نظریاتی افیم

نظریاتی افیم 

پچھلے 100 سالوں میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی کچھ ذہنی تربیت ایسی ہوئی اور کچھ شعرا حضرات اور لکھاریوں نے انہیں ایسی افیم دی کہ وہ اسی میں مگن رہے...
ان کے ذہن میں یہ ڈالا گیا..
کہ تم ایک عظیم قوم ہو مگر ایمان کمزور ہے...
تمہارا مقابل کوئی نہیں...
تم 313 ہو اور کافر 1000 ...
پھر بھی تم حاوی رہوگے...
اگر ضرورت پڑی تو ابابیلیں بھی تمہاری مدد کو آئیں گی...

چاہے محنت کرو..یا نہ کرو۔
تعلیم حاصل کرو یا نہ کرو
سچے ایماندار مسلمان بنو یا نہ بنو...
تم ہی اللہ کی محبوب امت ہو...انگریز نے اگر تم پر یا دنیا پر حکمرانی کی ہے ..
یا وہ آج تم پر غالب ہے...
تو اس کی وجہ اس کا علم، اسکی محنت یا سائنسی ترقی نہیں بلکہ اسکی چالاکی، اسکی عیاری اور مکاری ہے ...
اور میر جعفر اور میر صادق جیسے غداروں نے اسکی مدد کی ہے..
ورنہ ہم سے ہمارا اقتدار دنیا کی کوئی طاقت نہیں چھین سکتی تھی...
چاہے ہم اپنی محبوباؤں کے لئے اور دس بیس تاج محل بناتے...
اور چاہے طائوس رباب , شراب و شباب میں گم رہتے....
اور چاہے شاعروں اور گانے والیوں کے منہ موتیوں سے بھرتے رہتے.....
انگریز تو نالائق تھا جو اس وقت آکسفرڈ اور کیمرج جیسی یونیورسٹیاں بنا رہا تھا..
اسے کیا پتہ جو مزہ تاج محل میں بیٹھنے کا ہے وہ کسی درسگاہ میں بیٹھنے میں کہاں...

یہ نظریاتی افیم کافی پراثر تھی...
اور اس کے اثرات نسلوں تک پھیلے رہے...
یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد بھی ہمارے ہر شعبہ زندگی میں یہ سوچ ہمارے ساتھ ساتھ چلتی رہی...
بڑائی اور کبریائی اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہی ہے....
مگر ہم برسوں اپنے آپ کی بڑائی میں مبتلا رہے..

ہمیں جب بھی دنیا میں کوئی آئیڈیل یا ہیرو ڈھونڈنے کے لئے کہا گیا تو ہم کہیں اور ڈھونڈنے نہیں گئے..
بلکہ آئینے کے سامنے جاکر کھڑے ہوگئے...

یہ خودپرستی...
اور یہ خود فریبی ہمارے ہر شعبے میں تھی...
یہاں تک کہ ہمارے ہاں کا پہلوان اپنے آپ کو برسوں "رستم_زماں اور رستم_جہاں" کہلواتا رہا....
حالانکہ اسکا "جہاں" کراچی اور لاہور کے اکھاڑے تھے...
جہاں وہ ایک ایک وقت میں 20/20 سیر دودھ پی جاتا تھا..
پورے پورے بکرے کھا جاتا تھا...
ہم اس خود فریبی میں خوش تھے کہ ہم ہی ہیں دنیا میں...
یہ تو سائنسی ترقی نے ہماری آنکھیں کھولیں...
ٹی وی ایجاد ہوا...
اور جب فری ریسلنگ ہمیں دکھائی گئی...
تو ہمارے سورما اپنے اپنے بلوں میں سہم گئے...
اور آپس میں کہنے لگے کہ یار یہ انگریز تو بہت مارتا ہے...
اسے بھی ہمارے ہاں کے کچھ ظالموں نے "کیمرہ ٹرک" کہا...
اور کہا کے ایسی کوئی لڑائی وڑائی حقیقتا" ہوتی نہیں بلکہ یہ کیمرے کی صفائی ہے...
اور پھر ایسا وقت آیا کہ جاپان کے ایک دبلے پتلے پہلوان انوکی نے کہ جو کہ نہ ہی 20/20 سیر دودھ پیتا تھا...
اور نہ ہی پورا پورا بکرا کھاتا تھا...
اسنے دنیا بھر کے سامنے ہمارے خود ساختہ شیروں کو ہمارے ہی گھر میں پچھاڑا...
انکا بازو مڑوڑا..
اور وہ بازو نہ چھڑا سکے...
تب ہمیں پتہ لگا کہ دنیا میں ہمارے علاوہ بھی بہت کچھ ہے....

اسی طرح برسوں ہم اپنے فنکاروں ..موسیقاروں ...لکھنے والوں ...اداکاروں ...اور مصوروں کو بھی "دنیا کا سب سے اچھا" قرار دیتے رہے...
کسی کو ہم نے ملکہ کہا ...
تو کسی کو شہنشاہ...کوئی ہمارے لئے "نور_جہاں" تھا تو کوئی "فخر_ جہاں" یا فخر ایشیا...
اصل میں ہمارا "جہاں" کراچی کے منگھوپیر اسٹوڈیو سے شروع ہوتا تھا تو لاہور کے ایورنیو اسٹوڈیو تک...
ہم اسی میں خوش تھے...

ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ہم اس دنیا کے 200 سے زائد ملکوں میں سے صرف ایک چھوٹا سا ملک ہیں...
اور دنیا کی 90% آبادی تو ہمارے نام سے بھی نہیں واقف....
اور جو جانتے ہیں وہ ہمیں دہشت گرد ملک کی حیثیت سے جانتے ہیں
جتنا ہمارے ملک کا سائز ہے اس سے بڑے تو کئی ملکوں میں صوبے ہیں...
مگر نہیں ہمیں خود فریبی کی اس افیم کا نشہ اچھا لگتا تھا...ہمیں ہوش میں آنے کی ضرورت ہی نہیں تھی...

یہ خود فریبی 1971 تک چلی...اور پھر 71 میں ہماری خود فریبی کی دیوار دھڑام سے آ گری... نہ امریکہ کا بحری بیڑہ مدد کو آیا..اور نہ ابابیل....
اب ہمیں ہوش میں آجانا چاہیے تھا...مگر نہیں...نظریاتی افیم کا نشہ بہت گہرا ہے...

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں