سوشل میڈیا۔ محاذ جنگ۔
"#StopKillingInKashmir"
ہی لکھنا کیوں ضروری ہے؟
سوشل میڈیا۔ محاذ جنگ۔
انٹرنیٹ نے جہاں دنیا کو ایک مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ وہیں سماجی رسوم و رواج، روابط، آزادی اظہار رائے، تجارت، معاش غرض ہر شعبہ زندگی میں انقلاب پیدا کیا ہے۔ ایسے میں آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سوشل میڈیا بھی ایک جنگی آلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ معروف استاد قاسم علی شاہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دور کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کو ہر شے کے بارے میں ڈیٹا یعنی اعدادوشمار مل جاتے ہیں۔ ہر قسم کی معلومات کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ صحیح فرما تے ہیں، میں چونکہ خود اسی شعبے سے منسلک ہوں لہذا عام زبان میں بہتر بتا سکتا ہوں کہ جہاں بھی آپ کشمیر کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں وہاں کہ
#StopKillingInKashmir #FreeKashmir #SaveKashmir
یا اسطرح کی دیگر عبارات HashTag یعنی # سے شروع کر کے انگریزی میں ہی لکھنا کیوں ضروری ہے۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ جب آپ ایک سمارٹ فون یا کسی بھی مشین سے انٹرنیٹ خصوصا سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو بین الاقوامی ادارے، حکومتیں، مارکیٹنگ سے وابسطہ ادارے، خفیہ ادارے و دیگر آپ کے استعمال چاہے وہ تحریر کی شکل میں ہو، تصاویر ہوں یا ویڈیوز ہوں، کو مکمل طور پہ باریک بینی سے خاص طریقے سے جانچتے ہیں جسے انگریزی میں "Data Analysing" کہا جاتا ہے۔ پھر اس سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور رجحانات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ مثلا کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پس منظر میں مندرجہ ذیل سوالات کا جائزہ لیا جائے گا۔
1۔ کشمیر کا لفظ کتنے لوگوں کی تحریر کا حصہ ہے؟
2۔ ان لوگوں کی عمریں کیا ہیں؟
3۔ وہ کس ملک کے کس شہر سے تعلق رکھتے ہیں؟
4۔ انکی تعلیمی قابلیت کتنی ہے؟
5۔ ان افراد کا حلقہ احباب سوشل میڈیا پہ کتنا وسیع ہے؟
6۔ اس حلقہ احباب میں کتنے لوگ موثر آواز رکھتے ہیں؟
7۔ انکی جنس کیا ہے؟
8۔ ایک دن میں کتنے افراد نے کشمیر پہ بات کی؟
8۔ پھر ان تمام اعداد و شمار کا باقی عام دنوں سے موازنہ بھی کیا جاتا ہے مثلا پچھلے ایک ہفتے میں کشمیر پہ بات کرنے والوں کی تعداد میں کس قدر اضافہ یا کمی ہوئی؟
اور اسطرح کے دیگر سوالوں کا جواب چند منٹوں میں آسانی سے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اور پھر اس معلومات کی روشنی میں حکومتیں، حفیہ ایجنسیاں اور دیگر ادارے اپنا اپنا لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔
ایسے میں سوشل میڈیا کا استمال انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ آپ کا کشمیر کے حق میں لکھا جانے والا ایک ایک لفط، شیئر کی گئی ایک ایک پوسٹ کا کسی حد تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا 50 سال بعد اجلاس بلانے میں اہم کردار ہے۔ یہ سب دیکھا اور پرکھا جا رہا ہے کہ کتنے فی صد لوگ جنگ اور کتنے فی صد لوگ بات چیت کے حق میں ہیں۔ کتنے لوگ اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، کتنے لوگ بھارت کے ظلم پہ سراپا احتجاج ہیں۔ دنیا کے کس کس ملک میں کشمیر کی وجہ سے کتنے لوگ مضطرب ہیں اور یہ مسلہ کتنا سنگین ہے۔
ان سب عوامل کی موجودگی میں جب آپ # سے آغاز کر کے بغیر کسی space یعنی وقفہ دیے کوئی لفظ لکھتے ہیں تو اسے خصوصی طور پہ دیکھا جاتا ہے اور Trend یعنی رجحان تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا تمام ایسے افراد سے جن کے دل کشمیری بہن بھائیوں کے لئے دھڑکتے ہیں اور دعائیں دنیا بھر کے مظلومین کے لئے بلند ہوتی ہیں سے گزارش ہے کہ جب بھی کشمیر کے مظلوموں کے لئے کوئی پوسٹ لکھیں یا شیئر کریں اس میں
#StopKillingInKashmir #FreeKashmir #SaveKashmir #TerroristModi
وغیرہ ضرور لکھیں اور انگریزی زبان میں ہی لکھیں۔ باقی ساری تحریر چاہے اردو یا کسی اور زبان میں ہی کیوں نہ ہو لیکن HashTag یعنی # کے بعد کے الفاظ ایسے ہی لکھیں جیسا کہ اوپر بتائے گئے ہیں۔ شاید بات غیر سنجیدہ لگے لیکن شاید یہ بھی جہاد کی ایک ادنی سی صورت ہے کہ آپ کشمیر کے مظلوموں کی آواز بین الاقوامی اداروں تک پہنچانے میں مدد کر رہے ہیں۔ اور دنیا کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔
آخر میں یہ بھی گزارش کروں گا کہ اس تحریر کو ذیادہ سے ذیادہ شیئر کریں تا کہ کشمیر کے مظلومین کے لئے لوگ ان کنکروں کا سا کردار ادا کر سکیں جس نے بڑے بڑے ہاتھیوں کا لشکر تباہ کر دیا تھا۔ انشااللہ، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو اور آزادی کا سورج ضرور طلوع ہو گا۔
والسلام
التماس دعا۔
محمد علی حاشر
Comments
Post a Comment