میاں محمد نواز شریف

(ترمیم واضافہ)
میاں محمد نواز شریف میاں محمد شریف کے بڑے بیٹے ہیں اور میاں شریف اتفاق فاؤنڈری کے مالک تھے۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے جب تمام پرائیویٹ صنعتی یونٹس کو قومی تحویل میں لے لیا تو میاں شریف اور ان کا خاندان دیگر سرمایہ کاروں کی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف بن گئے۔
1977کے الیکشن میں میاں شریف نے نواز شریف کے لئے جمعیت العلماء پاکستان سے ٹکٹ کے حصول کی کوشش کی اور بعد ازاں نواز شریف اصغر خان کی تحریک استقلال میں شامل ہوگئے۔1977میں ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔لاہور پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا۔جس سے ضیاء الحق خائف تھے۔
1980 میں میاں شریف نے گورنر پنجاب جنرل ریٹاٸیرڈ غلام جیلانی سے تعلق جوڑااور گورنر جیلانی کا قرب حاصل کر نے میں کامیاب ہو گیا۔اور میاں شریف نے غلام جیلانی گورنر پنجاب کو اپنے بڑے بیٹے نواز شریف کو پنجاب کابینہ میں شامل کرنے کی استدعا کی جیسے غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کی ایماء سے مشروط کر دیا اور 1981 کے اخیر میں نواز ضیاء ملاقات ہوئی ۔جنرل ضیاءالحق نے نے اسے سر سے پاٶں تک دیکھا اور سر ھلاتے ھوۓ کہا ” ٹھیک ہے“

اس طرح سے گورنر پنجاب جنرل ریٹاٸرڈ غلام جیلانی نے 1981 میں وزیر خزانہ پنجاب کے طور پرنواز شریف کو متعارف کروایا۔ نواز شریف کا کوٸی سیاسی بیک گراٶنڈ نہیں تھا۔
1985میں ملک میں غیر جماعتی الیکشن ہوئے۔ان الیکشن کا بائیکاٹ پاکستان کی سب سے دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے پاکستان نورانی نے بائکاٹ کر دیا۔جمعت العلماء پاکستان کے ایک گروپ جس کی قیادت حاجی حنیف طیب کر رہے تھے نے جمعیت کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے الیکشن میں حصہ لیا اور سندھ میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی کافی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ادھر پنجاب میں میاں نواز شریف لاہور کی ایک سیٹ پر منتخب ہوئے اور انہوں نے حنیف طیب سے مشاورت سے نظام مصطفیٰ گروپ تشکیل دیا مگر جلد ہی اس گروپ سے لا تعلق ہو کر غلام جیلانی کے حکم پر مسلم لیگ جونیجو میں شامل ہوگئے جس پر انہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ سونپی گئی۔
1985 تک نواز شریف وزیر خزانہ پنجاب کی حیثیت سے پانچ ارب روپے کا غبن کرچکا تھا۔ ملک کی تیزی سے بدلتی ھنگامہ خیز سیاسی صورتحال میں کوٸی بھی اس کرپشن پر گرفت نہ کرسکا۔
1985کے انتخابات کے بعدضیاء الحق نے پیر پگارا کے معتمد خاص محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم مقرر کیا اور نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنائے گئے۔محمد خان جونیجو ایک شریف آدمی تھا جس کے خلاف نواز شریف ضیاءالحق کو اکساتے رہے۔اور بلااخر جونیجو حکومت برطرف کر دی گئی اور نواز شریف اسی مسلم لیگ کے صدر بن گئے جو بعد ازاں مسلم لیگ نواز کہلائی۔
17 ا گست 1987 کو صدر جنرل ضیاءالحق طیارہ حادثے میں چل بسے جس سے طاقت کے مراکز میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ھوگیااور اسلم بیگ چیف آف آرمی سٹاف مقرر ہوئے۔جس نے عام انتخابات کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور پنجاب نواز شریف کے حصہ میں آیا۔
1988 میں وزارت اعلیٰ پنجاب کے بعد جوڑ توڑ اور سازشوں سے 1991 میں وزیراعظم پاکستان بن گٸے۔ اور پھر پہلا وار ایک مخالف اداریہ لکھنے پر روزنامہ پاکستان پر کیا۔ تقریباً ایک ارب کے اثاثے رکھنے والا اخبار اور کلر پرنٹنگ پریس ضبط کر کے مجیب الرحمن شامی کو پانچ لاکھ میں دے دیا اور ساتھ میں صرف چھ سو روپے سالانہ کی لیز پر لاھور کے مہنگے ترین علاقے لبرٹی گلبرگ مین پر پٹرول پمپ 99 سالہ لیز پر دے دیا تاکہ پریس میں ایک طاقتور آواز نواز شریف کی حماٸتی بن جاٸے۔ روزنامہ پاکستان کے مالک اکبر بھٹی کو جیل میں ڈال کر تشدد کا اتنا نشانہ بنایا کہ اس بےچارے کی موت ھو گٸی۔ باقی اخبارات کے مالکان کو بھی پتا لگ گیا کہ نوازشریف تنقید برداشت نہیں کرتا اور انتہاٸی اقدامات پر اتر آتا ھے اور اس کو روکنے والا بھی کوٸی نہیں ھے۔
جاتی امرا کے اس گرینڈ پراجیکٹ کے لیٸے پلان اور منصوبے اس وقت شروع ھوٸے جب ڈاٸیوو نامی کورین کمپنی کو موٹر وے کا پراجیکٹ دے کر کمیشن کے طور پر ایک بہت بڑی رقم لندن میں وصول کرلی اور اس سے ایون فیلڈ اور پارک لین میں انتھاٸی بیش قیمت بلڈنگز خرید لیں ۔
موٹر وے جھاں جھاں سے گزارنے کا منصوبہ تھا وھاں بےکار پڑی بنجر زمین کوڑیوں کے مول ابنے فرنٹ مینوں کے ذریعے خود خرید لی اور موٹر وے بن جانے کے بعد انتھاٸی مہنگے داموں بیچ کر بے پناہ دولت اکٹھی کرلی۔ پھر یہی فارمولا رنگ روڈ اور دیگر نٸی سڑکوں پر لگا کر بہت لمبی چوڑی کماٸی کی۔ لیکن یہ سب وہ ناجاٸز دولت تھی جس کو وہ ظاہر بھی نہی کرسکتے تھے۔ اس لٸے یہ تمام ناجاٸز دولت منی لانڈرنگ نیٹ ورک کے راستے لندن میں جمع ھوتی رھی۔ مسلم لیگ ن کے ایک سینٸر سیاستدان مرحوم لیفٹیننٹ جنرل ریٹاٸرڈ عبدالمجید ملک بھی اسی طریقے سے ارب پتی بنے تھے۔

اتنی زیادہ دولت نے شریف برادران اور ان کے باپ کا دماغی توازن ھلا دیا۔ پھر خود کو مغل بادشاہ سلامت تصور کرکے پاکستان میں ایشیا کا سب سے بڑا اور اورجدید ترین محل تیار کرنے کا پلان تیار کیا۔ بلا شبہ نواز شریف کے پاس دولت انفرادی حیثیت میں دنیا کے کسی امیر ترین شخص کے کل اثاثوں سے بھی کٸی گنا زیادہ ھو چکی تھی اور اس میں دھڑا دھڑ اضافہ ھوتا جارھا تھا۔
اسی دوران اسحاق ڈار کی منفی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ھوٸے منی لانڈرنگ کا ایک دیو ھیکل نیٹ ورک بنالیا تاکہ ناجاٸز ذراٸع سے کماٸی دولت کو محفظ جگہوں پر انوسٹ کیا جاسکے ۔ اسحاق ڈار کو ایک اور ایسا ماہر معیشت محمد سعید مل گیا جو فراڈ کے جرم میں سعودی عرب میں جیل کاٹ کر آیا تھا۔ بظاہر تو اس کا کیریر ختم ھوچکا تھا مگر منی لانڈرنگ میں بےمثال مہارت کی وجہ سے اسحاق ڈار نے اس کو ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک تعینات کردیا اور بعد ازاں نیشنل بینک آف پاکستان کا صدر بنادیا۔
یلو کیب سکیم اور پھر قرض اتارو ملک سنوارو جیسی سکیموں سے تو اس قدر دولت حاصل کرلی جس کا اس دنیا میں اللہ کے علاوہ کسی کو بھی علم نہیں تھا۔ جو گاڑیاں دنیا بھر میں نقاٸص کی وجہ سے فلاپ ھو گٸیں وہ سکریپ کے بھاٶ خرید کر پیلا رنگ کروا کر بینکوں سے زبردستی کے قرضوں پر عوام کو بیچ دیں اور بعد میں اپنے فرنٹ مینوں سے دوبارہ عوام سے خرید کر افغانستان میں بیچ کر پھر سے پیسے کما لٸے۔ عوام کو تو ان کی دس فیصد کی ایڈوانس پیمنٹ کے ساتھ پانچ سے دس ھزار کا منافع دے دیا ۔ نقصان اٹھانا پڑا پاکستان کے تمام شیڈیولڈ بینکوں کو جن کو اس منصوبے میں مکمل ڈیفالٹ کا سامنا کرنا پڑا اور تمام گاڑیاں بھی افغانستان منتقل ھو گٸیں۔
اس دوران نواز شریف اس قدر طاقتور ھوگیا کہ اس نے صدر فاروق لغاری اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سید سجاد علی شاہ کی بھی چھٹی کروادی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف جنجوعہ بھی پراسرار طریقے سے چل بسے اور شبہ ھے کہ ان کو زہر دیا گیا۔ پھر سپریم کورٹ پر حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
سٹاف کالج کوٸٹہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ھوٸے جنرل کرامت جہانگیر نے ملکی سلامتی کو درپیش پیچیدہ مساٸل اور چیلنجز سے نبٹنے کے لٸے نیشنل سیکیورٹی کونسل نام کے ادارے کے قیام کی تجویز دے دی۔ جنرل صاحب ایک بہت دور اندیش اسکالر اور پیشہ ور فوجی تھے۔ ان کی ذھانت سے فاٸدہ اٹھانے کی بجاٸے موٹی عقل والے نواز شریف نے اس معمولی سے اختلاف پر آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے کھڑے کھڑے استعفیٰ لے لیا اور ذلیل کرکے فوج سے نکال باہر کیا ۔ یہ موجودہ زمانے میں ایک فرعون کا ظہور تھا۔ اور ان کی جگہ پر ایک قدرے جونٸیر ایس ایس جی کمانڈو جنرل سید پرویز مشرف الدین کو آرمی چیف بنادیا۔
14 مٸی 1998 میں انڈیا نے ایٹمی دھماکہ کردیا۔ پاکستانی ساٸنسدان بھی فوراً جوابی ایٹمی دھماکے کی تیاریوں میں جت گٸے ۔ امریک نے سیٹیلاٸٹ کی مدد ژے سراغ لگالیا اور پاکستان کو جوابی دھماکے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ نواز اور شہباز سودے بازی میں پڑ گٸے۔ ذاتی اکاٶنٹ میں پانچ ارب ڈالر کی ڈیمانڈ تھی۔ بل کلنٹن بھاٶ تاٶ کر رھا تھا۔ شریف برادران پانچ ارب پر اڑے ھوۓ تھے جبکہ بل کلنٹن کہہ رھا تھا کہ اتنی تو تمھاری اوقات ھی نہیں ۔ چند ملین ڈالز کی آفر دے کر وہ سستے میں بات طے کرنا چاہ رھا تھا۔ زیادہ ضرورت ھے تو آٸی ایم ایف سے قرضہ دلوا دیتا ھوں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے احتجاج کیا تو شریف برادرز نے ان کی ذاتی ملازم یا چپڑاسی کی طرح ان کی بےعزتی کردی۔ ڈاکٹر صاحب نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو بتادیا۔
جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر صاحب کی تعظیم کی اور ان کو دھماکے کی تیاری کرنے میں ابنی حمایت کا یقین دلایا۔ ڈاکٹر صاحب نے ڈیواٸسز فٹ کرکے ٹاٸمر ایکٹو کردیا اور نواز شریف کو بتادیا کہ اب آپ بٹن دباٸیں یا نہیں ، اس ٹاٸم پر 28 مٸی کو دھماکے کا ٹاٸمر لگ چکا ھے۔
نواز شریف اور شھباز شریف کو پانچ ارب ڈالر نہ ملنے کا سخت افسوس ھوا۔ اس کو ایٹمی دھماکوں سے جو رنج اور نقصان پہنچا وہ ان کی شکل سے نظر آرھا تھا۔ ان دونوں بھاٸیوں نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف کینہ دل میں رکھ لیا اور موقع کی تلاش میں رھنے لگے۔
اس موقع پر اس کے سمدھی اسحاق ڈار نے اسے ایک تاریخی فارن کرنسی بنک ڈکیتی کی تجویز دی جو دونوں بھاٸیوں نے فوراً ھی منظور کرلی۔ 29 مٸی 1998 کو مالیاتی ایمرجنسی لگا کر تمام فارن کرنسی اکاٶنٹس میں موجود پاکستانی عوام کے ڈالرز اور پاٶنڈز پر قبضہ کرلیا ۔ اس دن آخری دفعہ ڈالر کا ریٹ 23 روپے تھا۔ اس دوران اوپن مارکیٹ سے تمام ڈالرز بھی پرانے ایکسچینج ریٹ 23 روپے پر خرید لٸے۔ اور یہ تمام تقریباً 12 ارب ڈالر اپنے دیوھیکل منی لانڈرنگ نیٹ ورک کے ذریعے لندن منتقل کردٸیے جس کی وجہ سے ڈالر ایک ھی دن میں 23 روپے سے اٹھ کر 48 روپے پر جا پہنچا۔ اور بہت ھی کم وقت میں 60 روپے تک جا پہنچا۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی روپے کی قدر میں سو فیصد سے بھی زیادہ کی کمی نہیں ھوٸی تھی۔ پوری معیشت کی چولیں ہل گٸیں۔
لندن میں حسن اور حسین نواز کے نام پر 500 سے زیادہ بیش قیمت پرابرٹیز خرید لی گٸیں۔
پاکستان کی انٹرنیشنل ٹریڈ تین ماہ تک تقریباً بند رھی۔ آج تک پاکستان کی تاریخ میں اتنی بڑی بینک ڈکیتی اور منی لانڈرنگ نہیں ھوٸی۔ ایسے ھی سیاہ کارناموں کی وجہ سے نوازشریف کو عالمی سطح پر پاٸیریٹ یعنی قزاق کا لقب ملا۔ دنیا میں بہت سے کاٸیاں لوگ شریف فیملی کو نظر میں رکھے ھوٸے ھیں۔
نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو اتنی بڑی نافرمانی پر معاف نہ کیا۔آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اس کو جی ایچ کیو میں مدعو کیا اور اس کو بڑی تفصیل سے کارگل کے بارے میں بریفنگ دی کہ اگر ھم سرینگر ھاٸی وے کے قریب بلند چوٹیوں پر قبضہ کرلیں تو انڈیا کو کشمیر آزاد کرنا پڑ جاۓگا اور سیاچن میں جاری ایک لمبی جنگ بھی ختم ھو جاۓ گی۔ وھاں اس اھم بریفنگ میں نواز شریف نے سو جانے کا ڈرامہ کیا اور گونگلو بن گیا کہ مجھے تو کچھ پتا ھی نہیں۔ اور اکتوبر 1999 میں پی آٸی اے کی فلاٸیٹ کے کپتان کو حکم دیا کہ وہ کراچی کی بجاۓ احمد آباد انڈیا کے اٸیر پورٹ پر لینڈ کرے۔ اس فلاٸیٹ میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سری لنکا سے واپس آرھا تھا۔ پاکستان کے تمام اٸر پورٹ بند کرکے رن ویز پر رکاوٹیں کھڑی کردی گٸیں۔

انڈیا کو پیغام دے دیا کہ تمھارا کارگل کا مجرم آرھا ھے۔ اس کو پکڑ لو اور بدلہ لے لو۔ فوج چوکنی تھی۔ اس نے تختہ الٹ دیا مگر اپنے وقار پر آنچ نہ آنے دی۔
جاتی عمرہ محل بنانے کے لٸے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت نواز شریف فیملی نے ابتداٸی طور پر برلب نہر کچھ زرعی رقبہ خریدا۔ اور اس کی عارضی سی چار دیواری ( باٶنڈری وال ) بنالی۔ پھر محکمہ انہار کو کہہ کر ارد گرد میں موجود 80 سے زاٸد دیھات کا نہری پانی یکدم بند کروادیا۔ کسان احتجاج کرنے نکلے تو ان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سنگین جراٸم کے پرچے درج کرکے ان کو تھانوں میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ کو پولیس مقابلوں کا نشانہ بنا کر ان کے اہل خانہ کو دھشت زدہ کرکے ان سے ان کی زمینیں ھتیا لیں۔ رھاٸی کے عوض خالی اشٹاموں پر ساٸن انگوٹھے لگوالٸے گٸے۔ کچھ کو معمولی براٸے نام اداٸیگی کرکے ان کی جاٸیداد ھتیالی گٸی۔ ریاستی جبر و استبداد کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ ان زمینوں میں 67 مربعے ( 200 کنال کا ایک مربعہ ، ٹوٹل 13،400کنال ) برلب نہر کا انتہاٸی قیمتی رقبہ بھی شامل تھا۔ ٹوٹل تقریباً ایک لاکھ ایکڑ رقبے پر شریف فیملی نے ریاستی طاقت، غنڈہ گردی اور دھونس کے ذریعے قبضہ کرلیا اور بعد میں بہت سی مختلف ھاٶسنگ سوساٸٹیز کو کافی ساری زمین انتھاٸی مہنگے داموں بیچ دی۔ ان زمین خریدنے والوں میں ملک ریاض بھی شامل ھے جس نے راٸیونڈ روڈ پر بحریہ ٹاٶن بنایا۔ شریف فیملی نے تقریباً ایک لاکھ ایکڑ (آٹھ لاکھ کنال) جگہ پر قبضہ کرکے اس کو مختلف ڈویلپرز کو بیچ کر حرام کی دولت کے انبار جمع کرلٸے اور پھر سے شریف بن گٸے۔ میڈیا کو اتنی بڑی واردات کی رپورٹنگ سے سختی سے منع کردیا گیا۔ اکبر بھٹی کے دردناک قتل کے بعد تمام اخبارات کے مالکان سہم گٸے تھے۔
راٸیونڈ محل کے کاغذات دو حصوں میں تقسیم ھیں۔ کاغذات میں رائونڈ محل کا موجودہ احاطہ 1700 ایکڑ یا 13600 کنال ہے ۔ ملحقہ خریدی یا ھتیاٸی گئی زمین بھی شامل کی جائے تو 25000 ہزار کنال سے زائد جو تین ہزار ایکڑ سے زاٸد ھے ۔ 2013 کے الیکشن میں اس محل کی کل قیمت صرف بیس لاکھ روپے ظاہر کی گٸی۔ مزید بیس لاکھ کے مویشی بھی ظاہر کرکے کل مالیت چالیس لاکھ بتاٸی گٸی۔ 2013 میں لاھور میں کسی بھی آبادی میں چالیس لاکھ روپے میں پانچ مرلے کا گھر بھی خریدنا ممکن ھی نہیں تھا۔ ان مویشیوں میں ہرن، آسٹریلیا کی گاٸیں ، مور اور بہت سے انتہاٸی قیمتی جانور شامل ھیں۔ محتاط اندازے میں بھی ان کی قیمت کروڑوں میں تھی۔
۔
جاتی امراء محل میں جانے کے لیے ایک خصوصی بہت بڑا دیو ھیکل گیٹ بنایا گیا ہے جس پر نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم شریف اور بیٹی مریم نواز کے نام بڑے بڑے حروف میں کندہ کیے گئے ۔ شاہی رہائش گاہ میں 3 باورچی خانے، 3 ڈرائینگ روم، ایک سوئمنگ پول ، ایک مچھلی فارم ، ایک چھوٹا سا چڑیا گھر اور ایک جھیل شامل ہے۔ھر باورچی خانہ ایک کنال سے زاٸد رقبے میں ھے۔
اس علاقے میں میاں شریف نے جو زمین خریدی یا ناجاٸز طریقوں سے ھتیاٸی ، بعد میں اس کو قومی خزانے سے پیسے خرچ کر کے جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔
اس رہائش گاہ میں تقریباً 1500 ملازمین کام کرتے ہیں جنکی مجموعی ماہانہ تنخواہ کروڑوں روپے بنتی ہے۔
نواز شریف جب دوسری بار وزیرآعظم بنے تب انہوں نے رائیونڈ محل کی تعمیر و آرائش پر خصوصی توجہ دی۔ تعمیرات کا یہ کام (FWO) فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن کو سونپا اور ہنگامی بنیادوں پر اس کام کی تکمیل کے احکامات جاری کیے گئے۔
نواز شریف نے دوسری بار اقتدار حاصل کرنے کے فوراً بعد رائے ونڈ کی رہائش گاہ کو وزیر اعظم کیمپ آفس کا درجہ دیدیا اور یوں وفاقی ادارہ پی ڈبلیو ڈی کو اس رہائش گاہ کے تمام اخراجات اور ترقیاتی پروجیکٹس کے اخراجات ادا کرنے کا پابند قرار دے دیا گیا ۔ وزیر اعظم کیمپ آفس کے علاوہ پی اینڈ ڈی کو پابند کیا گیا کہ وہ اس سے ملحقہ وزیر اعظم اور انکے عزیز و اقارب کی رہائش گاہوں پر بھی وسیع پیمانے پر ضروری اخراجات ادا کرے گا۔
اس حوالے سے برطانیہ کے اخبار سنڈے ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں لکھا گیا تھا کہ رائے ونڈ میں ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی نواز شریف کی جائداد ایک ایسے شخص کی جانب سے اپنی دولت کی بے جا نمود و نمائش ہے جو غریبوں کی زندگی بدل دینے کے مینڈیٹ کے ساتھ فروری 97 میں برسر اقتدار آیا تھا
شریف خاندان نے لوگوں کو بتایا کہ رائے ونڈ کی زمین 13کروڑ روپے میں خریدی تھی۔ لیکن کبھی بھی اتنی بڑی اداٸیگی کا کوٸی ثبوت نہ دیا۔ نہ ھی اس کا سورس اور اس پر ادا کٸیے گٸیے ٹیکس کے بارے میں کچھ بتایا۔ البتہ 2013 میں الیکشن کمیشن کو اسکی کل مالیت چالیس لاکھ ڈیکلیٸر کی گٸی جس میں سے 20 لاکھ کے مویشی تھے اور بیس لاکھ کا یہ محل جو تین ہزار ایکڑ سے بھی زاٸد جگہ پر بنا ھوا ھے۔۔۔۔اور یہی اعدادو شمار حقیقت سے قریب ترین ھیں۔ کیوں کہ یہ تمام زمین تو کسانوں سے زبردستی اور غنڈہ گردی سے کام لیتے ھوٸے ھتیاٸی گٸی تھی۔
اس سے قبل 26 جولائی1992ء کو اسلام آباد سے ایک شاہی فرمان جاری ہوا۔ یہ فرمان کمشنر لاہور ڈیویژن کے نام تھا ۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے اس فرمان کے ساتھ کمشنر لاہورکو سرکاری خزانے سے 5 کروڑ روپے جاری کیے تاکہ وہ شریف خاندان کی رائونڈ میں واقع اس عالیشان رھائش گاہ کو لاہور سے جوڑنے والی سڑک کی حالت کو بہتر بنائیں ۔ فوری بعد ایک اور حکم نامہ جاری ہوا اور ساتھ ہی مزید رقم بھی جاری کردی گئی ۔ اس بار کمشنر لاہور کے لیے حکم یہ تھا کہ وہ ایک اور سڑک تیار کروائیں جو اتفاق کمپلیکس اور اتفاق فارم کے درمیان سے گزرے اور اس پروجیکٹ کے لیے 14کروڑ 90 لاکھ روپے اضافی ادا کیے گئے۔
بہت شروع کے اقدام کے طور پر پی ڈبلیو ڈی کی طرف سے رہائش گاہوں اور وزیراعظم کیمپ آفس کی تزئین و آرائش کے لیے 8 کروڑ روپے کی سمری وزیر اعظم ہاؤس کو بھیجی گئی جو چند لمحوں میں منظور ہو کر وزارتِ خزانہ کے پاس پہنچ گئی اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں اس شاہی رہائش گاہ پر ترقیاتی کام شروع ہو چکا تھا یہ ایک طرح سے وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے کھلی جارحیت تھی کیونکہ ریاستی قوانین کے مطابق کسی کیمپ آفس پر مستقل نوعیت کی کوئی تعمیرات نہیں کی جاسکتی ہیں لیکن ان تمام قوانین اور ضابطوں کو روند دیا گیا ۔
بعد ازاں ایک شاہی فرمان کے ذریعے سوئی ناردرن گیس کو شریف فارم سے احکامات موصول ہوئے ۔ پہلا حکم نامہ یہ تھا کہ مذکورہ محکمہ فوری طور پر مرکزی گیس پائپ لائین کو شریف فارم سے منسلک کردے اور اس کام میں کسی نوعیت کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے اس موقع پر خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا کہ گیس کی سپلائی کے ساتھ کسی دوسرے کو کنکشن نہ دیا جائے۔ مقامی لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن ان کی درخواستوں کو واپس کردیا گیا ایک محتاط اندازے کے مطابق گیس پائپ لائین کی اس تنصیب پر قومی خزانے سے 7 کروڑ روپے (جو کہ آجکل کے 700کروڑ روپوں کے برا برہیں ) خرچ کئے گئے۔
وفاقی محکموں سے بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ پنجاب حکومت کی طرف سے شروع ہوا وزیر اعظم کے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ضلع کونسل لاہور کو ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ضلع کونسل فوری طور پر 20 فٹ کارپٹڈ سڑک تیار کرائے جو شریف فارم کے درمیان سے گزرے ۔ فوری طور پر بھاری اخراجات کے بعد وزیر اعلیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ضلع کونسل نے ایک شاندار سڑک تعمیر کرادی۔
اس کے بعد ایک اور حکم نامہ جاری ہوا جس کے مطابق ضلع کونسل لاہور نے اڈہ پلاٹ رائے ونڈ سے شریف فارم تک نہر کے دونوں کناروں پر سڑک کو شریف فارم تک پہنچا دیا ۔رائے ونڈ فارم پر قومی خزانے کے بے تحاشا اصراف سے صرف فارم کے لئے ترقیاتی کام تو جاری رہا لیکن قریبی دیہات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا صرف شریف فارم کو مختلف بڑی سڑکوں سے جوڑنے کے لیے جو سڑکیں بنائی گئیں اس پر 32 کروڑ روپے خرچ ہوئے لیکن ساتھ ملحقہ دیہات میں اینٹوں سے بنی ہوئی سڑکیں بھی نہ تھیں اورغریب کسان کچے راستوں سے اپنی زرعی مصنوعات منڈی تک پہنچانے پر مجبور تھے ۔ انہیں شریف فارم کو آنے والی گیس کی مین پائپ لائین سے بھی کنکشن نہ دئے گئے اور نہ بجلی کے کنکشن دیئے گئے۔
ایل ڈی اے سے کہہ کر شریف فارم کے ساتھ ہزاروں ایکڑ پر جوبلی ٹاؤن نامی اسکیم کا اعلان کیا گیا جس کے لٸے تقریباً تمام زمین شریف فیملی نے ایل ڈی اے کو بیچی ۔ حالانکہ حکومتِ پنجاب کی اعلان کردہ جوہر ٹاؤن اسکیم اور سبزہ زار اسکیم ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی تھیں ‘ لیکن جوبلی ٹاؤن کا منصوبہ صرف اس لئے بنایا گیا کہ شریف خاندان نے جو زمین بہت کم نرخوں پر خرید کر یا پولیس کے ذریعے دباٶ ڈال کر ھتیاٸی اور سرکاری خزانے سے ترقیاتی کام کروا کر قیمتی زمین میں تبدیل کرلی تھی اس کو جوبلی ٹاؤن میں شامل کرکے کھربوں روپے کمائے جائیں۔
اس عظیم الشان منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 80 دیہات کا پانی بند کردیا گیا تاکہ ان سب زمینداروں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرکے ان کی زمینوں کو خود قبضے میں لے لیا جاٸے۔
میاں شریف کے حکم پر کاہنہ نہر کا وہ حصہ جو شریف فارم سے گزرتا ہے اس کو پختہ کیا گیا نہر کے دونوں کناروں کو بڑی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ پختہ کیا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کام پر قومی خزانے سے80 ملین (آٹھ کروڑ) روپے خرچ ہوئے
2008 میں پنجاب حکومت پھر سے ن لیگ کے ھاتھ آگٸی۔ اب جاتی عمرہ کو شہباز شریف کا کیمپ آفس قرار دے کر ایک نٸے سرے سے جاتی امرا۶ محل کی تزٸین و آراٸش کا کام شروع ھوا۔ بھاری اخراجات کے ساتھ کچن باتھ اور انٹیریر انگلش ڈیزاٸن کے مطابق کیا گیا۔ نٸی سڑکیں بناٸی گٸیں۔ پرانی سڑکوں کی نٸے سرے سے کارپیٹنگ کی گٸی۔
2013 میں پنجاب کے ساتھ مرکزی حکومت بھی نواز شریف کے ھاتھ آگٸی۔ یہ شریف فیملی کا انتہاٸی اختیارات کا دور تھا۔ اس دور میں جاتی امرا۶ کو نواز شریف کا کیمپ آفس قرار دے کر ایک پورے شہر نما محل کے ارد گرد بمب پروف کنکریٹ کی بلند و بالا فصیل نما دیوار سرکاری خرچے پر بناٸی گٸی جس کے اخراجات کی مکمل تفصیل نہیں دی گٸی۔ یہ اندازاً ایک ارب روپے سے بھی زاٸد مالیت کا پراجیکٹ ھے۔
اس دور میں پراٸم منسٹر یوتھ لون سکیم کے نام سے ایک نیا فراڈ شروع کیا اور مریم کو اس گھوسٹ پراجیکٹ کا انچارج لگا دیا۔ ایک کروڑ ستر لاکھ درخواستیں جمع ھوٸیں جن کی فی کس فیس ایک سو روپیہ ڈاٸریکٹ مریم کے ذاتی اکاٶنٹ میں وصول کی گٸی۔ حسب سابق اس گھوسٹ پراجیکٹ کو ایک بھی قرضہ دٸیے بغیر بند کردیا گیا اور درخواست فیس کی کل رقم ایک سو ستر کروڑ مریم لے کر ساٸڈ پر ھوگٸی۔ اس فیملی کے خون میں ھی حرام شامل ھے۔
2017 میں آنے والے تاریخ کے ایک بہت ھی بڑے مالیاتی کرپشن سکینڈل ”پانامہ“ سے پتہ چلا کہ نواز شریف نے اپنے بیٹوں اور اھلیہ کے نام پر صرف لندن میں ھی 600 سے زاٸد انتہاٸی بیش قیمت جاٸدادیں خرید رکھی ھیں جن میں سے کوٸی ایک بھی 20 میلین پاٶنڈز سے کم نہیں۔چند پراپرٹیز تو 100 ملین پاٶنڈز سے بھی زیادہ مالیت کی ھیں۔ اور دنیا کے 21 ممالک میں نوازشریف فیملی کی جاٸیدادوں اور ان کے کاروباروں کا پتہ چلا۔ ان میں سے کوٸی ایک بھی معمولی مالیت کی حامل نہیں ھے۔ اس انتہاٸی خوفناک کرپشن سکینڈل کی وجہ سے نواز شریف کو عدالت سے سزاۓ قید ملی۔ وزارت عظمٰی سے سیدھے جیل پہنچ گٸے جہاں جیل میں جھاڑو لگانے اور ٹواٸلٹس لش پش صاف کرنے کی ڈیوٹی بھی سزا کا حصہ قرار پاٸی۔ یوں ایک اردلی چپڑاسی کا سفر سیاست وزیراعظم ھاٶس سے ھوتا ھوا اڈیالہ جیل کے ٹواٸلٹس کی صفاٸی پر اختتام پذیر ھوا۔
قانون کے مطابق کسی بھی کیمپ آفس میں ٹھوس پختہ اور مستقل تعمیرات سرکاری اخراجات پر ممنوع ھیں۔ جاتی امرا۶ کی تو مکمل تعمیر اور تزٸین و آراٸش ھوٸی ھی سرکاری اخراجات پر ھے۔ اس لٸے قانوناً اس مکمل جگہ کو سرکاری تحویل میں لے لینا چاھٸے اور جن کسانوں پر شریف فیملی نے ظلم وستم ڈھا کر ان کو ان کی زمین سے بے دخل کیا، ان کو شریف فیملی سے بھاری معاوضے دلوا کر انصاف کیا جانا چاھٸے۔ جن بے گناہ کسانوں کو پولیس مقابلوں میں مارا گیا ان کی مکمل تحقیق اور تفتیش ھونی چاھٸے۔ تاکہ مستقبل میں پاکستان کی سیاسی اشرافیہ میں کوٸی فرعون یا نمرود نہ بن سکے ۔ اور مستقبل میں کرپشن کی روک تھام ھو سکے۔
میگا کرپشن کی قانونی تعریف متعین کرکے اس سنگین جرم کی سزا موت اور تمام فیملی کی جاٸیداد کی ضبطگی مقرر کی جاۓ۔ ایک ملین (دس لاکھ) ڈالرز یا اس سے زاٸد مالیت کی کرپشن ثابت ھوجانے پر سرعام فوری سزاۓ موت کی سزا دینے کا قانون بنایا جاۓ۔ اس سے کم مالیت کی کرپشن ثابت ھونے پر طویل عرصے کے لیٸے سزاۓ قید بامشقت دی جاۓ تاکہ باقی حکمرانی کا شوق رکھنے والوں کے لٸے باعثِ عبرت ھو۔ اور ان کی پورے خاندان کی تمام جاٸیداد اور دیگر اثاثے ضبط کرکے ان سے چوک میں کھڑا کرکے بھیک منگواٸی جاۓ اور اس بھیک کی کماٸی سے ان کو کھانا خرید کر کھلایا جاۓ۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں