اعلان غدیر اور حارث بن نعمان فہری
اعلان غدیر اور حارث بن نعمان فہری :
جب غدیرخم کا واقعہ اور اس دن مولا علی کے سلسلہ میں سرکار نے جو کچھ فرمایا تھا وہ بات شہروں میں پھیل گئی تو یہ بات حارث بن نعمان فہری تک بھی پہونچی پس وہ حضور کی خدمت میں ایک ناقہ پر سوار ہو کر آیا اور ایک نالے میں اپنے ناقہ سے اترا اور اسے بٹھادیا،پھر حضور سے کہنے لگا،محمدؐ آپ نے ہمیں کلمہ شہادتیں کا حکم دیا تو ہم نے گواہی دی آپ نے ہمیں نماز پنجگانہ کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا پھر آپ نے ہمیں زکات نکالنے کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا آپ نے ہمیں ایک مہینہ روزہ رکھنے کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا آپ نے ہمیں حج کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا پھر آپ نے اتنے ہی پر اکتفا نہیں کی بلکہ اپنے چچا زاد بھائی کو بلند کرکے ہم سب پر اس کو افضل قرار دیا اور کہا:
میں جس کا مولا ہوں علیؑ اس کا مولا ہے-
سچ بتایئے گا کہ یہ آپ نے اپنی طرف سے کہا ہے یا خدا کی طرف سے؟۔
سرکارؐ نے فرمایا:
اس کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے کہا ہے یہ سن کر حارث بن نعمان اپنی سواری کی طرف یہ کہتا ہوا مڑا:
پالنےوالے اگر محمدؐ حق کہہ رہے ہیں تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہمیں دردناک عذاب دیدے ابھی وہ اپنی سواری تک پہونچا نہیں تھا کہ اللہ نے اس پر ایک پتھر مارا جو اس کے سر پر لگا اور سر کو پھاڑتا ہوا نیچے سے نکل گیا اور خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:
سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ-لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ-مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ
(سورہ معارج:آیت:۳،۲،۱)
ترجمہ: ''ایک سائل نے کافروں پر واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا جو بلندیوں والے خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کو روکنے والا کوئی نہیں''۔
یہاں یہ بات قبل غور ہے کہ مختلف مصادر میں لفظ مولا کے مختلف معنی مثلاً، دوست، مددگار، ناصر اور محبوب وغیرہ تحریر کرکے ولایت کو ایک عمومی عھدہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے-
سچ مچ اگر پیغمبر اسلام [ص] کی مولا سے مراد ناصر اور محبوب ہوتی تو علی علیہ السلام کو مبارک باد دینے کی کون سی جگہ تھی؟ اس کے علاوہ بعض لوگوں کا غدیر خم کے مقام پر شدید اعتراض کرنا [جیسے حارث بن نعمان فہری] اور خدا سے عذاب کی درخواست کرنا اور اللہ کی طرف سے اس پر عذاب کا نازل ہونا یہ سب کس لیے تھا؟ صرف اس لیے کہ علی پیغمبر اسلام کے ناصر اور محبوب ہو گئے؟ وہ تو پہلے بھی تھے بغیر کہے انہوں نے اپنی زندگی نصرت اسلام اور رسالت کے لیے وقف کر دی تھی۔
علامہ امینی نے اس واقعہ کو اہل سنت کے تیس منابع سے نقل کیا ہے جن میں الکشف و البیان، دعاۃ الھداۃ اور احکام القرآن شامل ہیں۔
اگر حدیث غدیر میں مولا کے معنی ناصر اور محبوب کے ہوتے تو کیا یہ اتنے غضب اور انکار کی جگہ تھی حارث بن نعمان فھری جیسوں کو آتش غضب میں جلایا جاتا؟ اس حدیث کے علاوہ بہت ساری دوسری حدیثیں حتی قرآن کی آیتیں موجود ہیں جو صریحا امیر المومنین کی محبت اور نصرت پر دلالت کرتی ہیں کیوں جب وہ صادر ہوئی تو کسی نے اعتراض نہیں کیا؟
تو کیا یہ علی علیہ السلام کی محبوبیت اور ناصریت کا اعلان تھا جو منافقین کے مزاج سے سازگار نہیں تھا اور پیغمبر اسلام جن سے خوف کھا رہے تھے۔ واضح اور آشکار ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی محبوب یا ناصر ہونے کے اعلان سے منافقین کی صحت پر کوئی اثر پڑنےوالا نہیں تھا اس لیے کہ روز اول سے وہ اس اعلان سے واقف تھے اور جگہ جگہ آپ کی مدد اور نصرت کے کرشمہ ملاحظہ کر چکے تھے۔ لہذا اگر دسیوں بار پیغمبر[ص] علی [ع] کے ناصر ہونے کا اعلان کردیں تو ان کی پیشانی پر کوئی بل نہ نہیں آئے گا۔
لہذا اتنے سارے شواہد و قرائن ملاحظہ کرنے کے بعد یہ کہنا کہ مولا سے مراد ناصر اور محبوب ہے تو یہ انصاف سے دور اور تعصب کے نزدیک ہے۔ غدیرخم میں رسول اسلام [ص] کا عظیم انتظام اورانصرام یہ بتا رہا ہے کہ مسئلہ بہت حساس موڑ پر ہے اور جو بات وہ کہنے جا رہے ہیں وہ معمولی سی بات نہیں ہے وہ اسلام کے مستقبل کی تقدیر ہے۔ لہذا حدیث غدیر میں مولا سے مراد صرف اور صرف اولی بالتصرف ، ولی و سرپرست ہے۔
Copied Fm: Blend Of History
Comments
Post a Comment