حضرت میثم تمار علیہ السلام عشق حقیقی کے منفرد مبلغ

حضرت میثم تمار علیہ السلام عشق حقیقی کے منفرد مبلغ

جوانی میں یہ کوفہ کی ایک خاتون کی غلامی میں آئے۔ ان کا نام سالم پکارا جاتا تھا۔ جب مولا امیر کائنات صلواۃ اللہ علیہ و آلہ نے کوفہ کو اپنا دارالحکومت بنایا ۔ ایک روز مولا (ص) شہر کا دورہ فرما رھے تھے کہ آپ جناب کی نظر جناب میثم پر پڑی جو اپنی مالکن کے ساتھ جا رھے تھے۔ مولا (ص) نے اس خاتون کو روکا اور فرمایا کہ یہ غلام مجھے فروخت کر دو۔ اس نے 50 دینار قیمت مانگی۔ مولا ص نے قیمت قبول فرمائی۔ خریدار کی دلچسپی دیکھ کر خاتون نے قیمت بڑھا دی۔ 100 دینار۔ مولا ص نے نئی قیمت قبول فرمائی تو اس نے کہا 200 دینار لوں گی۔ المختصر ۔ آخری قیمت 500 دینار طے پائی اور مولا امیر کائنات صلواۃ اللہ علیہ و آلہ نے سالم کو 500 دینار قیمت میں خریدا ۔ اور فرمایا۔ ۔ ۔ میثم ہم نے تمہیں آزاد فرمایا۔ سالم نے جب مولا ص کی زبانی میثم کا لفظ سنا تو یکدم چونک کر بولے، آپ جناب ص نے مجھے کس نام سے پکارا ؟ فرمایا۔۔۔ میثم۔۔  عرض کیا کہ آقا ص! ایران میں مجھے میری ماں اس نام سے پکارا کرتی تھی۔ کوفہ میں کسی کو بھی میرے اس نام کا علم نہیں۔ آپ جناب ص کو میرا یہ نام کس نے بتایا ؟ فرمایا مجھے اللہ کے پاک رسول ص نے بتایا۔ میثم بولے ۔ بیشک اللہ عزوجل بھی سچا، اس کے پاک رسول ص بھی سچے اور ان جناب ص کے حقیقی وصی بھی سچے۔  یوں مولا (ص) نے انہیں آزاد تو فرما دیا۔ ۔ اور دنیاوی طور پر یہ آزاد سمجھے جاتے تھے لیکن ذہنی طور پر جناب میثم تمار علیہ السلام نے خود کو پاک خاندان صلواۃ اللہ علیہم اجمعین کی محبت کا ایسا اسیر بنایا کہ رہتی دنیا تک محبین کے لئے مینارہ ء نور بن گئے
ایک دن جناب میثم مولا امیر کائنات صلواۃ اللہ علیہ و آلہ کے ہمراہ ایک باغ کے پاس سے گزرے۔ وہاں کھجور کے دس درخت لگے تھے۔ مولا ص نے ان میں سب سے چھوٹے درخت کی جانب اشارہ فرمایا اور بتایا کہ اس درخت کے ساتھ تمہیں سولی دی جائے گی۔
اس دن کے بعد جناب میثم اس درخت کے نیچے صفائی ستھرائی کرتے۔ اسے پانی دیتے اور اس کے نیچے مصلہ بچھا کر نماز پڑھتے۔ درخت سے گفتگو کرتے کہ تم میری معراج کے ساتھی ہو۔ اس لئے تم مجھے بہت پیارے لگتے ہو۔
مولا امیر کائنات صلواۃ اللہ علیہ و آلہ نے جناب میثم کو بہت سے اسرارِ امامت تعلیم فرمائے۔ جنہیں جناب میثم نے اپنے سینے میں محفوظ رکھا۔
آپ نے ایک چھوٹی سی دوکان بنائی ہوئی تھی جس میں کھجوریں بیچا کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے انہیں تمار یعنی کھجور فروش کہا جاتا۔ گو کہ مولا ص اس وقت حاکم تھے مگر بندہ نوازی کی انتہا تھی کہ اکثر میثم کی دوکان میں تشریف فرما ہوتے اور میثم کو دیگر کاموں کے لئے فرصت عطا فرماتے۔
ایک دن مولا ص دوکان سنبھال کر تشریف فرما تھے۔ ایک گاہک آیا۔ 4 درہم کی کھجوریں لے گیا۔ جناب میثم واپس آئے تو مولا ص نے چار درہم جناب میثم کو دیئے۔ جناب میثم نے عرض کی کہ مولا ص یہ سکے تو کھوٹے ہیں۔ مولا ص نے فرمایا۔ اچھا۔ وہ گاہک ابھی واپس آئے گا۔ تھوڑی دیر بعد وہ گاہک واپس آیا اور بولا کہ یہ کھجوریں تو کڑوی ھیں۔ آقا ص نے فرمایا کہ تمہارے سکے بھی تو کھوٹے ھیں۔

60 ہجری۔ عبید اللہ ابن زیاد ملعون نے جناب میثم کو گرفتار کر کے اسی زندان میں ڈال دیا جہاں جناب مختار ثقفی قید تھے۔ جناب میثم نے جناب مختار کو بتایا کہ کل آپ رہا ہو جائیں گے۔ اور آپ مولا کریم کربلا صلواۃ اللہ علیہ و آلہ کے قاتلوں کو فی النار کریں گے۔ اگلے روز جناب مختار کو رہائی مل گئی۔ مختار نے جناب میثم سے پوچھا کہ آپ کو میری رہائی کی خبر کس نے دی؟ فرمایا مجھے میرے مولا ص نے اس بارے میں بتایا۔

ابن زیاد ملعون نے 20 ذوالحجہ کو جناب میثم کو دربار میں طلب کیا۔ انتہائی گستاخی سے بولا، اس وقت تمہارا اللہ کہاں ھے؟ فرمایا میرا اللہ عزوجل اس وقت تم جیسے ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تیاریاں فرما رہا ھے۔
ملعون شدید غصے میں آیا اور بولا کہ میں تمہیں سولی پر چڑھا دوں گا۔
جناب میثم نے فرمایا کہ مجھے میرے مولا ص نے بہت پہلے سے یہ خبر دے رکھی ھے۔
ملعون بولا کہ تمہارے مولا ص نے اور کیا خبر دی تھی؟
فرمایا کہ میرے مولا ص نے فرمایا تھا کہ میرے دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور زبان بھی کاٹی جائے گی
ملعون بولا کہ (نعوذ بااللہ) میں آج تمہارے مولا ص کو غلط ثابت کروں گا۔ میں تمہاری زبان نہیں کاٹوں گا۔
المختصر۔ 20 ذوالحجہ کو جناب میثم کو اسی کھجور کے درخت کےساتھ سولی پر چڑھا دیا گیا۔۔ دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں شہید کر دیئے گئے۔
ایک بات ذہن میں رکھیں۔ سولی اور پھانسی میں فرق ھے۔ پھانسی میں گلے میں پھندا ڈال کر جھٹکے سے نیچے گرایا جاتا ھے جس سے گلے کے مہرے ٹوٹ جاتے ھیں اور فوری موت واقع ہو جاتی ھے۔
سولی میں انسان کے بازو رسی سے بلندی پر باندھ دیتے ھیں۔ جسم کو لوہے کی میخوں کے ساتھ تختے سے جوڑا جاتا ھے۔ پاؤں کاٹ دیئے جاتے ھیں۔ جسم میں سے خون بہتا رھتا ھے ۔ جلاد تازیانے مارتے ہیں۔ اور اس طرح اذیت ناک طریقے سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ھے۔ اس عمل میں 2 سے 3 دن لگتے ھیں۔
جناب میثم کو سولی پر چڑھا دیا گیا۔ جناب میثم نے لوگوں کو پاک خاندان صلواۃ اللہ علیہم اجمعین کے فضائل سنانا شروع کئے۔ لوگوں کو آنے والے دنوں کی خبریں دینا شروع کیں۔ کوفے میں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہزاروں لوگ میثم تمار علیہ السلام کے گرد جمع ہو گئے۔ جناب میثم تمار علیہ السلام نے ولایتِ مطلقہ الٰہیہ پر کھل کر گفتگو فرمائی۔ کوفی جانتے تھے کہ میثم کو مولا امیر کائنات صلواۃ اللہ علیہ و آلہ نے اسرار تعلیم فرمائے ھیں۔ آج میثم کی زبان ان اسرار سے پردے ہٹا رھی تھی۔ مجمع بڑھتا جا رہا تھا۔ مخبروں نے ابن زیاد ملعون کو خبر دی کہ میثم آج ایسے فضائل سنا رہا ھے کہ لوگ بنی ہاشم ص کی محبت میں گرفتار ہو رھے ھیں۔ اگر میثم اسی طرح گفتگو کرتا رہا تو بغاوت بھی پھوٹ سکتی ھے۔ ملعون نے جلاد کو حکم دیا کہ میثم کی زبان بھی کاٹ دی جائے۔
مولا امیر کائنات صلواۃ اللہ علیہ و آلہ کا فرمان پاک سچ ثابت ھوا۔

22 ذوالحجہ کو جناب میثم تمار نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

دعا فرمائیں کہ ان شہداء کے پاک منتقم (عجص) کے ظہور اکبر میں تعجیل ھو۔
اللھم آمین اللھم آمین اللھم آمین اللھم آمین اللھم آمین

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں