ماہرین حلالہ جات

ماہرین حلالہ جات
تحریر:  علی اصغر

ایک فوجی صاحب گھر چھٹی آئے بیوی سے لڑائئ ہوئی غصے میں آکر جیب سے کاغذ کا ٹکڑا نکالا اور اوپر بیوی کے نام طلاق طلاق طلاق لکھ دیا لیکن بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو کاغذ جیب میں ڈال کر بیوی کو منانے لگے،  چند دن گزرے بیوی نے کپڑے دھونے سے پہلے شوہر کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو کاغذ کا ٹکڑا برآمد ہوا بیوی ان پڑھ تھی اس نے بیٹی کو وہ کاغذ دیا اور پڑھنے کو، بیٹی نے پڑھتے ہی شور مچا دیا کہ اماں جی آپکی پریم کہانی طلاق کی صورت میں اختتام پذیر ہوئی،  بیوی شور مچاتے مچاتے اپنے میکے گئی بھائیوں کو بتایا بھائی لاٹھیاں ڈنڈے لے کربہنوئی کی مرمت کرنے پہنچ گئے فوجی صاحب سات بھائی تھے وہ اپنے دفاع کی خاطر لڑنے لگے اور بات بڑھتے بڑھتے دونوں خاندانوں کے درمیان گھمسان جنگ کی شکل اختیار کر گئی، گاوں کے بڑوں نے بیچ بچاو کرا کے لڑائی تو ختم کر دی لیکن گاوں کا مولوی جو بہت عرصہ سے فوجی کی بیوی پہ نظر رکھے ہوئے تھا اس نے فوری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فتوی دیا کہ یہ طلاق ہوچکی ہے اب فوجی پہ بیوی حرام ہے سب کے لئے بہت پریشانی بنی آخر مولوی صاحب سے اس مسئلے کا حل پوچھا گیا تو حسب روایت حلالہ ہی آخری حل بتایا گیا اب مسئلہ یہ تھا کہ حلالہ کروایا کس سے جائے آخر مولوی صاحب نے شرماتے شرماتے فوجی صاحب کو اس خدمت کے لئے اپنا نام پیش کیا فوجی کی غیرت نے جوش مارا اور فوجی نےمولوی کو جوتا مارا، اپنےمسلک کے چار پانچ مولویوں کے پاس گئے سب نے نا صرف حلالہ بتایا بلکہ حلالہ کے لئے خود کو پیش بھی کیا آخر ایک مشہور دربار کے پیر صاحب کے پاس گئے انہوں نے اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب کو بلایا مفتی صاحب نے کہا کہ انکے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ پرچی فوجی نے ہی لکھی ہے جب تک اس تحریر کا کوئی گواہ موجودنہیں ہم یہ طلاق ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتے آخر فوجی کی لکھائی میچ کرنے کے لئے دوبارہ ایک کاغذ پہ اپنی بیوی کے نام طلاق طلاق طلاق لکھوایا گیا لکھائی میچ ہونے کےبعدمفتی صاحب نے تاریخی فتوی دیا کہ پہلے تو تمہارا کوئی گواہ نا تھا اب تو پیر صاحب سمیت سارا مدرسہ گواہ ہے کہ تم نےطلاق دی ہے لہذا آج سے یہ عورت تم پہ حرام ہے آخر فوجی کو ایک شیعہ دوست نے شیعوں کےمولوی کے پاس جانے کو کہا اسی دربار کے کچھ فاصلہ پہ ایک شیعہ مدرسہ موجود ہے فوجی صاحب گئے تو اسکو تسلی دلوائی گئی کہ طلاق واقع نہیں ہوئی اور باقاعدہ فتوی لکھ کر دیا گیا اس کے بعد فوجی صاحب نے اپنے خاندان سمیت شیعہ مسلک اختیار کیا۔

محمد رسول اللہ ص کا دین عزتیں بچانے والا ہے عزتیں لوٹنے والانہیں، آج دو ٹکے کا مولوی جس کو بیوی گھر میں جھاڑو کے ساتھ مارتی ہے وہ بھی فتوے دے رہا ہے کہ فلاں مسلک کے ساتھ روابط رکھنے کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔

چنیوٹ میں ایک شیعہ خاتون کے جنازے میں شریک ہونے والے اہلسنت کے نکاح فسخ ہونے کا فتوی دینے والےمولوی کا تعلق اسی دربار کے پیروں سے ہے اس مشہور دربار کے مرید زیادہ تر جھنگ،  چنیوٹ،  فیصل آباد ،سرگودھا،  اٹھارہ ہزاری میں آباد ہیں اور ان دربار والوں کا فتوی ہے کہ اگر کتا پانی پی رہا ہو وہاں سے پانی پیا جاسکتا ہے لیکن اگر شیعہ پانی پی رہا ہو وہاں سے پانی پینا حرام ہے( ظاہر ہے ہر کوئی اپنے جیسوں کو پسند کرتا ہے)  اسی دربار کی مسجد میں بھول کر اگر کوئی شیعہ نماز پڑھ لے تو اسکے جانے کے بعد فرش کو دھویا جاتا ہے،  کوئی شخص اس شہر میں ننگے سر نہیں گھوم سکتا کیونکہ اس طرح پیر صاحب کی توہین ہوتی ہے اسی دربار کے گدی نشین نے علم جناب عباسؑ کو ٹریکٹر کے ساتھ باندھ کر زمین پہ گھسیٹا تھا اور یہ فتوی بھی اسی دربار کے درباری مولویوں کا ہے جس پہ چنیوٹ کے مولوی نے عمل کروایا ہے،  مزے کی بات تو یہ کہ اس دربار کےپیروں کی اولادیں بدکردار ہیں شراب و شباب کے شوقین ، کتے، مرغے،  تیترکی لڑآئی کروانا انکا پسندیدہ مشغلہ ہے،  خود کو ختم نبوت کا علم بردار سمجھتے ہیں لیکن اپنے دربار کے اردگرد غریب کسانوں کی زمینوں پہ زبردستی قابض ہیں،  یہ سارے فتوے دوسری عوام کے لِئے ہیں جب الیکشن آتا ہے تو یہی پیر بمع آل اولاد شیعوں کے گھروں میں ووٹ بھیک کی طرح مانگتے نظر آتے ہیں امام بارگاہوں میں جوتے اتار کر وہاں بیٹھ کر نیاز کھاتے ہیں اور پھر شیعوں کےوٹوں سے ایم پی اے بھی بن جاتے ہیں، 
برادران اہلسنت کو خود سوچنا چاہیے کہ جو لوگ خود بدعمل ہیں اور دین سے دور ہیں جو خود شیعوں کے ڈیروں پہ بیٹھ کر مٹن قورمہ کھالیتے ہیں لیکن آپ لوگوں کو شیعوں کے ساتھ پانی پینے سے بھی منع کرتے ہیں اور ان دربار والے درباری مولویوں کے فتوں پہ کان مت دھریں یہ صرف آپکی عورتوں کی عزتیں حلالے کے نام پہ لوٹناچاہتے ہیں انکابس چلے تو یہ لڑکے کا لڑکے کے ساتھ نکاح پڑھا دیں تاکہ اگر لڑکا لڑکے کو طلاق دے تو یہ لڑکے کے ساتھ بھی حلالہ کرسکیں۔کیا دین محمدؐ اس قدر کمزور ہے کہ ایک مسلمان کے جنازے میں شامل ہونے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ 

سورہ الکافرون کی اللہ نے صرف چھ آیات نازل کی ہیں۔ جبکہ سورہ المنافقون کی 11آیات ان جیسےمنافق درباری پیر اور بے غیرت مولویوں کےلئے اتاری ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں