریں گے، پس تم ایمان لے آنا۔
پس ثابت ہوا کہ
اللہ تعالی تو رسولوں کے آنے کا ذکر فرماتا ہے اور بدبخت ضد کرتے ہیں اور انکار کرتے ہیں کہ اللہ آئندہ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔
نوٹ
*بہت سے غیر احمدی دوستوں کی فرمائش پر یہ پوسٹ کی گئی ہے، صحت مند بحث کے لیے دعوت عام ہے، اپنے دوست احباب کو مینشن کر لیں*
اس کا جواب خود قرآن میں رسول کا نام لے کے دیا گیا ہے یہاں مختلف علما کا آیت کا ترجمہ
سورہ احزاب /33
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
Urdu - علامہ جوادی
-------------------
محمد تمہارے مُردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں لیکن و ہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیائ علیھ السّلام کے خاتم ہیں اوراللہ ہر شے کا خوب جاننے والا ہے
Urdu - محمد حسین نجفی
-------------------
محمد (صلی اللہ علیہ و آلہٰ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں البتہ وہ اللہ کے رسول(ص) اور خاتم النبیین(ص) (سلسلۂ انبیاء کے ختم کرنے والے اور مہرِ اختتام) ہیں اور خدا ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
Urdu - طاہر القادری
-------------------
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے،
Urdu - احمد علی
-------------------
محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں لیکن وہ الله کے رسول اور سب نبیوں کے خاتمے پر ہیں اور الله ہر بات جانتا ہے
Urdu - ابوالاعلی مودودی
-------------------
(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے
Persian - مکارم شیرازی
-------------------
محمّد (ص) پدر هیچ یک از مردان شما نبوده و نیست؛ ولی رسول خدا و ختمکننده و آخرین پیامبران است؛ و خداوند به همه چیز آگاه است!
English - Pickthall
-------------------
Muhammad is not the father of any man among you, but he is the messenger of Allah and the Seal of the Prophets; and Allah is ever Aware of all things.
قادیانی خاتم" کا معنی "مہر" کرکے کم علم مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں- حالانکہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ "وہ خاتم الخلفاء ہے"(مرزاغلام قادیانی کی کتاب چشمہ معرفت, خصوصیت اسلام روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 331)
اور اسی کتاب (چشمہ معرفت) کے صفحہ 333 کے حاشیہ پر لکھا ہے"خاتم الخلیفہ یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے"- مرزاقادیانی نے مذکورہ بالا حوالہ میں "خاتم الخلفاء" کا ترجمہ "آخری خلیفہ" کیا ہے- ایسا ہی "خاتم النبیین" سے مراد ایسا نبی ہوتا ہے جو سب سے آخر میں آئے اور وہ آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں- مرزا قادیانی خود بھی یہی لکھتا ہے "ہمارے رسول کے بعد دوسرا نبی کیسے آسکتا ہے؟ آپ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے--- "یہ کیسے ہوسکتا کہ میں نبوت کا دعوٰی کروں اور اسلام خارج ہوکر کافر ہوجاووں")(حوالہ کیلئے دیکھئیے مرزاغلام قادیانی کی کتاب حمامة البشرٰی صفحہ 131, 34 روحانی خزائن جلد7صفحہ 200, 297)- اس تحریر کے اصل الفاظ یہ ہیں:"وماکان لی اناادعی النبوة واخرج من الاسلام والحق لقوم الکافرین"-
اسکے بعد وہ خود ہی نبوت کا دعوٰی کرکے کافر ہوجاتا ہے
اپنی ایک اورتحریر آسمانی فیصلہ میں جو کہ جنوری 1892ء کی ہے اس میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
"میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں"(آسمانی فیصلہ صفحہ 3 روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 313)
مرزا قادیانی کو دماغی دورے پڑتے تھے (حوالہ کیلئے دیکھئے مرزاغلام قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمدایم-اے کی اپنے باپ پر لکھی کتاب سیرت المہدی روایت نمبر 447صفحہ 413) مرزاغلام قادیانی کو پتہ نہیں کتنا شدید دماغی دورہ پڑا کہ اس نے اپنی پچھلی ساری باتیں بھول کر خود ہی نبوت کے کافرانہ دعوٰے کرتارہا "خداوہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دینِ حق اور تہذیبِ اخلاق کے ساتھ بھیجا(وحیوں کی کتاب تذکرہ صفحہ321)- اسطرح وہ اپنے الفاظ کے مطابق خود ہی کافر ہوگیا ہے- لیکن مسلمانوں کو تواس بات کا شدید دکھ ہے کہ اس اپنے الفاظ کے مطابق کافر بن جانے والے مرزاغلام قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو کافر کہا ہے- وہ کہتا ہے:"مارچ 1906ء خدا تعالٰی نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہےاور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے"(تذکرہ صفحہ 519, مارچ 1906ء)
منقول
جواب نمبر 1
آپ کی دلیل آپ کے دعوے کے مطابق نہیں ہے۔ آپ حضرات کا دعویٰ یہ ہے کہ نبوت کی تین اقسام ہیں ان میں سے دو قسم کی نبوت حضور علیہ سلام کے بعد بند ہو گئی اور ایک قسم کی نبوت جاری ہوئی جو حضور علیہ السلام سے پہلے جاری نہیں تھی اور وہ بھی مرزا صاحب پر آ کر ختم ہو گئی۔ تو دلیل وہ پیش کریں جو آپ کے دعویٰ کے مطابق ہو۔ ( تین قسم ک نبوت حوالہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 277,276 {1}
تین قسم کی نبوت میں سے ایک قسم کی نبوت جاری ہے اور دو قسم کے نبوت بند ہے حوالہ کلمۃ الفصل صفحہ 112 {2}
اور وہ تیسری قسم کی نبوت بھی مرزا قادیانی پر بند ہوگئی حوالہ تشحیذالاذاہان نمبر3 صفحہ نمبر 31 {3}،انوارالعلوم جلد 2 صفحہ578 ){4}
جواب نمبر 2
آپ نے جو دلیل پیش کی ہے اس میں لفظ رسول آیا ہے۔آپ کے مرزا صاحب نے لکھا ہے رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 322 {5}۔ اور مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ عام لفظ کو کسی خاص معنوں میں محدود کرنا صریح شرارت ہے ( روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 444{6} تو گزارش یہ ہے کے قادیانی شرارتی نہ بنے اور وہ دلیل پیش کریں جو ان کے دعوے کے مطابق ہے )
جواب نمبر 3
اگر یہ اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہندو ،سکھ، عیسائی،یہودی سب ہی نبی و رسول بن سکتے ہیں کیوں کہ یہ سب ہی بنی آدم میں آتے ہیں اور تو اور اگر یہ اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عورتیں، بچے، خواجہ سرا بھی نبی اور رسول بن سکتے ہیں.
ماهوا جوابكم فهو جوابنا
جواب نمبر 4
اگر یہ اجرائے نبوت کی دلیل مان بھی لی جائے تو بھی مرزا صاحب نبی نہیں بنتے کیونکہ کہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں انہوں نے اپنا بنی آدم ہونے سے انکار کیا ہے۔
لکھتے ہیں
کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127{7} )
اگر مرزا صاحب نے سچ بولا ہے تو اس دلیل کے مطابق آپ ان کو نبی ثابت نہیں کر پائیں گے اور اگر جھوٹ بولا ہے تب تو مرزا صاحب نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ جھوٹا نبی نہیں ہوتا۔
ایک تاویل اور اس کا جواب
قادیانی کہتے ہیں ہیں یہ مرزا صاحب نے کسر نفسی کی ہے۔
جواب یہ ہے کے آج تک کسی عقلمند آدمی نے اس طرح کسر نفسی نہیں کی۔ اگر کی ہے تو بائبل کی کہانیوں کے علاوہ قرآن و حدیث سے کوئی دلیل پیش کرو۔ اب مرزا صاحب کی کسر نفسی کی کچھ حقیقت آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
لکھتے ہیں
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 {8})
(اسی طرح کے اور اشعار دیکھنے کے لیے خزائن جلد 21 صفحہ 144 خزائن جلد 18 صفحہ 477 وغیرہ دیکھیں)
جواب نمبر 5
تحقیقی جواب قادیانیوں کے اس باطل استدلال کا یہ ہے کہ
آیت مبارکہ کے سیاق و سباق کو دیکھنے سے یہ بات روز روشن سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں پر حکایت ماضی کی ہے۔اللہ تعالی نے جب حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا تھا اس کا ذکر کیا اور اس کے بعد تمام واقعات بڑی تفصیل سے اللہ تعالی نے بیان فرمائیے اور اس ضمن میں یہ ارشاد ہوتا ہے کہ جب ہم نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتار دیا تو ان کو خطاب کیا گیا۔ اس سورت میں چار جگہوں پر بنی آدم سے خطاب کیا گیا ہے۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ
اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے ، اور جو خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے ۔ ( ١١ ) اور تقوی کا جو لباس ہے وہ سب سے بہتر ہے ۔ ( ١٢ ) یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے ، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کریں ۔
سورہ اعراف آیت 26
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفۡتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنۡہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوۡاٰتِہِمَا ؕ اِنَّہٗ یَرٰىکُمۡ ہُوَ وَ قَبِیۡلُہٗ مِنۡ حَیۡثُ لَا تَرَوۡنَہُمۡ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! شیطان کو ایسا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا کہ وہ تمہیں اسی طرح فتنے میں ڈال دے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا ، جبکہ ان کا لباس ان کے جسم سے اتر والیا تھا ، تاکہ ان کو ایک دوسرے کی شرم کی جگہیں دکھا دے ۔ اور وہ اس کا جتھ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان شیطانوں کو ہم نے انہی کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾
اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوشنمائی کا سامان ( یعنی لباس جسم پر ) لے کر آؤ ، اور کھاؤ اور پیو ، اور فضول خرچی مت کرو ۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾
اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے کچھ پیغمبر آئیں جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سنائیں ، تو جو لوگ تقوی اختیار کریں گے اور اپنی اصلاح کرلیں گے ، ان پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
ان چاروں جگہوں پر اولاد آدم کو خطاب کیا گیا ہے اور یہ حضور علیہ صلاۃ و سلام کے سامنے ماضی کی حکایت کی گئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ صلی اللہ وسلم کی امت کو خطاب نہیں ہوا۔کیوں کہ قرآن مجید کا اسلوب ہے جب بھی حضور علیہ السلام کی امت کو خطاب کیا گیا ہے تو " يايها الناس " اور " يايها الذين آمنوا" سے خطاب کیا جاتا ہے یا بنی آدم سے اس امت کو خطاب نہیں کیا گیا۔
نوٹ اگر کسی پہلے حکم کا نسخ نہ ہو اور اس حکم میں یہ امت بھی شامل ہو جائے تو یہ علیحدہ بات ہے۔
چنانچہ اس کے بعد اس وعدے کے مطابق جو اللہ تعالی نے رسول بھیجے ہیں ان میں سے بعض کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جیسے ولقد أرسلنا نوحا وغیرہ اس سلسلے کو بیان کرتے کرتے آگے چل کر فرمایا ثم بعثنا من بعدهم موسي پھر دیر تک موسی علیہ السلام کا تذکرہ چلتا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ نبوت کو کو پہنچا دیا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ یوں فرمایا
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
کہو کہ : اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ( ٧٧ ) جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے ۔ اب تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو نبی امی ہے ، اور جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے ، اور اس کی پیروی کرو تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے آدم علیہ سلام کو نازل کرنے کے بعد رسولوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا اسے پورا کیا اور پھر اس کے بعد اپنے وعدے کے مطابق جن رسولوں کو بھیجا ان کی ایک مختصر تاریخ بیان کی حتی کہ اس رسالت کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچا کر حضور علیہ الصلاۃ والسلام پر نبوت اور رسالت کے سلسلے کو مکمل فرما دیا اب کسی نئے نبی یا شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
نوٹ: قادیانی "يبني ادم" کے لفظ پر اعتراض کرتے ہوئے ایک اور آیت بھی پیش کرتے ہیں
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ
کہ اس آیت میں یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ کے لفظ سے خطاب کیا گیا ہے اور اس میں مسجد کا ذکر ہے اور مسجد امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے اس سے ثابت ہوا کہ جو آپ نے اصول بتایا تھا کہ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ سے امت محمدیہ کو خطاب نہیں کیا جاتا وہ غلط ہے۔
اس کا جواب ہے کہ آپ کا یہ اصول کہ مسجد کا لفظ امت محمدیہ کے لیے خاص ہے یہ ہی غلط ہے کیونکہ سورہ کہف میں اللہ نے پہلی امتوں کے لیے بھی مسجد کا ذکر کیا ہے۔
وَ کَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا ۚ٭ اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنۡیَانًا ؕ رَبُّہُمۡ اَعۡلَمُ بِہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسۡجِدًا
اور یوں ہم نے ان کی خبر لوگوں تک پہنچا دی ، ( ١٣ ) تاکہ وہ یقین سے جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ، نیز یہ کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، ( ١٤ ) اس میں کوئی شک نہیں ۔ ( پھر وہ وقت بھی آیا ) جب لوگ ان کے بارے میں میں آپس میں جھگڑ رہے تھے ، ( ١٥ ) چنانچہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان پر ایک عمارت بنا دو ۔ ان کا رب ہی ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے ۔ ( ١٦ ) ( آخر کار ) جن لوگوں کو ان کے معاملات پر غلبہ حاصل تھا انہوں نے کہا کہ : ہم تو ان کے اوپر ایک مسجد ضرور بنائیں گے
سورہ کہف آیت نمبر 21
جواب نمبر 6
اگر اس آیت سے نبوت جاری ثابت ہوتی ہے تو اس قسم کی یہ آیت بھی موجود ہے
فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۸﴾
پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔
سورۃ بقرہ آیت 38
اس آیت میں بھی وہی ياتينكم ہے اور اس کا سیاق و سباق بھی وہی ہے اگر اس( سورت الاعراف آیت 35) آیت سے نبوت اور رسالت جاری ہے تو اس( سورت البقرہ آیت 38) آیت سے شریعت جاری ہے حالانکہ شعریت تمہارے نزدیک بند ہے۔
ما هو جوابكم فهو جوابنا
جواب نمبر 7
اس آیت یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ میں لفظ اِمَّا ہے۔ اور
اِمَّا حرف شرط ہے۔ جس کا تحقق ضروری نہیں جس طرح مضارع کے لیے استمرار ضروری نہیں جیسے آیت سے واضح ہے
فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا
اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو
سورۃ مریم آیت 26
اس آیت کا اگر قادیانی اصول کے مطابق ترجمہ کریں تو یوں بنے گا کہ مریم قیامت تک آدمی کو دیکھتی رہیں گی۔حالانکہ یہ ترجمہ قادیانی نہیں مانتے پاس جس طرح اس آیت کی رو سے مریم قیامت تک کسی آدمی کو نہیں دیکھتی رہیں گی اس طرح اس آیت یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ کی رو سے بھی حضور علیہ السلام کے بعد قیامت تک نبی نہیں آتے رہیں گے۔ ( مضارع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے کا جواب)
جواب نمبر 8
اس آیت کا شان نزول قادیانیوں کے تسلیم کردہ مجدد امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں بیان کیا
ابھی یسار سلیمی سے روایت ہے کہ اللہ رب العزت نے سیدنا آدم اور ان کی اولاد کو مٹھی میں لے لیا اور فرمایا یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
پھر رسولوں پر نظر رحمت ڈالیں تو فرمایا ياايها الرسل (تفسیر در منثور جلد 3 صفحہ 262{9})
اس عبارت سے ثابت ہوا کے قادیانیوں کے تسلیم کردہ مجدد
کے نزدیک یہ عالم ارواح کی حکایت ہے ۔تو اس سے کسی صورت بھی نبوت کا جاری رہنا ثابت نہیں ہوتا۔
اور مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ مجدد کا منکر فاسق ہے ( خزائن جلد 6 صفحہ 344{10} قادیانیوں سے گزارش ہے کہ فاسق نہ بنے اپنے مرزا صاحب کے بقول )
جواب نمبر 9
آیت مبارکہ میں یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے رسول شریعت لائیں گے۔تو اگر یہ اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو یہ تو قادیانی عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ یہ شریعت والے نبی کے آنے کے قائل نہیں ہیں۔ ما هو جوابكم فهو جوابنا
جواب نمبر 10
قادیانی جس قسم کی نبوت کو جاری مانتے ہیں وہ تو صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی برکت سے ملتی ہے ( روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 30 {11}) تو قادیانی سے گزارش ہے کہ دلیل وہ پیش کریں جو آپ کے عقیدہ کے مطابق ہو۔
جواب نمبر 11
اگر آیت یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ
اجرائے نبوت کی دلیل ہے تو یہ دلیل مرزا قادیانی کو پیش کرنی چاہیے تھی مرزا قادیانی کی کسی کتاب سے یہ آیت پیش کر دیں جس میں اس نے اس آیت کو اجرائے نبوت کی دلیل کہا ہو۔
نوٹ: مرزا قادیانی نے اپنی کسی کتاب میں اس ایت کو اجرائے نبوت کی دلیل نہیں کہا۔
Comments
Post a Comment