قرآن و حدیث پاک کے خلاف *حدیث عشرہ مبشّرہ کی حقیقت*

🚩🚩🚩🚩🚩
قرآن و حدیث پاک کے خلاف
*حدیث عشرہ مبشّرہ کی حقیقت*

اہل سنت کے امام احمد بن حنبل اپنی کتاب مسند (ج۱ ص۱۹۳) میں اپنی سند کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا

”ابوبکر فی الجنة وعمر فی الجنة وعلی فی الجنة۔۔۔الخ“۔ ”ابوبکر ،عمر ،علی ،عثمان ،طلحہ و زبیر،عبدالرحمن بن عوف،سعد بن ابی وقاص،سعید بن زید ابوعبیدہ جراح“۔
اہل سنت حضرات اس گھڑی ہوئی حدیث کو بڑی اہمیت دیتے ہیں حتٰی کہ ان دس آدمیوں کے نام ”عشرہ مبشرہ“کے عنوان سے تختیوں پر کندہ کر کے مقدس، مقامات جیسے مسجد نبوی میں نصب کر رکھے ہیں
یہ کس طرح جائز ہے کہ ایک جنتی دوسرے جنتی سے جنگ کرے طلحہ اور زبیر حضرت عائشہ رض کے پرچم تلے بصرہ آ کر حضرت علی علیہ السلام سے جنگ لڑیں جب کہ یہ لوگ جنتی تھے اور یہ جنگ جمل بہت سے لوگوں کے قتل کا سبب بنی اور قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
”وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا“
”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تو اس کی جزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا
اس آیت کے پیش نظر جو لوگ بھی جنگ جمل میں لوگوں کے قتل کا سبب بنے انھیں جہنمی ہونا چاہئے اور اب یہ چاہے علی علیہ السلام ہوں یا طلحہ و زبیر ہوں لہٰذا اس جنگ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ حدیث صحیح معلوم نہیں ہوتی۔
لہٰذا یہ حدیث خلافِ قرآن ھے ۔ اور ہرخلافِ قرآن حدیث موضوع من گھڑت اور جھوٹی ھے ۔
اور مولا علی علیہ السّلام کے خلاف جنگ کرنے والے کیسے جنّتی ہو سکتے ہیں جب کہ فرمانِ رسول صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ھے کہ ”یا علی حربک حربی وسلمک سلمی“۔
”اے علی !تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور تمہاری صلح میری صلح“۔اور اسی طرح آپ ص نے یہ بھی فرمایا ہے
”من اطاع علیاً فقد اطاعنی ومن عصا علیا ً فقد عصانی ۔“
”جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی“۔
اور اسی طرح آپ ص نے فرمایا
علی مع الحق والحق مع علی یدور الحق معہ حیثما دار“۔
”علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے حق ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے وہ جیسے بھی چلیں“۔
اس بنا پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسمائے مذکورہ میں ایک طرف حق ہے اور وہ علی علیہ السلام کی ذات ہے اور حدیث ”عشرہ مبشرہ “محض جھوٹ ہے کیونکہ باطل کے طرفداروں کو جنت نصیب نہیں ہو سکتی۔
دوسری بات یہ کہ عبد الرحمن بن عوف خود اس حدیث کا راوی ہے جو خود ان دس جنتی افراد میں شامل ہے اور یہ وہی عبدالرحمن ہے جس نے حضرت عمر کی وفات کے بعد شوریٰ تشکیل ہونے کے دن علی علیہ السلام پر تلوار تان لی تھی اور ان سے کہا تھا: ”بیعت کرو ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا“، یہی وہ عبدالرحمن ہے جس نے عثمان کی مخالفت کی اور عثمان نے اسے منافق کہہ کر یاد کیا ، کیا یہ تمام چیزوں مذکورہ روایت سے مطابقت رکھتی ہیں؟
اور کیا عبد الرحمن ان دس افراد میں شامل ہوسکتا ہے جن کو جنت کی بشارت دی گئی
کیا طلحہ و زبیر حضرت عثمان کے قتل پر مصر نہ تھے ؟
کیا یہ دونوں اس امام کی اطاعت سے خارج نہیں ہو گئے جس کی اطاعت واجب قرار دی گئی تھی؟
کیا ان دونوں نے جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کے مقابل تلوار نہیں چلائی؟
اس کے علاوہ ان دس لوگوں میں صرف سعد بن وقاص نے اس حدیث کی تصدیق کی ہے اور جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ عثمان کو کس نے قتل کیا تو وہ جواب میں کہتا ہے۔”عثمان اس تلوار سے قتل کئے گئے جسے حضرت عائشہ رض نے غلاف سے باہر نکالا طلحہ نے اسے تیز کیا اور علی نے زہر میں بجھایا تھا
کیا آپس کی ان تمام مخالفت اور منافقت کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب لوگ جنتی ہیں؟
ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔
اور خود یہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی مخدوش اور مردود ہے کیونکہ اس کی سند عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن وقاص میں سے کسی ایک پر تمام ہوئی ہے اور روایات میں عبدالرحمن کی سند کا سلسلہ بھی متصل نہیں ہے لہٰذا یہ اپنے اعتبار سے گر جاتی ہے
آئیے اب اسی حدیث کا ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لیتے ہیں
*خاندان بنو ہاشم علیہ السلام کے قاتلوں ، دشمنوں پر لعنت*
🚩🚩🚩🚩🚩

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں