اے مجنون حسین ( ع)
اے مجنون حسین ( ع)
آپ کیے عشق، محبت، بہادری و دلاوری، اطاعت و وفاداری کو جس مقام پر بھی جستجو کرتی ہوں. آپکی داستان کربلا پر جاکر ہی ختم ہوتی ہے.
آج مجھ ناچیز نے - - - آپکی داستان حیات کو قلمبند کرنے کرنے کی جرات کی ہے. مگر جب آپ کے لمحہ شہادت کو قلمبند کرنا چاہتی ہوں تو قلم آگے نہیں بڑھتا. ہاتھ لرز جاتے ہیں.
آہ... آپکی داستانِ شہادت بھی کربلا والوں کی مانند - - جانسوز اور رقت بار ہے. 😢
#اے محسن انسانیت - - - اس حقیر نے اس امید پر قلم اٹھایا ہے کہ - - روز محشر - - - دو عالم کی شہزادی - - - شھدا کے واسطے -- - - - مجھ گناھگار کو بھی - - - اپنے مورد لطف عنایت قرار دیں لیں. ( آمین )
❤دل کی بات❤
#شہید_محسن_حججی اپنے کردار سے ہم سب کے لیے حجت بن گیا.
#شھدا کے عقیدت مندو!!!!
یقینا - - - رھبر عزیز کا یہ قیمتی جملہ آپ سب کے ذہنوں میں محفوظ ہوگا
"شہید حججی آج کے جوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں"
#رھبر عزیز نے یہ قیمتی الفاظ ایک ایسے - - - - شیر دلاور کے لیے استعمال کیے ، جس کی شہادت نے انسانیت کو ھلا کر رکھ دیا.
💐 9اگست ایک ایسے جری اور بہادر جوان کا یوم شہادت۔۔جو زمین پر رہتے ہوئے بھی آسمانی تھا.
اس مرد آسمانی کی شھادت نے ایسی دھوم مچائی ، کہ جو اسے نہیں جانتے تھے وہ بھی اسے جاننے کے لیے بے تاب ہوگئے.
🌹جی ہاں!!! شہید محسن حججی جس کی عاشورائی شہادت نے نجانے کتنے راستے سے بھٹکے ہوؤں کو سیدھا راستہ دکھا دیا.
🌟 یہ پچیس سال کا جوان جس کا کہنا تھا کہ !!!!
میں اہلبیت علیہ السلام سے اپنے عشق کی قیمت اسطرح ادا کرنا چاہتا ہوں. کہ جب میں اپنے آقا حسین کی خدمت میں پہنچوں - - - - #میرا بھی پہلو - - - اپنی شہزادی #فاطمہ کی مانند زخمی ہو. #میرے بھی سینے علی #اکبر کی مانند برچھی لگی ہو. میرے بھی بازو #عباس علمدار کی مانند تن سے جدا ہوچکے ہوں. #میرا جسم - - - #قاسم گلبدن کی مانند ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہو.
اور..........
میرا #سر اپنے #سید و سالار کی مانند تن سے جدا ہوچکا ہو.
😔محسن دلاور .
جسے خدا نے ایسا خریدا کہ - - - اہل بیت بھی اس کے عشق کو دیکھ کر میدان میں اتر آئے. اور محبت کی نشانیاں اس جوان کو عطا کردیں.
🌟🌟اے شہید دلاور!!!!
#آپکی شجاعت.#آپکی دلاوری کو کس مقام پر جستجو کروں؟
کیا اسوقت؟
جب آپ نے -- - - وقت رخصت - - - یہ کہہ کر - - - اپنی بہنوں کے بازووں پر بوسے دئیے کہ - - - تمہارا غیور بھائی - - - - اس لیے جارہا ہے کہ کسی بہن کے بازووں پر رسن نہ بندھے.
#کیا اسوقت ؟
جب دشمن کے نرغے میں گر جانے کے باوجود - - - - اپنی شہزادی زینب کے لیے سینہ سپر رہے. اور ھتیار نہ ڈالے.
کیا اسوقت ؟
#جب دشمن - - - آپ کو اسیر کرکے - - - گلی گلی - - - - محلے محلے پھرا رہے تھے.
کیااسوقت ؟
جب #شمر کا خنجر آپ کے گلے پر تھا .دشمن شادیانے بجا رہے تھے. اور آپ کے خشک لب - - - اپنے آقا و مولا کی مانند - - - ایک ہی ورد کررہے تھے.
#الھی رضا برضاک _ صبرا علی قضائک.
قسط اول جاری ہے....
بشکریہ:خواہر قمر فاطمہ نقوی صاحبہ
Join us at:
https://t.me/martyrdom_is_Pride
Comments
Post a Comment