اثبات ماتم از کتب اہلسنت

موضوع : *اثبات ماتم از کتب اہلسنت*
تحریر  📝 : *سید نادر حسین نقوی*
......................................................
*حضرت فاطمہ (ع) کا ماتم کرنا*
" و فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنھا ایں آواز شنید دست بر سر زناں از خانہ بیرون دوید."
*ترجمہ:* "حضرت فاطمہ زہرہ نے یہ آواز سنی (کہ حضور ص شہید ہو گئے) سر پیٹتی ہوئی گھر سے باہر (احد کی جانب ) دوڑیں."
📚(مدارج النبوت, جلد دوم, صفحہ, 163, شیخ عبدالحق دہلوی)
سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا شریعت کی عالمہ تھیں اور بنص قرآن معصوم تھیں لہذا سیدہ خاتون جنت کا رسول اللہ (ص) کی شہادت کی خبر سن کر ماتم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ شہید پر ماتم کرنا جائز ہے.
*حضرت عائشہ کا ماتم کرنا*
"حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے میرے حجرے میں وفات پائی. روح قبض ہو جانے کے بعد میں نے آپ کا سر تکیہ پر رکھ دیا اور پھر اٹھ کر عورتوں کے ساتھ رونے لگی اور اپنا سر پیٹنے لگی".
یہ حدیث اہلسنت کے مندر ذیل کتب میں ہے
📚(تاریخ طبری, جلد دوم, صفحہ 438 , )
📚(سیرت ہشام, حصہ سوم, صفحہ 264 )
📚(تاریخ ابن کثیر , جلد سوم, صفحہ 238 )
اہلسنت میں ایک حدیث مشہور ہے کہ رسول اللہ (ص) فرمایا میرا آدھا دین حمیرا (حضرت عائشہ) سے لینا اور رسول اللہ کی وفات پر حضرت عائشہ کا ماتم کرنا جس وقت دین بھی مکمل ہو گیا تھا لہذا ماتم کرنا حضرت عائشہ کی سنت ہے.
*موذن رسول حضرت بلال کا ماتم کرنا*
"حضرت بلال رسول اللہ کو نماز کے لیے بلانے گئے تو اصحاب رسول نے بتایا کہ آپ آج نماز کے لیے تشریف نہیں لائے گئے تو حضرت بلال محبت رسول میں, رسول اللہ کی تکلیف کے احساس و غم سے سر پیٹتے ہوئے حضرت عائشہ کے حجرے سے باہر چلے گئے".
📚(مدارج النبوت, جلد دوم, صفحہ 490 )
یہ واقعہ رسول اللہ کے مرض کا ہے اور آپ اس وقت زندہ تھے لہذا حضرت بلال نے زندہ رسول کے لیے ماتم کیا اور باہر اصحاب رسول کا جم غفیر تھا اور کسی صحابی نے حضرت بلال کو منع نہیں فرمایا کہ یہ ماتم جائز نہیں.
*ران پیٹنا حضرت آدم(ع) کی سنت ہے*
"روایت میں ہے کہ حضرت آدم (ع) کو اتنا رنج و افسوس ہوا تھا (ہابیل کے قتل ہوجانے کے بعد) کہ رانوں پر ہاتھ مارتے مارتے ہتھیلیوں اور زانوں کا گوشت ختم ہو گیا تھا اور صرف ہڈیاں ہی باقی رہ گئی تھیں".
📚(معارج النبوت, رکن اول, صفحہ 454 , مولانا معین کاشفی )
یقیناً اگر حضرت آدم کا اپنے بیٹے ہابیل پر ران پیٹنا جائز ہے تو امام حسین کی شہادت اعظمٰی پر بھی ماتم کرنا جائز ہے رسول اللہ نے فرمایا "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے"
*حضرت ابوبکر کی وفات پر اہل مدینہ کا ماتم*
"حضرت ابوبکر نے پیر کے دن وفات پائی. اس دن مدینہ میں عام بیقراری تھی ہر سمت سے ویسے ہی رونے اور پیٹنے کی آوازیں آ رہی تھیں جیسی پیغمبر کی وفات کے دن.
📚(تاریخ اعثم کوفی, صفحہ 43 , علامہ احمد بن ابو محمد بن علی اعثم)
*ران پیٹنا حضرت علی کی سنت ہے*
"جب ام المومنین حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنھا کو شکست ہوئی اور حضرت امیر المومنین حضرت علی علیہ اسلام نے مقتولوں کی لاشوں کو دیکھا تو اپنی ران پیٹنا شروع کر دیا".
📚(تحفہ اثنا عشریہ,صفحہ 638, شاہ عبدالعزیز دہلوی)
*حضرت عثمان کی ازواج کا ماتم کرنا*
"عبداللہ بن موسی مخزومی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو دشمنوں نے ان کا سر کاٹ لینے کا ارادہ کیا تو اس پر حضرت نائلہ اور حضرت ام البینین (حضرت عثمان کی بیویاں) لاش پر گر پڑیں اور انہوں اس کام سے روکے رکھا اور اس موقع پر یہ دونوں خوب چیخی اور چلانے لگی اور اپنا منہ پیٹنے لگی".
📚(تاریخ طبری, جلد دوم, صفحہ 421 , علامہ ابی جعفر محمد بن جریر طبری)
ہمارے پاس ماتم کے دلائل پر سینکڑوں روایات موجود ہیں مگر ہم خوف طوالت کی وجہ سے انہی حوالہ پر اکتفاء کرتے ہیں.
*نوٹ* اگر کسی صاحب کو ان حوالہ جات میں سے کسی عکس کی ضرورت ہو تو ہم سے رابطہ کرے.

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں