لَاْتَجّ٘سَسوُا ۔ ۔ ۔ کھوج نہ لگاؤ*
🎋
*لَاْتَجّ٘سَسوُا ۔ ۔ ۔ کھوج نہ لگاؤ*
ڈاکٹر حسام الدین آشنا نے اپنی یادداشت میں لکها:
تقریبا بیس سال پہلے ہمارا گھر 17 شہریور (تہران کے ایک علاقہ) میں واقع تھا اور ہم اپنے محلہ کی مسجد میں نماز جماعت, عزاداری, محافل جشن وغیرہ کے لئے جایا کرتے تهے- مسجد کے پیشنماز شیخ حاج آقا ہادی صاحب تھے کہ جو سب کے لئے مورد اعتماد و معتمد شخص تهے-
میں ایک روز مغربین کی نماز کے لئے مسجد گیا اور جب وضو کرنے کے لیے نیچے کی منزل پر پہنچا تو بیت الخلاء جانے کے لئے منتظر تها کہ اتنے میں ایک بیت الخلاء کا دروازہ کھلا اور جناب ہادی صاحب باہر نکلے,
ہماری آپس میں سلام و دعا ہوئی اور جناب ہادی صاحب وضو کئے بغیر وہاں سے چلے گئے- مجھے بڑی حیرت ہوئی اور میں یہ دیکهنے کے لئے ان کے پیچھے پیچھے گیا کہ جناب کہاں وضو کریں گے اور پهر کمال تعجب سے میں نے دیکھا کہ جناب ہادی صاحب بغیر وضو کئے ہوئے محراب میں داخل ہوئے اور فورا اذان و اقامت کہنے کے بعد نماز پڑھانا شروع کردی اور تمام لوگوں نے بھی جناب کی اقتداء کی-
میرا تو دماغ بالکل چکرا گیا تھا جلدی سے اپنے پڑوسی حاج علی کے پاس گیا اور کہا:
جناب ہادی صاحب کا وضو نہیں ہے! میں نے خود, ان کو بیت الخلاء سے باہر نکلتے دیکھا اور پهر انہوں نے وضو نہیں کیا-
حاج علی کو مجھ پر مکمل اعتماد تھا حیرت سے کہنے لگے:
اچھا ٹھیک ہے, فرادا پڑھ لیتا ہوں-
یہ ماجرا متدین حضرات کے درمیان پھیل گیا, میں اور میرے تمام دوستوں نے اللہ کی رضا کی خاطر جناب ہادی صاحب کے وضو نہ کرنے والے قصہ سے سب کو آگاہ کردیا اور مامومین آہستہ آہستہ جناب ہادی کے اطراف سے متفرق ہوگئے
یہاں تک کہ چند دن کے بعد جناب کے اہل خانہ بھی باخبر ہوگئے-
ان کی بیوی ناراض ہوکر اپنے میکہ چلی گئ, ان کے بچوں نے بھی اس بے عزتی کے سبب اپنے باپ کو ترک کردیا-
سب جگہ جناب ہادی کے مشکوک ہونے کا قصہ گردش میں تھا کہ آیا اصلاً یہ شخص مسلمان بھی ہے ؟؟ آیا جاسوس ہے ؟؟؟ آیا .....
جناب ہادی نے کچھ عرصہ بعد ہمارا محلہ چهوڑ دیا اور پھر ان کی کوئی خبر نہیں تهی,
اس واقعہ کے دو سال بعد, میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ سے مشرف ہوا اور مکہ میں آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے بیمار ہوگیا-
واپس ہونے کے بعد ڈاکٹر کو دکھایا اور ڈاکٹر نے میرے لئے دوا اور انجکشن تجویز کئے -
اگلے دن نماز کے لئے جاتے ہوئے سوچا کہ راستے میں انجکشن بھی لگوا لونگا
انجکشن لگواکر مسجد گیا اور چونکہ ابھی نماز کا وقت نہیں ہوا تھا اس لئے بیت الخلاء گیا تاکہ انجکشن کی جگہ کو پاک کرلوں-
بیت الخلاء سے باہر نکلتے ہوئے, ناگہان مجهے جناب ہادی کا خیال آیا اور میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چهاگیا, سب چیزیں میرے چاروں طرف تیزی سے گھومنے لگیں جیسے پہاڑ میرے سر پر آن گرا-
کہیں ایسا تو نہیں وہ بیچارہ انسان بھی انجکشن کی جگہ پاک کرنے گیا ہو!
کہیں ایسا تو نہیں ?!
کہیں ایسا تو نہیں ?!
پھر مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا-
واپس گھر آگیا
صبح تک نیند نہیں آئی اور جناب ہادی کے بارے میں سوچتا رہا کہ کس طرح سے میں اور میرے نادان دوست اور مجھ سے زیادہ نادان و کم عقل متدین لوگوں نے, نا سمجھی میں قربت کی نیت سے ان کی حیثیت, عزت و آبرو کو خاک میں ملادیا ..... ان کے گھر کو تباہ کردیا!
اگلے دن سے, بدحواسی کے عالم میں, میں نے جناب ہادی صاحب کی تلاش شروع کردی -
حاج ابراہیم کے پاس گیا اور ان سے کہا:
مجهے ضروری کام ہے اس لیے جناب ہادی صاحب کو تلاش کررہا ہوں ،
وہ کہنے لگے: بازار حضرت عبدالعظیم میں ان کے ایک دوست حاج احمد تھے اور وہ کبھی کبھی ان سے ملاقات کے لئے جایا کرتے تهے- حاج احمد عطاری میں مشغول تهے-
وہاں سے فورا بازار شاہ عبدالعظیم گیا اور میں نے دیکھا ایک بزرگ قرآن کی تلاوت میں مصروف ہیں- میں نے سلام کیا اور جناب ہادی کے بارے میں پوچھا ،
انھوں نے مہربانی سے میرے سلام کا جواب دیکر بتایا کہ :
دوسال پہلے جناب ہادی بہت زیادہ پریشان و غمزدہ اور اجڑی بکھری حالت میں میرے پاس آئے تهے, میں نے کبھی بھی اس طرح ان کو نہیں دیکھا تها- مجھے بہت تعجب ہوا اور میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے:
*میں انجکشن کی وجہ سے بیت الخلاء طہارت کے لیے گیا تها اور متدین حضرات نے بجائے مجھ سے معلوم کرنے کے مجھ پر الزام لگایا کہ بغیر وضو کئے نماز پڑهی, خلاصہ حاج احمد ان لوگوں نے میری عزت و آبرو خاک میں ملادی, میرے گھر کو برباد کردیا اس شہر میں میری کوئی عزت باقی نہیں چھوڑی ، میں اس شہر میں نہیں رہ سکتا, بس آپ گواہ رہیں کہ میرے ساتھ ان لوگوں نے کیا کیا-* اس کے بعد کہنے لگے: *میں یہ شہر چھوڑ کر عراق جارہا ہوں اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حرم میں مجاوری کروں گا اور باقی عمر وہیں گزاروں گا-*
وہ چلے گئے اور اس دن سے مجھے ان کی کوئی خبر نہیں ہے....
ناگہان میرا دل امڈا اور آنسو بہنے لگے کہ اے میرے خدا !
میں یہ کس غلطی کا مرتکب ہوگیا ہوں!
اور اب اس واقعہ کو تقریبا 20 سال ہوگئے ہیں اور جو بھی نجف اشرف جاتا ہے میں اس سے جناب ہادی کا پوچھتا ہوں لیکن افسوس مظلوم ہادی صاحب کی کوئی خبر نہیں ہے-
دوستو! ہم ہر روزانہ کتنے لوگوں کی عزت و آبرو خاک میں ملاتے ہیں ?
ایک جملہ سے, کتنی زندگیوں کو نابود کرتے ہیں ?
*جبکہ خدا کہتا ہے' تجسس نہ کرو*
*دوسروں کی کھوج نہ لگاؤ .... !*
👆🏻 فارسی سے ترجمہ
محتاج دعا
غلام مصطفیٰ انصاری فاضل دمشق شام
Comments
Post a Comment