التوسل بالنداء یا بالاستغاثہ
*التوسل بالنداء یا بالاستغاثہ*
(قرآن و حدیث کی روشنی میں)
قسط # *دوم*
تحریر # *سید نادر حسین نقوی*
قرآن مجید میں سورہ یوسف کی آیت ۹٧ میں ارشاد قدرت ہوتا ہے :
*" انہوں (بیٹوں) نے کہا اے ہمارے باپ (خدا سے) ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کرے یقیناً ہم خطا کار ہیں . آپ نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو گا بےشک وہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے"*
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے آیت اللہ محسن قرانتی اپنی تفسیر یوسف میں لکھتے ہیں :
*" گناہوں کی بخشش کے لیے اولیاء الہی سے توسل جائز ہے"*
(تفسیر یوسف صفحہ 499 )
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مرجع تقلید آیت اللہ اعظمی الشیخ محمد حسین نجفی صاحب اپنی تفسیر فیضان الرحمان میں لکھتے ہیں :
*" ظاہر ہے کہ جب آپ خود بھی ان کو معاف کرے گے تو خدا سے ان کی مغفرت کی سفارش کرے گے برادران یوسف کی اس درخواست سے جہاں اقرار جرم اور اس کی معافی مانگنا نمایاں ہے وہاں وسیلہ کا ثبوت بھی واضح ہوتا ہے خود اللہ سے مغفرت طلب کرنے کی بجائے اپنے والد کو وسیلہ بنا رہے ہیں کہ آپ ہمارے لئے خدا سے گناہوں کی بخشش کی دعا کرے اور ہماری سفارش کرے. یہ بات بلکل ایسی ہے جیسی خدا پیغمبر اسلام کے بارے میں فرماتا ہے کہ " جب ان لوگوں نے (گناہ کر کے) اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا اگر وہ آپ کے پاس آ جاتے اور اپنے گناہوں کی اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور (اے پیغمبر) تو بھی ان کی سفارش کر دیتا تو وہ یقیناً اللہ کو بڑا توبہ قبول کرنے والا (اور) بڑا رحم کرنے والا پاتے" (النساء : 64 ) یہ وسیلہ کے ثبوت میں وہ محکم دلیل ہے کہ جس کا نہ انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اس قسم کی تاویل کی علیل کی جا سکتی ہے جیسی آیت وسیلہ (وبتغوا الیہ الواسیلہ) میں کی جاتی ہے"*
(فیضان الرحمان جلد پنجم صفحہ 55, 56 )
آیت اللہ محمد حسین نجفی صاحب نے واضح الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ یہ آیت وسیلہ کے ثبوت میں ایسی محکم دلیل ہے کہ جس کا نہ انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی اس قسم کی کوئی تاویل علیل کی جا سکتی ہے جیسی آیت وسیلہ میں کی جاتی ہے . مگر بغض جاہل قسم کے لوگ قبلہ نجفی کو بدنام کرنے کے لیے انہی کے نام کا سہارا لے کر وسیلہ شخصی کا انکار کرتے ہیں جب کہ آیت اللہ محمد حسین نجفی صاحب نے اپنی کتاب اصول الشریعہ فی عقائد شیعہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ *" جو کوئی بھی ان ذوات مقدسہ کی وسیلہ و سفارش کی مدد کا منکر ہے وہ ناقص الایمان ہے"* اس کے علاوہ قبلہ صاحب نے یہ بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ *" ان (اہلبیت علیہم السلام) کے وسیلہ و شفاعت کے بغیر کوئی دعا قبول نہیں ہوتی. یہ اور بات ہے کہ خود داعی کو اس بات کا علم نہ ہو"*
(اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ صفحہ 322 )
اس کے علاوہ قبلہ نجفی نے اصول الشریعہ میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ :
*" امور تکوینیہ میں (خلق , رزق اور اماتت و احیا وغیرہ) میں ائمہ اطہار کو خطاب کر کے ان سے بطور وسیلہ و سفارش مدد طلب کرنا جائز ہے . مثلاً یوں کہنا کہ یا علی (ع) سفارش کر کے مجھے خدا سے اولاد لے دو یا میرا رزق وسیع کرا دو یا میرے بیمار کو شفا دلوا دو یا استدعا کر کے میری فلاں مصیبت دور کرا دو یا شفاعت کر کے میرے گناہ خدا سے بخشوا دو وغیرہ وغیرہ صحیح ہے. یہ طریقہ ادعیہ اہلبیت علیہم السلام میں وارد ہوا ہے"*
(اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ صفحہ 318 )
اب ان لوگوں کو چلوں بھر پانی میں ڈوب کر مر جانا چاہیے جو آیت اللہ محمد حسین نجفی صاحب کا نام استعمال کر کے وسیلہ شخصی کا انکار کرتے ہیں اور اپنے من گھڑہت عقائد ان سے منسوب کر کے عوام الناس کو دھوکہ دیتے ہیں باقی کچھ حضرات جن کے دل و دماغ میں بغض اہلبیت علیہم السلام کوٹ کوٹ کر بھرا ہے وہ ایک بودہ اعتراض کرتے ہیں کہ برادران یوسف نے جب اپنے باپ سے دعا کروا درخواست پیش کی وہ اس وقت زندہ تھے لہذا انہوں نے اللہ تعالی سے ان کی مغفرت کی سفارش کی مگر اب وہ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں اس کا تفصیلی جواب تو ہم آئندہ اقساط میں دے گے لیکن یہاں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ جب جناب علی علیہ السلام نے رسول خدا سے سفارش کی درخواست پیش کی تھی تو اس وقت رسول اللہ بھی اس دنیا میں نہیں تھے (تفسیر پہلی قسط میں گذر چکی ہے) کیا جناب علی علیہ السلام نہیں جانتے تھے کہ اب جناب رسول خدا اس دنیا میں نہیں ہیں اور میرا یہ عمل (معاذاللہ) شرک ہے . حضرت علی علیہ السلام تو جانتے تھے یہ میرا یہ عمل شرک نہیں بلکہ عین اسلام ہے مگر آج کچھ جہلاء کو یہ شیطانی وحی ہوئی کہ یہ عمل شرک ہے. بہرحال ہم اس اعتراض کا تفصیلی جواب آئندہ اقساط میں دے گے
Comments
Post a Comment