خود تنقیدی

copied

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

*:: خود تنقیدی ::*

زندہ قوموں کی بعض خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ماضی اور حال پر تنقید کرتی رہتی ہیں۔ تنقید کرنے کا شوق ہر انسان کو ہوتا ہے لیکن عموماََ ایک فرد دوسرے فرد یا افراد پر تنقید کرکے خوش ہوتا ہے اور ایک قوم دوسری قوم پر تنقید کرکے خصوصا اُس کے عیوب کی نشان دہی کرکے خوش ہوتی ہے۔ تنقید ہر صورت میں ایک اہم خواہش ہے لیکن بہترین اور سب سے زیادہ مُفید تنقید وہ ہوتی ہے جو دوسروں پر نہیں، بلکہ خود اپنے آپ پر کی جائے۔ دوسروں کا محاسبہ کرنے کے ساتھ خود اپنی قوم کا محاسبہ کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اپنی ذات کو تنقید کا موضوع یا نشانہ بنانا مشکل ہوتا ہے اس لئے عموماََ افراد اور قومیں خود تنقیدی سے احتراز کرتی ہیں لیکن کسی قوم کےذہنی طور پر "بالغ" (MATURE) ہونے کی نشانی یہ بھی ہےکہ وہ خود اپنے آپ کو، اپنے ماضی اور حال کو تنقید کا موضوع بنائے اور اگر خود میں کوئی خامی نظر آئے تو اِس کی ذمہ داری دوسرے افراد یا کسی دوسری قوم پر ڈالنے کی بجائے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ اس شکست و ریخت میں خود اس کا اور اُس کی قوم کے دیگر افراد کا کیا حصہ ہے۔ اس قسم کی تنقید محض ایک ذہنی ورزش نہیں ہوتی۔ زندہ قومیں اِس قسم کے تجزیے اور تنقید سے اہم نتائج اَخذ کرتی ہیں اور ماضی وحال کی خامیوں اور غلطیوں کو سمجھ کر مستقبل کیلئے صحیح راستے تلاش کرتی ہیں۔ وہ کوشش کرتی ہیں کہ اگر تاریخی عوامل نے انہیں شکست و زوال کی منزل پر کھڑا کردیا ہے تو وہ مزید تباہی کا راستہ اختیار نہ کریں، بلکہ نئی راہیں تلاش کریں۔ مملکت روما خصوصاََ اپنے زوال کے دور میں علم و حکمت میں کم دلچسپی رکھتے تھے اور سپہ گری، فنون لطیفہ، شاعری، خطابت، موسیقی، فن تعمیر اور کھیل تماشے کی طرف زیادہ راغب ہوگئے تھے۔

(قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ،  مصنف : آغا افتخار حُسین، صفحہ :11،ناشر: مجلس ترقی ادب، لاہور، سال نشر: 2014ء طباعت پنجم)

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں