اویس قرنی کے دانت توڑنے کی روایت

اویس قرنی کے دانت توڑنے کی روایت

روایت یوں بیان ہوتی ہے کہ رسول الله ﷺ کے جنگ احد میں دندان مبارک شھید ہوئے تو یہ بات حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اپنے دانتوں کو توڑ دیا غم میں آکر۔ پہلے اس روایت کو دیکھتے ہیں کہ یہ سب سے پہلے نقل کہاں ہوئی ہے۔

اسکو سب سے پہلے تذكرة الأولياء میں نقل کیا ہے فحر الدین العطار المتوفی 607 ہجری نے جو کہ ایک سنی عالم تھے، بغیر سند کے بات نقل ہوئی ہے:

ثم قال لهما: أنتما محبّي محمد ، فهل كسرتم شياَ من أسنانكم كما كسر سنه عليه السلام؟ قالا: لا. فقال: إني قد كسرت بعض أسناني موافة له

پھر اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا کہ کیا تم محمد ﷺ کے محب ہو، کیا تم نے اپنے دانت توڑے تھے جیسے کہ انکے دانت ٹوٹے تھے؟ دونوں نے کہا نہیں۔ پھر حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے کچھ دانتوں کو توڑا تھا جیسا کہ نبی ﷺ کے دانت ٹوٹے تھے۔

تذكرة الأولياء، ص 44

اسکے علاوہ، علی بن ابراہیم حلبی نے السیرة الحلبیة میں شعرانی کی الطبقات الكبرى سے نقل کیا ہے:

وقد روى … قال: والله ما كسرت رباعيته صلى الله عليه وسلم حتى كسرت رباعيتي، ولا شج وجهه حتى شج وجهي ولا وطئ ظهره حتى وطئ ظهري هكذا رأيت هذا الكلام في بعض المؤلفات والله أعلم بالحال هذا كلامه

اور روایت کی گئی۔۔۔ اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنے دانت توڑوں گا جیسے کہ رسول الله ﷺ کا دانت ٹوٹا۔ اور میں اپنے چہرے کو چوٹ پہنچاؤں گا جیسے کہ رسول الله ﷺ کے چہرے کو چوٹ پہنچی۔ اور میں اپنی کمر روندواوں گا جیسے لوگوں نے رسول الله ﷺ کی کمرکو روندا۔ (پھر مصنف نے کہا) میں نے اس روایت ہو اس طرح سے بعض کتب میں دیکھا ہے اور الله ﷻ بہتر جانتا ہے اسکا حال (کہ یہ بات ٹھیک ہے یا نہیں)۔

علی بن ابراہیم حلبی نے مزید اس پر کلام کیا:

ولم أقف على أنه عليه الصلاة والسلام وطىء ظهره في غزوة أحد،

میں نے یہ بات کہیں بھی نہیں پائی کہ آنحضرت ﷺ کی کمر پر قدم رکھے ہوں لوگوں نے غزوہ احد میں۔

السيرة الحلبية، ج 2، ص 548

ملا علی بن سلطان القاري نے اپنی کتاب المعدن العدني في فضل أويس القرني میں نقل کیا ہے:

أعلم أن ما اشتهر على ألسنة العامة من أن أويسا قلع جميع أسنانه لشدة احزانه حين سمع أن سن النبي صلى الله عليه وسلم اصيب يوم أحد ولم يعرف خصوص أي سن كان بوجه معتمد فلا أصل له عند العلماء مع انه مخالف للشريعة الغراء ولذا لم يفعله أحد من الصحابة الكبرا على أن فعله هذا عبث لا يصدر إلا عن السفهاء

جان لو کہ جو لوگوں کی جانب سے مشہور کیا جاتا ہے کہ اویس قرنی نے اپنے تمام دانت توڑ دیئے تھے رسول الله ﷺ کے دندان کے ٹوٹنے کے غم میں کیونکہ انکو معلوم نہیں تھا کہ کونسے والا دانت ٹوٹا ہے (تو سارے توڑ دیئے)۔ علماء کے نزدیک اس بات کی کوئی بنیاد نہیں اور یہ خلاف شریعت ہے۔ اس ہی وجہ سے صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی ایسا نہ کیا کیونکہ یہ ایک عبث فعل ہے اور کسی سے صادر نہیں ہوتا سوائے نادان لوگوں کے۔

المعدن العدني في فضل أويس القرني، ص 403

اہل بیت علیهم السلام سے روایات کیا کہتی ہیں، کیا رسول الله ﷺ کے دانت ٹوٹے، ایک روایت:

فقلنا له: وروي لنا أنه كسرت رباعيته. فقال: لا، قبضه الله سليما ولكنه شج في وجهه فبعث عليا فأتاه بماء في حجفة فعافه رسول الله صلى الله عليه وآله أن يشرب منه وغسل وجهه.

ہم نے امام الصادق علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں روایت کی جاتی ہے کہ رسول الله ﷺ کے دانت ٹوٹے تھے۔ امام الصادق علیہ السلام نے فرمایا، نہیں بخدا (ایسا نہیں ہوا تھا)، الله ﷻ نے انکو بچا لیا تھا بلکہ انکے چہرے پر چوٹ لگی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے امام علی علیہ السلام کو بھیجا اور وہ پانی لیکر آئے ایک برتن میں، رسول الله ﷺ نے اس سے پینے سے منع کیا مگر انہوں نے اس سے اپنا چہرہ دھویا۔

معاني الأخبار، ص 406

حدیث کی سند:

أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن محمد، عن ابن فضال عن ابن بكير، عن زرارة

شیخ صدوق نے کہا کہ میرے والد رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے بیان کیا سعد بن عبد اللہ نے جنہوں نے احمد بن محمد سے اور انہوں نے ابن فضال سے، انہوں نے ابن بکیر سے جنہوں نے زرارہ سے روایت کی (جو پھر امام الصادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں)۔

روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور روایت معتبر ہے۔

لہذا ہمیں جب یہ بات معلوم ہے کہ رسول الله ﷺ کے دانت ہی نہیں ٹوٹے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ اس بات کے غم میں دانت توڑیں۔ نیز، اس بات کے پہلے ناقل ساتویں صدی ہجری میں وفات پاگئے اور انہوں نے کسی سند کے بغیر بات نقل کی ہے۔ اور یہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے دانت توڑنے والی بات ہمیں اہل سنت کتب میں ہی ملتی ہے فقط، اہل تشیع کی کتب میں ایسا کچھ نہیں ملتا۔ اگر ہم اہل سنت کی یہ بے سند اور جعلی روایت قبول بھی کرلیں تو کیا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو زیادہ محبت تھی رسول الله ﷺ سے فاطمہ سلام اللہ علیہا اور امام علی علیہ السلام کی نسبت۔ انہوں نے دانت توڑے غم میں۔ بلکہ دانت توڑنے والی روایت ہی جعلی اور من گھڑت و موضوع ہے اور ایک دیوانے شخص سے ہی یہ عمل مانا جا سکتا ہے۔ نہ رسول الله ﷺ کے دانت ٹوٹے اور نہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے اپنے توڑے۔

تحریر":
أحقر: سيد علي أصدق نقوي
اللهم صل على محمد ﷺ وآله

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں