میں ابن تیمیہ سے نفرت کیوں کرتا ہوں؟
تحریر محمد عامر حسینی ( عامر بھاہی میرے سنی دوست ہیں )
میں ابن تیمیہ سے نفرت کیوں کرتا ہوں؟
میں نے ابن تیمیہ سے شدید نفرت اور کراہت اس وقت محسوس کی تھی جب میں اس کی کتاب "منھاج السنّہ " پڑھ رہا تھا۔ابن تیمیہ نے یہ کتاب کیوں لکھی تھی شاید بہت سے لوگوں کو پتا نہ ہو۔میں ان کو بتاتا ہوں۔ ایک شیعہ عالم جمال الدین یوسف بن حسن ابن المطاہر تھے جو کہ الحلّی کے نام سے مشہور تھے انھوں نے ایک کتاب " منهاج الكرامة في إثبات الإمامة" کے نام سے لکھی تھی اور اس کتاب میں ابن المطاہر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل میں وارد احادیث شامل کی تھیں۔اور بہت تفصیل سے اس پہ لکھا تھا۔اس کتاب کے رد میں ابن تیمیہ نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان اس نے دیا:
منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة والقدرية
مختلف مذاہب و مسالک کے لوگ ایک دوسرے کے نظریات کے رد اور رد الرد میں کتابیں لکھتے ہی رہتے ہیں۔اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔لیکن ابن تیمیہ اس کتاب میں سب ہی حدود سے تجاوز کرگیا۔اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان مبارکہ میں وارد ان احادیث کو بھی موضوع اور گھڑی ہوئی قرار دے ڈالا جو یہاں تک کہ سنن ابی داؤد،سنن ابن ماجہ ،سنن ترمذی اور سنن نسائی میں وارد ہوئی تھیں۔اور طبقات ابن سعد میں وہ ذکر ہوئی تھیں۔ابن تیمیہ نے من کنت مولاہ ،انا مدینۃ العلم سمیت مشہور اور تواتر کو پہنچی ہوئی احادیث کو رد کردیا۔اسی منھاج السنّہ میں ابن تیمیہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلیفہ بننے کے طریق کار تک پہ اعتراض کیا اور اشاروں و کنایوں سے آپ کی پوزیشن کو جمل و صفین کی جنگوں میں اور قصاص حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ بارے آپ کے موقف کو کمتر بناکر دکھانے کی کوشش کی۔اور اس نے حضرت عثمان غنی کی شہادت کا ملبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پہ ڈالنے کی کوشش کی۔
ابن تیمیہ یہ سب کچھ کیوں کررہا تھا۔اصل میں اس زمانے میں منگول جو مسلمان ہوگئے تھے کے اندر اسلام بارے جاننے کا بڑا جوش و خروش پیدا ہورہا تھا اور یہ منگول ،وسط ایشیائی اقوام اور افریقی اقوام کے اندر مسلمان ہونے والوں کی اکثریت یا تو صوفی سنّی اسلام کی طرف راغب تھی یا وہ شیعہ اسلام کی طرف راغب ہورہی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر بنو امیہ کے نام نہاد اسلام بے نقاب ہورہا تھا۔اس زمانے میں علی شناسی عام مسلمانوں میں تیزی سے بڑھ رہی تھی۔یہ جو صوفی عامۃ الناس کا اسلام تھا یہ سماج کے اندر رہنے والے یہودی،قبطی عیسائیوں،شامی کرسچن اور دیروزی شیعہ وغیرہ سے مل جل کر رہتے تھے اور باہم بھائی چارہ ترقی پارہا تھا۔یہ صورت حال ابن تیمیہ کو ایک آنکھ نہیں بھارہی تھی۔
اسے یہ بات کسی طور قبول نہیں تھی کہ خانوادہ اہل بیت اطہار کے بارے میں عوام کے اندر شناسائی اور معرفت بڑھتی جائے۔اس نے شیعہ مخالفت کے نام پہ دراصل حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم و دیگر آئمہ اہل بیت اطہار کے خلاف ایک بڑی تحریک کھڑی کی۔ابن تیمیہ اور اس کے شاگردوں کی اکثریت نے اس کو پروان چڑھایا۔اور بعد میں محمد بن عبدالوہاب اور یہاں برصغیر پاک و ہند میں پہلے شاہ اسماعیل اور سید احمد کی تحریک جہاد اور پھر دارالعلوم دیوبند کے اندر ایک گروہ ابن تیمیہ کی اس اہل بیت دشمنی کا علمبردار بن گیا اور اس نے آج سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کی شکل میں باقاعدہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرلی ہے۔اور دارالعلوم دیوبند کی مین سٹریم اس کے آگے ڈھیر ہوگئی ہے۔مروان کو سیدنا کہا جارہا ہے۔یزید کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے دور خلافت سے لیکر آخری امام تک کے بارے میں ایک منفی تحریک چلائی جارہی ہے۔اور اس تحریک میں ان سب کا سب سے بڑا نظریہ ساز ابن تیمیہ ہی ہے۔
ابن تیمیہ بغض اہل بیت میں اسقدر ڈوبا ہوا تھا کہ اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قاتل لعنتی ابن ملجم کو خطائے اجتہادی کا مرتکب قرار دیا۔اس نے ذھری کو امام جعفر صادق سے بڑا عالم قرار دے ڈالا۔اور علامہ حلّی کو مخاطب کرکے کہا کہ حضرت علی کی حمایت میں غزوات کے باب میں جو بھی آیا ہے وہ جھوٹ ہے۔اور اسے بڑے جھوٹ میں سے شمار کیا اور کہا اس بات سے اتفاق وہی نہیں کرے گا جو اسلام کی معرفت نہیں رکھتا۔اور کہا کہ حضرت علی نے نہ تو کفار سے قتال کیا اور نہ ہی شہر فتح کئے اور وہ تو اہل قبلہ کے درمیان توار اٹھانے والے تھے۔
إن في خروج الحسين حصل من الفساد مالم يكن حصل لو قعد في بلده بل ازداد الشر بخروج الحسين
بے شک خروج حسین کا حاصل فساد تھا اور یہ فساد واقع نہ ہوتا اگر وہ اپنے شہر میں بیٹھا رہتا اور خروج حسین نے شر میں اضافہ کردیا
يقول بحق علي وليس علينا أن نبايع عاجزا عن العدل علينا ولا تاركا له فأئمة السنة يعلمون أنه ما كان القتال مأمورا به لا واجبا ولا مستحبا ولكن يعذرون من اجتهد فأخطأ.
أن الزهري كان أعلم بالسنة النبوية من الإمام جعفر الصادق... فتصور.
يقول ابن تيمية مخاطباً العلاّمة الحلي: كل ما جاء في مواقف علي في الغزوات كلّ ذلك كذب، قد ذُكر في هذه من الأكاذيب العظام التي لا تتفق إلا على من لم يعرف الإسلام.
أن عليا لم يقاتل كفار ولا فتح أمصار وإنما كان السيف بين أهل القبلة
منهاج السنة ج4 ص530
منهاج سنته ج4 ص 384
منهاج سنته ج4 ص500.
منهاج سنة ابن تيمية ج2 ص459.
منهاج لابن تيمية ج2 ص460.
منهاج السنة ج8 ص97.
منهاج السنة، 1 ص546.
منهاج سنته من ج2 ص62.
Comments
Post a Comment