عید مباہلہ
🌷 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم*🌷
🌹 *عید مباہلہ*🌹
1⃣ *آیت مباہلہ*
آپ ﷺ کے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہہ دیں: آٶ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاٶ ، ہم اپنی بیٹیوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی بیٹیوں کو بلاٶ ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاٶ، پھر دونوں فریق اللہ تعالی سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔
سورہ آل عمران کی یہ آیت نمبر 61 تاریخ اسلام کے ایک نہایت اہم واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مباہلہ کے نام سے مشہور ہے اور داعی اسلام کی حقانیت کی ایک واضح اور ناقابل تردید دلیل ہے۔
2⃣ *مباہلہ کا معنی*
لفظ مباہلہ اصل میں (ب ھ ل) *بھل* سے لیا گیا ہے،
اس کا معنی نفرت کرنا، کسی کو رہا کرنا اور کسی چیز سے قید و بند کو اٹھا لینا ہے۔
اسی وجہ سے ایسے حیوان کو جسے اپنے حال پر کھلا چھوڑتے ہیں اور اسکے پستانوں پر تھیلی نہیں چڑھاتے تاکہ اس کا بچہ آزادی سے اس کا دودھ پی سکے اسے *باھل* کہتے ہیں۔
اگر اسے بعض اوقات ہلاکت ، لعنت اور اللہ تعالی سے دوری کے معنی میں لیتے ہیں تو یہ اس لٸے ہے کہ بندے کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی وجہ سے ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
⭐ *مشہور معنی*
آیت مباہلہ کا مفہوم کے اعتبار سے جو مشہور معنی لیے جاتے ہیں وہ افراد کا ایک دوسرے پر نفرین اور لعنت کرنا ہے۔
اس طرح کہ دو افراد جنکا کسی مذہبی مسلے پر تنازعہ ہو تو وہ ایک جگہ پر اکٹھے ہوں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری سے دعا کریں۔
تاکہ جو باطل پر ہے اس پر اللہ تعالی کا غضب نازل ہو جاٸے اور جو حق پر ہے اسے پہچانا جاٸے اور اس طرح حق و باطل کی تشخيص کی جاٸے۔
3⃣ *داستانِ مباہلہ*
*1* *غلبہ اسلام*
فتح مکہ کے بعد غلبہ اسلام کا دور شروع ہوا اور اسلام نے جزیرہ نماٸے عرب سے باہر پھیلنا شروع کر دیا۔
چنانچہ ہرقل روم ، کسراٸے ایران ، مقوقس ، حارث شاہ حیرہ ، شاہ یمن اور شاہ حبشہ تک اسلام کی دعوت پہنچ گٸی۔
نجران کے مسیحی ان حالات سے نہایت پریشان تھے۔
*2* *نجران*
نجران کے 70 دیہات تھے جو حجاز اور یمن کے درمیان سرحد پر واقعہ تھا۔ اسکے تمام باشندے یہودی تھے۔
*3* *دعوتِ اسلام*
ہجرت کا دسواں سال تھا، پیغمبر اسلامﷺ نے پہلے نجران کے پادری ابو حاتم جو کہ مسیحیوں کے بڑے روحانی بزرگ تھے کے نام خط لکھا تھا،
جس میں اسے اور تمام مسیحیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔
اس دعوت اسلام سے نجران کے مسیحی پادریوں میں بےچینی پھیل گٸی۔ لہذا انکے ارباب حل و عقد اور سرداروں نے اسلام سے بچنے کی تجاویز پر غور کرنے کیلٸے ایک مشاورتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا۔
*4* *مشاورتی کونسل کا اجلاس*
پادری ابو حاتم نے پیغمبر اسلامﷺ کا خط پڑھا اور اپنی مشاورتی کونسل کا اجلاس طلب کر کے خط انکے درمیان رکھا۔ اور اپنے راہنماٶں السید اور العاقب کی راٸے معلوم کی تو انہوں نے کہا:
ہم نے اپنے مذہبی راہنماٶں سے یہ بات سنی ہے کہ ایک دن نبوت کا منصب اسحاق علیہ السلام کی نسل سے اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں منتقل ہو گا۔
اور محمدﷺ اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں ہیں۔ لہذا اس بارے میں تحقيق کی جاٸے۔
*5* *تحقیقاتی وفد کی مدینہ آمد*
چنانچہ اس فیصلے کے بعد نجران کے 14 رکنی وفد اور 70 عقل مندترین افراد کے ہمراہ مدینہ رسولِ خداﷺ کی خدمت میں پہنچے۔
ان میں مشہور نام یہ ہیں:
👈 السید اور العاقب۔
👈 اسقفِ اعظم نجران ابو حارثہ یا ابو حاتم۔
جو کہ حجاز میں رومی کلیساٶں کا نماٸندہ تھا۔
👈 عبدالمسیح جو کہ عقل و درایت میں معروف تھا۔
👈 اَیُھَم جو کہ ایک بوڑھا اور مسیحیوں کی قابلِ احترام شخصيات میں سے تھا۔
جب یہ مسجد نبوی میں داخل ہوٸے تو انکی عبادت کا وقت آگیا۔ ناقوس بجا اور انہوں نے مشرق کی طرف رخ کر کے عبادت شروع کر دی۔
لوگوں نے روکنا چاہا لیکن حضور ﷺ نے منع فرمایا۔ یہ آزادی عقیدہ و عمل کا بے مثال نمونہ ہے کہ مسجد نبوی میں غیرمسلموں کو اپنے مذہبی عقائد کا اظہار اور اعمال بجا لانیکی آزادی دی گٸی۔
پھر انہیں تین دن کی مہلت دی گٸی۔
*6* *بحث و گفتگو*
تین دن بعد پیغمبر اسلامﷺ نے انہیں اسلام کے قبول کرنیکی دعوت دی تو انہوں نے کیا۔
مسیح علیہ السلام کے بعد آنیوالے نبی سے متعلق توریت میں موجود تمام اوصاف آپ ﷺ کے اندر موجود ہیں ، سواٸے ایک صفت کے کہ آپ ﷺ ان برا بھلا کہتے ہیں اور انہیں بندہ خدا کہتے ہیں۔
حضور ﷺ فرمایا:
میں مسیح علیہ السلام کی تصدیق کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ وہ نبی مرسل اور عبدخدا تھے۔
نجران کا وفد:
کیا وہ مردوں کو زندہ نہیں کرتے تھے ، اندھوں کو بیناٸی نہیں دیتے تھے اور برص کے مریضوں کو شفا نہیں دیتے تھے؟
حضور ﷺ:
یہ سب باذن خدا انجام دیتے تھے۔
وفد:
مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوٸے ، بھلا کوٸی بندہ بغیر باپ کے پیدا ہوتا ہے؟
حضور ﷺ:
اللہ تعالی کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کی طرح ہے کہ اسے مٹی سے خلق فرمایا پھر حکم دیا: بن جاٶ ، وہ بن گیا۔
نجران کا وفد اپنی ہٹ دھرمی پر قاٸم رہا، انہوں نے دلیل و برہان کو قبول نہیں کیا۔
تو اس وقت آپ ﷺ کی طرف بذریعہ وحی مذکورہ بالا سورہ آل عمران کی آیت نازل ہوٸی جو آپﷺ نے انہوں پڑھ کر سناٸی۔ مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قاٸم رہے تو اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ انکے ساتھ مباہلہ کرو۔
*7* *مباہلہ*
وفد والے اپنے ٹھکانے پر واپس چلے گٸے۔ نصاریٰ نجران کے سرداروں نے اپنی مخصوص میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ:
اگر محمدﷺ اپنے افسروں اور لشکر کے ہمراہ جاہ و جلالت اور شاہانہ انداز میں میدانِ مباہلہ میں آیا تو سمجھیں گے کہ وہ اپنے دعوی میں سچا نہیں ہے اور کامیابی ہماری ہے۔
لہذا مباہلہ کرینگے۔
اگر محمدﷺ اپنے قریبی رشتہداروں کے ہم راہ ہر قسم کی ظاہرداری کے بغیر آیا تو ایک سچا پیغمبرﷺ ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کیلٸے اپنے آپ اور قریبیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
لہذا ہم اسکے ساتھ مباہلہ نہیں کرینگے۔
24 ذی الحجہ کی صبح طلوع ہوٸی اور حق و باطل میں ہمیشہ کیلٸے فیصلہ کن دن آگیا۔
رسول خداﷺ کے حکم سے دو درختوں کی درمیانی جگہ صاف کر کے ایک سیاہ کسا ٕ (چادر) خیمے کی شکل میں ڈال دی گٸی۔
نجرانی وفد میں السید اور العاقب اپنے دونوں بیٹوں اور وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ بہترین لباس زیب تن کیے نکلے۔
دوسری طرف پیغمبر اسلامﷺ امام حسن و امام حسین علیہ السلام کا ہاتھ پکڑے ہوٸے نکلے، پیچھے حضرت فاطمہ علیہ السلام اور انکے پیچھے علی علیہ السلام تھے۔
اس کسا ٕ کے نیچے پانچوں تن تشریف فرما ہوٸے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: میں دعا کروں تو تم آمین کہنا۔
*8* *دعوتِ مباہلہ اور انکار*
اسکے بعد حضور ﷺ نے السید اور العاقب کو مباہلے کی دعوت دی۔
ان دونوں نے عرض کی:
آپﷺ کن لوگوں کو ساتھ لے کر ہمارے ساتھ مباہلہ کر رہے ہیں؟
رسول خداﷺ نے فرمایا:
میں اہل زمین میں سب سے افضل لوگوں کو ساتھ لے کر تمہارے ساتھ مباہلہ کر رہا ہوں۔
یہ دونوں اپنے پادری کے پاس لوٹ گٸے اور اس سے پوچھا:
آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟
پادری نے کہا:
میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالی سے یہ دعا مانگیں کہ مکہ کا پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جاٸے تو وہ فوراً اکھڑ جاٸیگا۔
لہذا انکے ساتھ مباہلہ نہ کرو۔ ورنہ تمام کے تمام مسیح ہلاک ہو جاٸینگے اور تا قیامت دنیا میں کوٸی بھی مسیح نہیں بچے گا۔
چنانچہ نجرانی مباہلہ سے منصرف ہو گٸے اور اس بات پر آمادہ ہو گٸے کہ ہر سال جزیہ دیں گے اور اسلامی حکومت کا ہر لحاظ سے دفاع کریں گے۔
*9* *جزیہ*
پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا:
جزیہ میں انہیں ہر سال دو ہزار حلے یا لباس دینے پڑیں گے اور ہر حلے کی قیمت 40 درہم ہو۔
نیز اگر جنگ چھڑ جاٸے تو 30 زرہیں ، 30 نیزے ، 30 گھوڑے مسلمانوں کو عاریتاً دینا پڑیں گے۔ اس ساز و سامان کی واپسی کے آپ ﷺ ضامن بنے۔
*10* *نجرانیوں کی تباہی*
پیغمبر اسلامﷺ نے نصاریٰ نجران کی مباھلہ میں شکست کے بعد فرمایا:
اللہ تعالی کی قسم ہلاکت و تباہی نجران والوں کے قریب پہنچ چکی تھی۔
اگر وہ مباہلہ کرتے تو سب بندروں اور خنزیروں میں بدل کر مسخ ہوجاتے اور انکی پوری بستی آگ کے شعلوں میں بدل جاتی حتیٰ کہ انکے درختوں کے اوپر کوٸی پرندہ باقی نہ رہتا اور تمام نصاریٰ نجران ایک سال کے عرصے میں ہلاک ہو جاتے۔
4⃣ *اہم نکات*
👈 مباہلہ کی باری تب آتی ہے جب واضح عقلی دلاٸل سے انکار کیا جاٸے۔
👈 مباہلہ کے افراد کا تعین اللہ تعالی نے کیا۔
👈 بیٹوں سے مراد امام حسن و حسین علیہ السلام ہیں،
عورتوں سے مراد فاطمہ علیہ السلام ہیں اور نفس سے مراد علی علیہ السلام ہیں۔
👈 حق و باطل کے اس عظیم معرکے میں یہی پانچ ہستیاں شامل ہوٸی ہیں۔
ثابت ہوا کہ دعوت اسلام کی کامیابی انکے بغیر ممکن نہیں ہے۔
👈 آج بھی داعیان حق کو انہی کے دامن سے متمسک رہنا چاہیے۔
👈 جو انکے منکر ہیں وہ دعوت رسول ﷺ سے ناآشنا ہیں۔
👈 یہ صادقین کا گروہ تھا اور انکے مقابلے میں آنے والے کاذبین تھے۔
👈 ان عظیم ہستیوں کی ہم پلہ مزید ہستیاں موجود نہیں تھیں ورنہ مباہلے کے دن رسول ﷺ انہیں بھی لے کر نکلتے۔
5⃣ *نماز میں صدقہ*
عید مباہلہ کے دن 24 ذی الحجہ کی ایک خصوصيت یہ بھی ہے کہ:
امام کاٸنات امیر المسلمین علی علیہ السلام نے ساٸل کو حالت نماز میں انگوٹھی عطا فرماٸی۔
تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی شان میں سورہ الماٸدہ کی آیت 55 نازل فرماٸی۔
*اے ایمان والو! بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اسکا رسول ﷺ اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قاٸم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں*
6⃣ *روز مباھلہ کے چند اعمال*
🌺 غسل،
اس غسل کے بعد نماز کیلٸے وضو ضروری ہے۔
🌺 روزہ۔
🌺 نماز،
اسکی ترتيب اور وقت اور ثواب عید غدیر کی نماز کے مثل ہے۔
🌺 دعاٸے مباھلہ۔
اسکی بڑی تاکید اور فضیلت ہے۔
دعایہ کتب میں موجود ہے۔
🌺 زیارت،
مولا امام علی علیہ السلام کی زیارت پڑھیں۔
زیارت جامعہ کا پڑھنا بھی مناسب ہے۔
🌺 صدقہ.
Comments
Post a Comment