ظہور سے قبل سخت قسم کا تغربل ہو گا اور کیا یہ تغربل پہلے بھی کبھی ہوا ہے
*** *ظہور سے قبل سخت قسم کا تغربل ہو گا اور کیا یہ تغربل پہلے بھی کبھی ہوا ہے ؟ نیز ہمارے زمانے میں 6 جولائی کو تغربل کی ایک اہم مثال* ***
جابر جعفی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت امام جعفر صادق (ع) سے دریافت کیا کہ آپ کا دور اقتدار کب آئے گا ؟
امام نے فرمایا:
*ھیھات ھیھات لایکون فرجنا حتی تغربلوا ثم تغربلوا ثم تغربلوا حتی یذھب الکدر و یبقی الصفوا*
"افسوس، افسوس ہمارا دور فرج (اقتدار) اس وقت تک نہ آئے گا جب تک کہ تم لوگوں کو (اس طرح) سے چھان نہ لیا جائے (جس طرح چھلنی میں اناج چھانا جاتا ہے) پھر چھان لیا جائے، پھر چھان لیا جائے اس وقت تک کہ گرد و غبار وغیرہ سب دور ہو جائے اور وہ صاف و شفاف ہو جائے۔"
(غیبتہ، شیخ طوسی، جلد 1، صفحہ # 361 ، روایت # 287، طبع قم)
اس روایت میں *تغربل* کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مصباح اللغات کے مطابق اس لفظ کا مطلب چھلنی سے چھاننا ہے۔
یہ لفظ امام علی (ع) نے بھی اپنے خطبے میں استعمال فرمایا ہے۔ جس وقت امام علی (ع) کی بیعت مدینہ میں کی جا رہی تھی اس وقت آپ نے لوگوں کو ان کے مستقبل سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
*الا و انا بلییتکم قد عادت کھئیتھا یوم بعث اللہ نبیہ (نبیکم) و الذی بعثہ بالحق لتبلبلن بلبلتہ، ولتغربلن غربلتہ، ولتساطن سوط القدر۔۔۔۔۔۔*
"آگاہ ہو جاو آج تمھارے لئے وہ آزمائشہ دور پلٹ آیا ہے جو اس وقت تھا جب پروردگار نے اپنے رسول کو بھیجا تھا۔ قسم ہے اس پروردگار کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا کہ تم سختی کے ساتھ تہہ و بالا کئے جاو گے۔ *تمہیں باقاعدہ چھانا جائے گا* اور دیگ کی طرح چمچے سے الٹ پلٹ کیا جائے گا۔۔۔۔۔
(نہج البلاغہ، خطبہ # 16، موضوع: جس وقت آپ کی مدینہ میں بیعت کی گئی)
امام زمان (عج) کے ظھور سے قبل سخت قسم کا *تغربل* (چھانا جائے گا) ہو گا۔ جس وقت امام علی (ع) حکومت حاصل کر لیں اس وقت بھی *تغربل* ہو گا۔
سوال یہ ہے کہ یہ *تغربل* جس کے متعلق امام صادق (ع) تین مرتبہ فرما رہے ہیں یہ کیسے ہو گا ؟ امام علی (ع) کے دور میں تغربل اس طرح سے ہوا کہ جس وقت امام علی (ع) کھلے دشمن معاویہ سے لڑنے کے لئے پہنچے تو عین کامیابی کے موقع پر امام کے لشکر کے اندر چھپے ہوئے بے بصیرت آستین کے سانپوں نے امام کو جنگ روکنے پر مجبور کر دیا جس سے امام کو جیتی ہوئی جنگ روکنا پڑ گئی۔
لیکن امام صادق فرما رہے ہیں کہ یہ تغربل امام زمان کے ظہور سے پہلے بھی ہو گا۔ ایک تغربل تو ہم نے 6 جولائی کو لاہور میں دیکھ لیا۔ یہ وہ طبقہ ہے جس نے رہبر معظم کے خلاف محاذ کھولنے کا ارادہ اس وقت کیا ہے جس وقت رہبر معظم نے صدیوں بعد آل یزید داعش کو شام و عراق میں زلت آمیز شکست سے دوچار کیا ہے۔ رہبر معظم نے اس دور میں حضرت عباس (ع) کے بیٹے بن کر سیدہ زینب (س) کے خیمہ کی حفاظت کا کامیابی سےمعجزانہ کارنامہ انجام دیا۔
اسی وجہ سے آل سعود سے لے کر آل شیطان امریکا تک تمام شیاطین بلبلا اٹھے کیونکہ یہ شیاطین تو شیعہ رہبری کو کربلا کی خاک میں ٹکڑے ٹکڑے کر چکے تھے اور انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ جس مکتب کی رہبری کے نظرئے کو انہوں نے کربلا کی خاک میں گھوڑوں کے سموں تلے روندھا ہے اسی خاک سے اور اسی امام حسین کی نسل سے رہبر معظم آ کر ان سب لعین لوگوں کو تاریخ ساز شکست سے دوچار کر دینگے۔
لہذا شیاطین کی شکست کے بعد تغربل شروع ہوا۔ لوگ چھاننے سے گزارے گئے۔ ولایت و حسینیت کے چھاننے سے گزر کر دو طرح کے گروہ سامنے آ گئے:
1۔ ولائی و حسینی و فاطمی و کربلائی و حقیقی عزادار گروہ۔ جس نے صفین کی طرح سختی سے اپنے رہبرکا دامن تھاما اور دشمن کی کسی بھی چال کا نہ تو حصہ بنا اور نا ہی شکار ہوا
2۔ گند کچرہ اور کوڑا۔ جس نے صفین ہی کی طرح کبھی قرآن نیزوں پر اٹھتے دیکھ کر تو کبھی جعلی ولایت اور جعلی عزاداری کے بھیس میں امامت و ولایت کو نقصان پہنچانا چاہا۔ یہی وہ ٹولا ہے جو ہمیں 6 جولائی کو قصر بتول میں نظر آیا۔
کیونکہ شیعت میں جب بھی تغربل ہوتا ہے تو شیعت کے اندر چھپا ہوا یہ گند کچرہ اور کوڑا ہمیشہ سے دشمن کا آلا کار بن کر رسوا ہونے کے لئے سامنے آتا ہے۔ ان لوگوں کو کسی بات کی پرواہ نہیں ہوتی۔
اگر ان کو آل محمد سے زرے برابر بھی کوئی محبت ہوتی تو کیا اس گند کوڑے نے نہیں دیکھا کہ کتنے سال یہ لوگ شام کی زیارات پر صرف اس لئے نہیں جا سکے کیونکہ شام میں رہبر کی فوج کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ اور آج شام میں رہبر کی فوج الحمداللہ کامیاب ہو گئی تو یہ لوگ شام زیارات پر جا رہے ہیں۔ کس منہ اور کس ضمیر کے ساتھ یہ لوگ اب شام جائیں گے ؟
پس جیسے جیسے کھلا دشمن شیعہ ولائی و حسینی رہبری سے ذلت کھاتا رہے گا ویسے ویسے یہ تغربل بھی کھل کر ہوتا جائے گا اور چھاننا بھی تیزی سے چلنے لگ جائے گا اور خالص لوگ اور گند کچرہ و بھنگی و چرسی کوڑا علیحدہ ہوتا جائے گا۔۔۔۔۔۔
فرزندان رہبر
Comments
Post a Comment