تفسیر بالرائے
تفسیر بالرائے
(( مَنْ فسر القُرآنِ بِرأيِهِ ، فَلْيَتَبوأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ))
حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا! جو شخص اپنے رائے کی بنیاد پر قرآن کی تفسیر کرے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں قرار دے.
(تفسیر صافی جلد 1 ص 21)
الراى فى كتب الله كفر
تفسیر العیاشی میں یعقوب بن زید کے حوالے سے یاسر کی روایت مذکور ہے حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرمایا الله کی کتاب کے بارے میں اپنی رائے دینا کفر ہے
تفسیر العیاشی جلد 1 ص 18
"اللہ نے آدم کو دونوں ہاتھوں سے بنایا"
یہاں ہاتھ سے کیا مراد ہے؟
کیا وہ حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ تھے؟
(مختصر مگر جامع جواب)
ہر زمانے میں حتّیٰ خود آئمہ ع کے ادوار میں بعض مکار اور دھوکہ باز افراد موجود رہے ہیں جو اپنے نا پاک عزائم کی تکمیل کیلئیے قرآن مجید کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے رہے ہیں.
اسی طرح آج کل کئی نام نہاد خطیب اور اہلِ منبر عوام کو گمراہ کرنے کئیلِے اور غلو پھیلانے کیلئیے قرآن مجید کی من مانی تفسیر یعنی تفسیر بالرائے کرتے ہیں.
ایسے لوگ جو حقائق دین میں تحریف کرنا اور لوگوں کی دینی تہذیب و ثقافت کو برباد کرنا چاہتے ہیں کے بارے حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں:
''وَ آخَرُ قَد تُسَمَّی عَالِمًا لَیسَ بِہِ"(نہج البلاغہ ، خطبہ ٨٦ ۔)"
قرآن کے سچے پیرووں کے مقابل ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو کبھی کبھی معاشرہ کے درمیان عالم و دانشور تصور کیا جاتا ہے، اس نے اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ اسے علم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
معصومین ع کی جانب سے کئی روایات موجود ہیں جن میں تفسیر بالرائے کی سخت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ
رسالتمآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جو بھی اپنی ذاتی رائے اور نظریہ سے قرآن مجید کی تشریح کرے گا وہ خود کو جہنم کے لیے تیار کرلے.
امام جعفر صادق ع نے فرمایا:
جس کسی نے اپنی رائے سے قرآن مجید کی تشریح کی اگر اس نے صحیح بات کہی تو وہ اس کا اجر و ثواب نہیں پائے گا اور اگر غلط بات کہی تو وہ حقیقت سے اتنا دور ہو گیا جتنا زمین سے آسمان دور ہے.
من مانی تفاسیر میں سے ایک تفسیر جس سے مذہب اہل بیت ع کے عقائد پہ ڈاکا ڈالہ جاتا ہے ،
[ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ]
سورۃ ص کی آیت 75 کی کی جاتی ہے ۔
اس آیت میں لفظ "بیدی" کا ترجمہ میرے ہاتھ کر کے کہا جاتا کہ اللہ عزوجل تو جسم سے مبّرا ہے جو کہ یقینا ہے ہی ، تو اس کے ہاتھ تو نہیں ، اور امام علی ع جو کہ ید اللہ ہیں تو اس آیت کی غلط تفسیر کرتے ہوئے اور شرک کرتے ہوئے کہا جاتا کہ امام علی ع نے جناب آدم ع کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ۔
اس جاہل ٹولہ نے شرک کرتے ہوئے ایک تو تفسیر بالرائے کے تحت عوام میں گمراہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنے کو جہنم کا مستحق بنایا
اور یہ تک دیکھنا گوارہ نہ کیا کہ قرآن کے وارثوں نے اس آیت کی کیا وضاحت فرمائی ہیں ،
آئیں اس بارے میں روایات معصومین ع کا مطالعہ کرتے ہیں:
قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَا مَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡنَ کی تفسیر!
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام باقر علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے اس قول:
0ا يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ "اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا " [سورۃ ص۔ آیت 75] کے بارے میں دریافت کیا
تو امام ع نے فرمایا "ید" کلام عرب میں قوت اور نعمت کے معنیٰ میں ہے
امام ع نے فرمایا ؛ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ "اور ہمارے بندے صاحبِ قوت داود ع کو یاد کرو "
سورہ ص آیت 17
اور فرمایا : وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ " اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا اور ہم ہی وسعت دینے والے ہیں۔
سورہ الزاریات آیت 47
اور فرمایا : وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ " اور اپنی روح سے اس کی تائید کی" یعنی اس کو قوی کر دیا
سورہ المجادلة آیت 22
کہا جاتا ہے "فلاں کے مجھ پہ احسانات ہیں " یعنی بہت فضل و احسان ہیں ۔ اور " اس کیلئیے میرے پاس روشن ہاتھ ہے " یعنی نعمت ہے
حوالہ: التوحید للشیخ صدوق رح ، باب 13، صفحہ 130
اس حدیث میں امام ع نے آیت میں موجود لفظ "بیدی" جس کے معنیٰ میرے ہاتھ کے ہیں کو دیگر آیات کی مدد سے واضع کیا کہ اس لفظ کو عربی لغت میں کئی معنوں میں لیا جاتا ہے اور جس آیت کے بارے میں راوی میں سوال کیا گیا اس میں لفظ "ید" کا معنیٰ قدرت و قوت ہے
ایک اور حدیث اس ضمن میں دیکھتے ہیں
محمد بن عبیدہ نے امام علی رضا علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے ابلیس سے اس قول کے متعلق دریافت کیا کہ ""اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا تو نے تکبر کیا" [سورۃ ص۔ آیت ۷۵]
امام ع نے فرمایا : "بیدی" سے مراد میری قدرت اور قوت سے ہے
حوالہ: التوحید للشیخ صدوق رح ، باب 13، صفحہ 131
منقول
Comments
Post a Comment