صبح جلدی اٹھو

ایک شخص نے حضرت علی بن ابی طالب (ع) سے سوال کیا کہ کتّے بیک وقت سات سات بچے جنتے ہیں جبکہ بھیڑ بکریاں بیک وقت ایک یا دو یا پھر کبھی تین بچے جنتے ہیں اس کے باوجود بھیڑ بکریوں کی تعداد ہر جگہ کتّوں سے زیادہ ہوتی ہے حلانکہ ہم آئے روز بھیڑ بکریوں کو ذبح بھی کرتے ہیں قربانی کرتے ہیں پھر بھی وہ ہمیشہ کتّوں سے زیادہ ہوتی ہیں!!
حضرت علی ابن ابی طالب(ع) نے فرمایا:
یہی چیز برکت ہے۔
اس شخص نے کہا: برکت بھیڑ بکریوں میں ہی کیوں ہے کتّوں میں کیوں نہیں؟
فرمایا: بھیڑ بکریاں رات کے شروع میں سوتی ہیں اور رحمت(فجر) کے وقت جاگتی ہیں تو برکت کو پالیتی ہیں مگر کتّے ساری رات بھونک کر فجر کے قریب سوجاتے ہیں اور رحمت اور برکت سے محروم ہو جاتے ہیں۔۔۔
میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ رات کو جلد سو اور صبح جلدی اٹھو یہی رزق اور اولاد میں برکت کا ذریعہ ہے۔...
اب ہمیں غور کرنا ہے کہ کہیں راتوں کو دیر تک فیس بک, واٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنے  حصّے کی برکت کو کھو تو نہیں رہے ؟؟؟
SBHR

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں