حدیث الخلفاء کا تحقیقی جائزہ
قسط نمبر ۲
*حدیث الخلفاء کا تحقیقی جائزہ*
......................................................
تحریر 📝 : *سید نادر حسین نقوی*
اہلسنت کی بعض کتب میں حدیث الخفاء میں یہ الفاظ بھی مرقوم ہیں کہ "کلھم من بنی ھاہشم" یعنی سب آئمہ (آئمہ اثناعشر) بنی ہاشم سے ہوں گے. (صحیح مسلم, ینابع المودۃ)
بعض میں قریش کا ذکر ہوا ہے ہے "الخلافۃ فی قریش" یعنی مستحق خلافت قریشی ہیں. ان دو روایتوں میں کسی قسم کا تعارض نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے. کیونکہ بنی ہاشم قریش کی ہی ایک خاص شاخ ہے اور بنی ہاشم اللہ تعالی کا منتخب (چنا) کیا ہوا خاندان ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
"حضرت واثلہ بن اسقع سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سنا فرماتے تھے کہ اللہ تعالی نے اولاد اسماعیل میں سے کنانہ کو چن لیا. کنانہ سے قریش کو چن لیا اور قریش سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنو ہاشم سے مجھ کو چن لیا.(مسلم شریف)
بنو ہاشم ایک خاص خاندان ہے اس لیے عام اور خاص کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہوتا بلکہ خاص کو عام کا بیان و کاشف سمجھا جاتا ہے. لہذابنا بریں عام قریش والی روایت کو اس خاص بنو ہاشم والی روایت پر محمول کیا جائے گا.
اگرچہ ان احادیث میں "الائمہ اور الخلافۃ" کے الفاظ استعال ہوئے ہیں مثلاً "الائمہ من قریش" اور "الخلافۃ من قریش" یہ بات صاحب علم پر عیاں ہے کہ امامت و خلافت ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں یعنی خلیفہ و امام کا لفظ ایک ہی شخص پر بولا جاسکتا ہے.
شاہ معین الدین ندوی سابق دارالمنصنفین اعظم گڑھ (انڈیا) اپنی کتاب خلفائے راشدین صفحہ نمبر ١٣ پر لکھتے ہیں کہ:
"اس سے پہلے کے خلفائے راشدین کے حالات پڑھے جائیں , ضرورت ہے کہ خلافت راشدہ کا مفہوم و منشاء سمجھ لیا جائے, خلافت کے لغوی معنی "جانشینی" اور کسی کی جگہ پر اس کے بعد بیٹھنے کے ہیں, یہ لفظ خود اپنے مفہوم و منشاء کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ ایک اصل کا سایہ, ایک آئینہ کا عکس اور ایک حقیقی منصب کی قائمقامی ہے, اسی کو *امام* کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ دونوں لفظ *خلیفہ اور امام* ایک ہی شخص کی دو مختلف حیثیتیوں کو ظاہر کرتے ہیں, اپنے پیش رو کے نائب اور قائمقام ہونے کے لحاظ سے وہ خلیفہ اوراپنے زمانے کے پیروؤں کے لحاظ سے وہ امام اور پیشواء ہے اس بناء پر در حقیقت خلافت و امامت پیغمبر کی قائمقامی اور اس کے بعد اس کی امت کی پیشوائی ہے".
لہذا اس حدیث پر کسی قسم پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ حدیث متواتر ہے امت کا اس پر اجماع ہے جیسے کہ پہلے بیان ہو چکا ہے.
Comments
Post a Comment