شہادت امام حسین (ع) اور روزه عاشورا سنت بنی امیہ:

شہادت امام حسین (ع) اور روزه عاشورا سنت بنی امیہ:

بنى امیہ لعنت اللہ علیہم نہ فقط یہ کہ امام حسین (ع) اور انکے اہل بیت و اصحاب کی شہادت پر عزاداری کرنے کی مخالفت کرتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی مقابلہ کرنے کی غرض سے انھوں نے روز عاشورا کو جشن و خوشی و عید کا دن قرار دیا ہوا تھا۔

بنی امیہ روز عاشورا کو مبارک دن جانتے تھے اور اس دن جشن کی محافل برپا کیا کرتے تھے اور اس دن پورے سال کا راشن گھروں میں ذخیرہ کیا کرتے تھے اور وہ یہ سارے کام ہر سال انجام دیا کرتے تھے۔

اسی وجہ سے آئمہ معصومین اور انہی کی راہ پر چلنے والے فقہاء نے بھی اس دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے، اس دن کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے۔

امام صادق علیہ السلام سے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا:

ذاک یوم قتل فیه الحسین علیه السلام، فإن کنت شامتا فصم. ثم قال: إن آل أمیة علیهم لعنة الله ومن أعانهم على قتل الحسین من أهل الشام، نذروا نذرا إن قتل الحسین علیه السلام وسلم من خرج إلى الحسین علیه السلام وصارت الخلافة فی آل أبی سفیان، أن یتخذوا ذلک الیوم عیدا لهم، وأن یصوموا فیه شکرا، ویفرحون أولادهم، فصارت فی آل أبی سفیان سنّة إلى الیوم فی الناس، واقتدى بهم الناس جمیعا، فلذلک یصومونه ویدخلون على عیالاتهم وأهالیهم الفرح ذلک الیوم. ثم قال: إن الصوم لا یکون للمصیبة، ولا یکون إلا شکرا للسلامة، وإن الحسین علیه السلام أصیب، فإن کنت ممن أصبت به فلا تصم، وإن کنت شامتا ممن سرک سلامة بنی أمیة فصم شکرا لله تعالى.

یہ دن امام حسین کی شہادت کا دن ہے، اگر تم اس دن امام حسین پر ہونے والے مصائب سے راضی و خوش ہو تو اس دن روزہ رکھو۔

بنی امیہ لعنت اللہ علیہم اور اہل شام، کہ جہنوں نے امام حسین کو شہید کیا تھا، نے نذر مانی ہوئی تھی کہ اگر حسین قتل ہو جائے اور ہمارا شامی لشکر سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے اور مقام خلافت آل ابو سفیان کو مل جائے تو عاشورا کے دن کو خوشی کے ساتھ اپنے لیے عید کا دن قرار دیں گے اور شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امالی شیخ طوسی، ص 667، رقم‏1397 / 4.

امام رضا علیہ السلام سے اسی بارے میں حدیث نقل ہوئی ہے کہ:

یہ دن وہ دن ہے کہ بنی امیہ اس دن روزہ رکھتے تھے، حالانکہ اس دن اسلام اور مسلمین عزادار ہوئے تھے، پس آج کے دن روزہ نہ رکھو، جو بھی اس دن روزہ رکھے گا تو آل امیہ کی طرح اسکے نصیب میں بھی جہنم کی آگ لکھی جائے گی۔

اصول کافی، ج 4، ص147، شماره حدیث 6

تهذیب الاحکام ، ج4، ص301، شماره حدیث 912

الإستبصار، ج2، ص135، شماره حدیث 443

بحارالأنوار، ج61، ص291.

شفاءالصدور، طهرانی ، ص 259،

وافی، جزء7، ص ‏14به ‏نقل ‏از امالی ‏صدوق و علل‏الشرائع صدوق.

کراجکی، التعجب، ص 45، ضمیمه کنز الفوائد.

جامع احادیث الشیعة، ج 9، ص 477

حسن ثقفی تهرانی، شرح زیارت عاشورا، ص 420

امام صادق (ع) کی نظر میں نو اور دس محرم کو روزہ رکھنا:

الكافی عَنْهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبَانٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنْ صَوْمِ تَاسُوعَا وَ عَاشُورَاءَ مِنْ شَهْرِ الْمُحَرَّمِ فَقَالَ تَاسُوعَا یَوْمٌ حُوصِرَ فِیهِ الْحُسَیْنُ وَ أَصْحَابُهُ بِكَرْبَلَاءَ وَ اجْتَمَعَ عَلَیْهِ خَیْلُ أَهْلِ الشَّامِ وَ أَنَاخُوا عَلَیْهِ وَ فَرِحَ ابْنُ مَرْجَانَةَ وَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِتَوَافُرِ الْخَیْلِ وَ كَثْرَتِهَا وَ اسْتَضْعَفُوا فِیهِ الْحُسَیْنَ ع وَ أَصْحَابَهُ وَ أَیْقَنُوا أَنَّهُ لَا یَأْتِی الْحُسَیْنَ نَاصِرٌ وَ لَا یُمِدُّهُ أَهْلُ الْعِرَاقِ بِأَبِی الْمُسْتَضْعَفَ الْغَرِیبَ ثُمَّ قَالَ وَ أَمَّا یَوْمُ عَاشُورَاءَ فَیَوْمٌ أُصِیبَ فِیهِ الْحُسَیْنُ ع صَرِیعاً بَیْنَ أَصْحَابِهِ وَ أَصْحَابُهُ حَوْلَهُ صَرْعَى عُرَاةً أَ فَصَوْمٌ یَكُونُ فِی ذَلِكَ الْیَوْمِ كَلَّا وَ رَبِّ الْبَیْتِ الْحَرَامِ مَا هُوَ یَوْمَ صَوْمٍ وَ مَا هُوَ إِلَّا یَوْمُ حُزْنٍ وَ مُصِیبَةٍ دَخَلَتْ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَ أَهْلِ الْأَرْضِ وَ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَ یَوْمُ فَرَحٍ وَ سُرُورٍ لِابْنِ مَرْجَانَةَ وَ آلِ زِیَادٍ وَ أَهْلِ الشَّامِ غَضِبَ اللَّهُ عَلَیْهِمْ وَ عَلَى ذُرِّیَّاتِهِمْ وَ ذَلِكَ یَوْمٌ بَكَتْ جَمِیعُ بِقَاعِ الْأَرْضِ خَلَا بُقْعَةِ الشَّامِ فَمَنْ صَامَهُ أَوْ تَبَرَّكَ بِهِ حَشَرَهُ اللَّهُ مَعَ آلِ زِیَادٍ مَمْسُوخَ الْقَلْبِ مَسْخُوطاً عَلَیْهِ وَ مَنِ اذَّخَرَ إِلَى مَنْزِلِهِ ذَخِیرَةً أَعْقَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى نِفَاقاً فِی قَلْبِهِ إِلَى یَوْمِ یَلْقَاهُ وَ انْتَزَعَ الْبَرَكَةَ عَنْهُ وَ عَنْ أَهْلِ بَیْتِهِ وَ وُلْدِهِ وَ شَارَكَهُ الشَّیْطَانُ فِی جَمِیعِ ذَلِكَ‏.

عبد الملک نے امام صادق (ع) سے نو اور دس محرم کو روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا کہ کیا ان دو دنوں میں روزہ رکھا جا سکتا ہے ؟

امام صادق (ع) نے فرمایا کہ: نو محرم کا دن وہ دن ہے کہ جب میدان کربلا میں امام حسین اور انکے اصحاب کا اہل شام نے محاصرہ کیا تھا۔ ابن مرجانہ عبید اللہ ابن زیاد ملعون اور ابن سعد ملعون اپنے لشکر کی زیادہ تعداد دیکھ کر بہت خوش تھے اور انھوں نے اس دن امام حسین اور انکے اصحاب کو کمزور شمار کیا تھا اور اس دن انکو یقین ہو گیا تھا کہ اب کوئی بھی حسین کی مدد کرنے کے لیے نہیں آئے گا، پھر امام صادق نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:

میرے ماں باپ اس حسین پر قربان ہو جائیں کہ جسکو کمزور شمار کیا گیا اور وہ پردیس میں تھے !!

پھر فرمایا و اما روز عاشورا:

محمد بن یعقوب عن الحسین بن علی الهاشمی عن محمد بن الحسین عن محمد بن سنان (عن أبان عن عبد الملک) قال: سألت أبا عبد الله علیه السلام عن صوم تاسوعاء وعاشوراء من شهر المحرم؟ فقال:... ما هو یوم صوم. وما هو إلا یوم حزن ومصیبة دخلت على أهل السماء وأهل الأرض وجمیع المؤمنین. ویوم فرح وسرور لابن مرجانة وآل زیاد وأهل الشام. غضب الله علیهم وعلى ذریاتهم...

یہ وہ دن ہے کہ جب امام غم و مصیبت میں مبتلا ہوئے اور زخمی حالت میں اپنے اصحاب کے درمیان زین سے زمین پر آ پڑے اور اس دن انکے اصحاب کے اجساد بھی برھنہ حالت میں انکے ارد گرد گرے ہوئے تھے، کیا اس حالت والے دن روزہ رکھا جا سکتا ہے،

خانہ کعبہ کے خدا کی قسم بالکل نہیں رکھا جا سکتا، یہ دن روزہ رکھنے کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ دن حزن و غم و مصیبت کا دن ہے کہ اس دن تمام اہل آسمان و زمین اور تمام مؤمنین غم و مصیبت سے دوچار ہوئے تھے۔

روز عاشورا، ابن مرجانہ، آل زیاد اور اہل شام کے لیے خوشی و شادی کا دن ہو سکتا ہے، خداوند کا غضب و غصہ ہو ان پر اور انکی اولاد پر، عاشورا وہی دن ہے کہ جب سرزمین شام کے علاوہ تمام زمینوں نے گریہ کیا۔

جو بھی اس دن روزہ رکھے یا اس دن کو با برکت شمار کرے تو خداوند اسکو اس حال میں آل زیاد کے ساتھ محشور کرے گا کہ انکے دل مسخ ہو چکے ہوں گے اور ان پر خداوند کا غضب و عذاب ہوا ہو گا۔

جو بھی اس دن اپنے گھر میں خوشی کی حالت میں کوئی چیز ذخیرہ کرے تو خداوند اسکے دل کو نفاق میں مبتلا کرے گا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں خدا سے ملاقات کرے گا اور برکت کو اس سے اور اسکی اولاد سے دور کر دے گا اور شیطان کو ان سب کے ساتھ شریک قرار دے دے گا۔

بحار الأنوار (ط - بیروت)  ج‏45  ص95

وسائل الشیعه (آل البیت)، شیخ حر عاملی، ج 10، ص 460.ح 13847

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں