قیام امام حسین کے وقت کوفہ میں موجود گروہ
*قیام امام حسین کے وقت کوفہ میں موجود گروہ*
*بنو امیہ کے بہی خواہ* : بنو امیہ کی جماعت کے قیادت کوفہ میں عمرو بن حجاج، یزید بن حرث، عمرو بن حریث، عبداللہ بن مسلم، عمر بن سعد وغیرہ کے ہاتھ میں تھی۔ کوفہ میں 20 سال تک اموی حکومت کے دوران ان افراد اور ان کے دھڑے نے مالی اور سماجی طور پر دوسرے دھڑوں پر برتری رکھتے تھے۔
*شکاکین:* یہ وہ افراد تھے جو خوارج کی تشہیری مہم سے متاثر ہوئے تھے اور اگرچہ خود خوارج کے زمرے میں نہيں آتے تھے لیکن ہر وقت شک و تردد سے دوچار تھے؛ گویا یہ لوگ اصولی طور پر دین اسلام میں تردد اور تزلزل کا شکار تھے.
*الحمراء:* طبری کے بقول کوفہ میں 20 ہزار افراد وہ تھے جو موالی تھے یا مختلف اقوام اور غلاموں کی مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے تھے. یہ لوگ امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے زمانے میں مسلح تھے اور جنگجو افراد سمجھے جاتے تھے جو اجرت لے کر ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے اور ظالموں اور جابروں کے ہاتھ میں کاٹتی ہوئی شمشمیر تھے۔ یہ لوگ ہر قسم کے فتنوں اور بلؤوں کا خیر مقدم کرتے تھے اور یوں یہ لوگ اس قدر طاقتور ہوگئے تھے کہ حتی کوفہ کو ان سے نسبت دی جاتی تھی اور اور اس کو "کوفۃالحمراء" کہا جاتا تھا۔
*غیر جانبدار افراد:* کربلا میں امام حسین کے خلاف سب سے بڑا کردار ان افراد نے ادا کیا؛ ان افراد کا مقصد دنیا پرستی کے سوا کچھ نہ تھا؛ اگرچہ انھوں نے امام حسین کو دعوت دی تھی لیکن جب وہ اس یقین تک نہ پہنچ سکے کہ امام کا ساتھ دینے کی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں؛ چنانچہ عبید اللہ بن زياد کے وعدے وعید قبول کرگئے اور یزید کی فوج میں شامل ہوگئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا تعارف مشہور شاعر فرزدق نے امام حسین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے یوں کرایا ہے:
"قلوب الناس معك وأسيافہم عليك".؛
ترجمہ: ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور ان کی تلواریں آپ کے خلاف کھنچی ہوئی ہیں.[48].[49]
Comments
Post a Comment