اہل قبور کی ضروریات

*•××┈┈•┈┈•⊰🌹🕋🌹⊱•┈┈•┈┈×ו*                                                                                              
*اہل قبور کی ضروریات*
           علامہ مجلسی (رح) نے زاد المعاد میں فرمایا ہے کہ مرنے والوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ خود تو اعمال خیر انجام نہیں دے پاتے وہ صرف اپنی اولاد رشتہ داروں اور مومن بھائیوں سے آس لگائے ہوئے ہیں اور ان کی نیکیوں کیلئے چشم براہ ہیں پس خاص طور پہ *نماز تہجد* ، *فریضہ نمازوں کے بعد* اور *مقامات مقدسہ کی زیارت* کے موقعہ پر ان کیلئے دعا کرنا چاہیے اور *والدین کیلئے دوسروں سے کچھ زیادہ دعا کرنا چاہیے* نیز ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے چاہیے ایک اور روایت میں آیا ہے کہ بہت سی اولادیں ایسی ہوتی ہیں کہ والدین کی موجودگی میں ان کی نافرمان ہوتی ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے کے باعث فرماں بردار بن جاتی ہیں اور اسی طرح بہت سی اولادیں ایسی ہیں جو والدین کی زندگی میں ان کی فرمان بردار ہوتی ہیں۔
لیکن ان کے مرنے بعد ان کے لئے اعمال خیر بجانہ لانے یا کم بجا لانے سے نافرمان ہو جاتی ہیں اپنے فوت شدہ والدین اور رشتہ داروںکے لئے سب سے بہتر اور عمدہ نیکی یہ ہے کہ ان کے واجب قرضے ادا کیے جائیں اور انہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد سے چھٹکارا دلایا جائے اور ان پر حج یا دوسری عبادات کی جو ادئیگی واجب تھی وہ خود یا اجرت دے کر ادا کرائی جائے صحیح حدیث میں منقول ہے کہ *حضرت امام جعفر صادق*  ہر شب اپنے فرزند کیلئے اور ہر روز اپنے والدین کیلئے دو رکعت نماز پڑھتے تھے کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ قدر اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ کوثر پڑھا کرتے تھے صحیح سند کے ساتھ *حضرت امام جعفر صادق* سے منقول ہے کہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک میت تنگی اور سختی میں ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آسائش وکشائش عطا کردیتا ہے پھر میت سے کہا جاتا کہ تجھے یہ آسانی اس لئے میسر آئی کہ تیرے فلاں مومن بھائی نے تیرے لئے نماز پڑھی ہے راوی نے پوچھا آیا ایک نماز میں دو میتوں کو بھی شریک کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا۔
ہاں ؛ایسا کیا جاسکتا ہے پھر فرمایا کہ میت کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور وہ *دعا* اور *استغفار* کی وجہ سے مسرور ہوتی ہے جو اس کے لئے کی جاتی ہے اسے ویسے ہی خوشی ملتی ہے جیسے زندہ شخص کو ہدیہ سے خوشی ہوتی ہے نیز فرمایا کہ میت کیلئے نماز، روزہ، حج، صدقات، دوسرے جو بھی اعمال خیر بجا لائے جائیں اوراس کیلئے دعا کی جائے ان تمام چیزوں کا ثواب قبر میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے یہ ثواب میت کے لئے بھی لکھا جاتا ہے اور میت کے لئے اعمال بجا لانے والے شخص کیلئے بھی لکھا جاتا ہے ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں کہ جو مسلمان کسی مرنے والے کیلٸے کوٸی نیک عمل انجام دیتا ہے اللّٰہ اس کے ثواب کو دگنا کر دیتاہے ۔اور مرنے والا اس سے فاٸدہ اٹھاتا رہتا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب کوٸی شخص کسی مرنے والے شخص کیلٸے صدقہ کرتا ہے تو حق تعالیٰ حضرت جبراٸیل ع کو حکم دیتا ہے تو وہ ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ اس کی قبر میں جاتے ہیں جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں نعمت الٰہیہ کا طبق ہوتا ہے ۔ہر فرشتہ اس کو *السلام علیک یا ولی اللّٰہ* کہتا ہے اور بتاتا ہے کہ اے خدا کے بندے تمہارے لیٸے یہ ہدیہ فلاں مٶمن نے بھیجا ہے ۔اس کی قبر منور ہو جاتی ہے اور حق تعالٰی اس کیلٸے بہشت میں ایک ہزار شہر عطا فرماٸے گا حوروں سے اس کا ازدواج کرے گا ۔اور ایک ہزار پوشاکیں پہناٸے گا اور اس کی ایک ہزار حاجات پوری ہوں گی ۔

*•┈┈•┈┈•⊰✿دین شناسی✿⊱•┈┈•┈┈•*
              *•┈┈•┈┈•⊰🕌⊱•┈┈•┈┈•*

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں