غزوہ ہند پر ایک تحقیقی تبصرہ اهل سنّت اور اهل تشیع مکتب فکر سے

غزوہ ہند پر ایک تحقیقی تبصرہ اهل سنّت اور اهل تشیع مکتب فکر سے .....

غزوہ ہند کے بارے میں تحقیق اہلسنت کے مصادر سے ۔ ۔ !!

غزوہ ھند سے مخصوص ایک روایت ھے جسمیں خاص طور پر غزوہ ھند کا تذکرہ ملتا ھے ۔ مخصوص اور معین غزوہ ھند سے متعلق یہ روایت حضرت ابو ھریرہ سے مروی ھے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ھم سے غزوہ ھند کے بارے میں یہ وعدہ کیا کہ میں اگر غزوہ ھند میں شریک ہوں تو اپنی جان اور مال دونوں اس غزوہ میں صرف کروں گا اور اگر میں اس غزوہ میں شہید ہوگیا تو میں تمام شہداء میں افضل ترین شہید ہوں گا اور اگر اس جنگ سے زندہ لوٹ آیا تو میں ابو ھریرہ آزاد ہوں ۔ اس روایت کو امام احمد بن حنبل ، امام نسائی ، امام بیہقی اور حافظ ابن ابی عاصم نے روایت کیا ھے ۔ چنانچہ روایت کا متن ملاحظہ ہو ۔

وعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة الهند فإن أدركتها أنفق فيها نفسي ومالي وإن قتلت كنت أفضل الشهداء وإن رجعت فأنا أبو هريرة المحرر ۔

روایت کے طرق : اس روایت کے تین طرق ہیں ۔
۔ 1 ۔ طریق اول
امام احمد بن حنبل نے بایں طریق روایت کیا ھے ۔
حدثنا هشيم عن سيار عن جبرِ بنِ عبيدة عن أبي هريرة ۔

امام نسائی نے بایں سند روایت کری ھے ۔
أَخبرنا أَحمد بن عثمان بنِ حكِيم، قال: حدثنا زكرِيا بن عدي قال: حدثنا عبيد اللّه بن عمرو، عن زيد بْن أبي أنيسة، عن سيار قال: وأنبأنا هشيم عن سيار عن جبرِ بنِ عبيدة عن أبي هريرة ۔

یہ طریق ضعیف ھے کیونکہ اس طریق میں راوی جبر بن عبيدة ھے جو کہ مجھول الحال ھے ۔ کیونکہ سیار کے علاوہ کسی نے جبر بن عبيدة سے روایت نہی کری ۔ چنانچہ علامہ حافظ شمس الدین ذھبی نے میزان الاعتدال میں جبر بن عبيدة کا ترجمہ کیا ھے اور اس روایت کو ان کے ترجمہ کے ذیل میں ان کے مناکیر میں سے شمار کیا ھے ۔ // میزان الاعتدال // ۔

۔ 2 ۔ طریق ثانی ۔
امام احمد بن حنبل نے اس اسناد سے بھی روایت کری ھے ۔
حدثنا يحيى بن إِسحاق، أَخبرنا البراء، عنِ الحسن، عن أبي هريرة ۔

یہ طریق بھی متعدد علل کی بناء پر ضعیف ھے ۔
پہلی علت ضعف : اسمیں راوی براء بن عبد الله الغنوي ضعیف ھے ۔
دوسری علت ضعف : یہ سند منقطع ھے کیونکہ اس طریق میں حضرت ابو ھریرہ سے حسن بصری روایت کررہے ہیں حالانکہ حسن بصری کا حضرت ابو ھریرہ سے سماع ثابت نہی ھے ۔
تیسری علت ضعف : حسن بصری مدلس ہیں اور انہوں نے یہاں عنعنہ کیا ھے سماع کی تصریح نہی کری لہذا یہ آفت بھی روایت کے ضعف کو تقویت بخش رہی ھے ۔

۔ 3 ۔ طریق ثالث ۔
اس روایت کو ابن ابی عاصم نے بایں سند نقل کیا ھے ۔

حدثنا أبو الجوزاء أحمد بن عثمان قال: حدثنا عبد الصمد، قال: حدثنا ھاشم بن سعيد، عن كنانة بن نبيه مولى صفية، عن أبي هريرة ۔

یہ طریق بھی ضعیف ھے کیونکہ اس میں دو راوی هاشم بن سعيد اور كنانة بن نبيه ضعیف ہیں ۔

خلاصہ کلام :
فن مصطلح میں یہ اصول معروف ھیکہ ضعیف روایت کو کثرت طرق سے تقویت اسی صورت ملے گی کہ جب ان طرق میں ضعف معمولی نوعیت کا ہو بایں معنی کہ روایت کی اسناد میں کسی ایک راوی کا ضبط کمزور ہو تو اس صورت میں روایت کا اگر کوئی دوسرا طریق کسی اور راوی سے مروی ہو تو ایسی صورت میں طریق ثانی کی تقویت سے روایت حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ھے لیکن یہاں اس روایت کے ضعف کا ازالہ کثرت طرق کی تقویت سے نہی کیا جاسکتا کیونکہ طریق ثانی اور طریق ثالث کا ضعف شدید ھے کہ ان طرق میں آفات متعدد ہیں اور رجال بھی ایک سے زیادہ ضعیف ہیں لہذا یہ روایت اپنے تمام ہی طرق کیساتھ ضعیف ھے ۔ و اللہ أعلم بالصواب ۔

غزوہ ہند کے بارے میں تحقیق اهل تشیع کے مصادر سے ۔ ۔ !!

شیعہ منابع میں غزوہ ہند کا کوئی وجود نہیں ہے اور اہل سنّت کے منابع میں یہ ابو ہریرہ سے منقول ہے جس کی وجہ سے یہ اهل تشیع کے ہاں قابل قبول نہیں۔

نتیجہ :

غزوہ ہند کی کوئی حقیقت نہیں سنی اور شیعہ دونوں مکاتب فکر کے نزدیک غزوہ ہند کے حوالے سے کی گیئ روایت کا ضعیف ہونا ثابت ہے اور ان کے نزدیک ایسی روایات قابل حجت نہیں ہیں .... و اللہ أعلم بالصواب ۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں