ایک عالم دین کی ایک بزرگ سے معذرت خواھی!
ایک عالم دین کی ایک بزرگ سے معذرت خواھی!
مفسر قرآن استاد محسن قرائتی کا کہنا ھے:
ایک مرتبہ میں تین جوان شھیدوں کے گھر گیا۔ احوال پرسی کے بعد میں نے کہا:
’’ مجھے وضو کرنا ھے میری رھنمائی فرمائیے! ‘‘
۳ شھیدوں کے بوڑھے باپ نے کہا:
’’ آپ تین سیڑھیاں اتر کر داھنے ہاتھ پر وضو کیلئے تشریف لے جا سکتے ہیں! ‘‘
میں وضو کر کے جونہی مڑا تو دیکھا کہ وہ بوڑھا باپ تولیہ لئے کھڑ اھے۔
بوڑھے والد نے کہا:
’’ آپ کیلئے تولیہ لایا ھوں تا کہ آپ اپنے ہاتھ منہ کو خشک کر لیں!‘‘
میں نے کہا:
’’حدیث ھے کہ اگر وضو کے پانی کو خشک نہ کیا جائے تو اس کا ثواب ۳۰ گنا زیادہ ہو جاتا ھے!‘‘ا
تین شھیدوں کے بوڑھے باپ نے برجستہ جواب دیا:
’’ھمارے پاس یہ بھی حدیث موجود نہیں ھے کہ کہ اگر ایک بوڑھا آدمی گھٹنوں کے درد کے باوجود زحمت کر کے تمھارے لئے تولیہ لے آئے تو اسے شرمندہ کر دو!!‘‘
میں نے از باب شرمندگی و معذرت کہا:
’’ مجھے دین کا علم ضرور ھے لیکن دین کا فھم نہیں ھے!! ‘‘
حوالہ
درس هائے قرآن/حاج آقا #قرائتی
آقا قرائتی نے فرمایا:
ھمیں چاھیے کہ خدا سے فھم دین کا سوال کریں، کیونکہ جنہوں نے اھل بیت(ع) کو قتل کیا انہیں دین کا تو علم تھا لیکن فھم دین نہیں تھا!
Comments
Post a Comment