قمه زنی

🔪🗡⚔ قمه زنی ⚔🗡🔪

حجت الاسلام محسن قرائتی فرماتے ہیں:

قمه‎زنی سے پرهیز کی مبلغین بزرگوار کی تاکید کے باوجود ایک شهر میں لوگ اپنے اعتقادات کی خاطر اسے چھوڑ نہیں رہے تھے. ہم سے کہا گیا کہ آپ وہاں جائیں اور انہیں اس سے روکیں. ماه محرم کے ایام تھے، کیونکہ ہمارے آنے کا اعلان کیا ہوا تھا اور لوگوں نے ٹیلیویزن پر دیکھا ہوا تھا، مسجد میں جمع ہوگئے.

جب داخل ہوا تو لوگوں نے کہا: آقا قرائتی قمه‎زنی کے بارے میں کہنے آئے ہیں.
میں نے کہا: میرا کام کیا ہے؟
انہوں نے کہا: آپ معلم قرآن ہیں.
میں نے کہا: معلم قرآن کے عنوان سے مجھے قبول کرتے ہو؟
انہوں نے کہا: جی قبول کرتے ہیں لیکن حرف قمه نہ کہیں، فقط قرآن سے بات کریں.
میں نے بورڈ پر لکھا:
​«بسم الله الرحمن الرحیم - یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»​ (سورہ بقرہ ۱۰۴)؛
«اے ایمان والوں! "راعنا" مت کہو، بلکه کہو: "انظرنا".» اسکے بعد توضیح دی که:
«یا ایها الذین آمنوا» یعنی: اے مؤمنین .
«لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»
راعنا مت کہو بلکه انظرنا کہو یعنی کیا؟ اسکا قصه‏ ‏کچھ اس طرح ہے که: پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم خطبہ کے حال میں تھے، نیچے بیٹھے ایک شخص نے کہا: راعنا، یعنی میری مراعات بھی کریں.
یعنی آہستہ سے بات کریں اور کمزور فہم افراد کا بھی خیال رکھیں.
یہ کلمه راعنا مثل گوشت ہے که اسے آلو کے ساتھ بھی پکایا جاسکتا ہے اور سبزی کے ساتھ بھی.
«راعنا» کو اگر «رعی‏» سے لیا جائے اسکے معنی «ہماری مراعات کریں» ہوتے ہیں اور اگر «رعن‏» سے ہو تو اسکے معنی بےوقفوف بنانے کے ہیں.
جب مسلمان «راعنا» کہتے تھے تو انکا هدف مقدس تھا و معنی «ہماری مراعات کریں» کا اراده کرتے تھے، لیکن یهودی‎ اس کلمے سے سو‌‍ء استفاده کرتے، کہتے تھے:
مسلمان‎ اپنے پیغمبر کو کہتے ہیں ہمیں بےوقوف بناؤ. یہاں آیت نازل ہوئی:
«یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»؛
«اے ایمان والوں! "راعنا" مت کہو، بلکه کہو: "انظرنا".»
یعنی جس کلمے سے دشمن سوء استفاده کرتے ہیں، اسے استعمال نہ کرو.!!
اس آیه کی تفسیر کے بعد کہا: جب آپ قمه لگاتے ہیں تو آپکا هدف مقدس ہوتا ہے اور عشق امام حسین علیه السلام میں یہ کام کرتے ہیں، لیکن یورپی نیوز چینلز نے آپکے اس کام کو ۱۲ مرتبہ دکھا کر کہا ہے که شیعه خودآزاری کے مرض میں مبتلا ہیں. دشمن آپکے اس کام سے یوں سوء استفاده کرتا ہے.

■ آج آپکا یہ کام صدر اسلام میں مسلمانوں کے «راعنا» کہنے کی طرح ہے که دشمن اس سے سوء استفاده کرتا تھا اور قرآن کریم نے اس آیه کے ذریعہ اس دور اور آج کے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے که:
•●■ ہر اس کام سے پرهیز کریں که جس سے دشمن سوء استفاده کرتا ہے. پس آج کیونکہ دشمن آپکی قمه‏ زنی سے سوء استفاده کرتا ہے، لہذا آپ قمه نہ لگائیں.
انہوں نے کہا: اب سمجھ گئے، آج کے بعد قمه نہیں لگائیں گے.!

( مجله مبلغان،
شماره 39 فروردین 1382)

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں