نا محرم سے مذاق

نا محرم سے مذاق

راوی کہتا ہے میں کوفہ میں تھا ایک نا محرم خاتون کو قرآن کی تعلیم دے رہا تھا ایک دن میں کسی مسئلہ میں اس سے ہنسی مذاق کیا-

کافی عرصہ بعد مدینہ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوا تو آنحضرت ع نے میری سرزنش کی اور فرمایا: جو شخص عالم خلوت (تنہائی) میں گناہ کرتا ہے تو پروردگار عالم اپنی نظر کرم کو اس سے پھیر لیتا ہے . یہ کیا ہنسی مذاق و گفتگو تھی جو تم نے اس نا محرم کے ساتھ کی تھی؟

شرم کے مارے میرا سر اوپر نہیں اٹھ رہا تھا ، میں نے توبہ کی . اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا : آئندہ اس طرح کی حرکت تکرار نہ کرنا.

(داستان بحار ج 3)

اللہ اکبر........ نا محرم کیساتھ فقط مذاق و شوخی کرنے پر امام ع ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اگر گناہ کیا ہوتا تو کیا ہوتا....!!؟ آجکل کے معاشرے میں تو نجانے نا محرم کیساتھ کتنا مذاق کر لیا جاتا ہے اور ہمارے بزرگان تو بچوں کو منع تک نہیں کرتے بلکہ بزرگان تو خود ان بیماریوں میں مبتلاء نظر آتے ہیں..

شرم و حیاء نام کی کوئی چیز باقی نہیں .... جب کہ دین تو نام ہی شرم و حیاء کا ہے جب شرم و حیاء ہی نہ رہی تو دین کہاں رہیگا.......؟؟؟؟؟

اگر واقعی موالی مولا ع ہیں تو حکم مولا ع کے تابع ہونگے اور اگر ہم آزاد ہیں تو پھر ہمیں کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں جو چاہیں کریں...

نا محرم سے فقط مزاق پے اللہ ہم سے اپنی نظر رحمت پھیر لیتا ہے اور امام علیہ السلام ناراض ہوتے ہیں.. آئیں سوچیں فکر کریں ... کیا خدا و امام ع کو ناراض کرنا بہتر ہے یا ایسی چیز کو ترک کرنا جس سے خدا و حجت خدا ناراض ہیں ........... !!؟؟،

فیصلہ کیجئے .... اور پھر اپنی معرفت کا اندازہ کر لیجئے..... لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں لیکن خدا و حجت کے محضر سے ایک لمحہ بھی چھپنا ممکن نہیں.....!!!

اللہ ہم سب کی ھدایت فرمائے اور گناہوں سے بچنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔
*

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں