بصیرت کا ہونا کتنا ضروری ہے

بصیرت کا ہونا کتنا ضروری ہے ؟؟

آقاء خامنہ ائ کے بقول خوارج فقط سیاسی تجزیہ تحلیل نہ ہونے کی وجہ سے خوارج بنے ،

تاریخ کے اوراق میں کہیں بھی نہیں ملتا کہ خوارج شراب خوار تھے ،
جوا کھیلتے تھے ،
نماز نہیں پڑھتے تھے یا پھر حرام خور تھے۔

*عبداللہ بن خباب بن ارت،
وہ شخص ہے جو خوارج کے ہاتھوں قتل ہوا اس کے قتل کے اندر ایک نکتہ موجود ہے اس پر غور کریں:

خوارج نے عبداللہ اور اس کی حاملہ بیوی کو، کہ جو کوفہ کی طرف جا رہے تھے راستے میں حراست میں لے لیا اور اپنے سردار کی خدمت میں لے گئے۔

واضح رہے کہ یہ عبداللہ امام علی علیہ السلام کے ماننے والوں میں سے تھا،
عبداللہ کے جاننے والوں میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ جب عبداللہ کو خوارج نے اسیر کیا اس وقت چپکے سے میں دیکھ رہا تھا۔

یہ شخص کہتا ہے کہ عبداللہ کے سرانجام کو دیکھنے کیلئے میں ایک اونچے سے درخت پر چڑھا تاکہ دیکھ سکوں خوارج عبداللہ اور اسکی حاملہ بیوی کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

یہ کہتا ہے کہ میں نے دیکھا انہوں نے عبداللہ کا سر تن سے جدا کیا اور اسکی حاملہ بیوی کے شکم کو تلوار سے چیر کر اسکے بچے کو ماں کے شکم سے باہر نکالا اور اس بچے کے سر کو ننھے سے تن سے جدا کیا اور اس سر کو اسکے باپ عبداللہ کے سر کیساتھ لٹکا دیا !!

یہ سب کس جرم میں ؟؟
جی ہاں !
فقط عشق علی ع
کے جرم میں !

یہ شخص کہتا ہے کہ عبداللہ کے ماجرے کو ختم کر کے بلافاصلہ یہ لوگ وضو کر کے نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں ۔
راوی کہتا ہے کہ ان لوگوں کی نماز اس قدر طویل تھی کہ نزدیک تھا مجھے درخت پر ہی نیند آجاتی

نماز کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے چند خوارج ایک کھجور کے درخت کے پاس آتے ہیں ان میں سے ایک خارجی کھجور سے گرے ہوۓ ایک دانہ کو اٹھاتا ہے اور اسے کھانے لگتا ہے اسی لمحے ایک اور خارجی اسکی طرف بڑھتا ہے اور واویلا مچاتے ہوۓ فریاد کرتا ہے کہ اے بے ایمان شخص !

یہ کیا کررہے ہو ؟؟
اس کھجور کو کیوں ہاتھ لگایا؟
جبکہ اس کھجور کے مالک کی اجازت نہیں ہے !
یہ سن کر وہ خارجی جو کھجور کھا رہا ہوتا ہے اپنے منہ سے اس کو باہر نکال دیتا ہے۔

کیا آپ نے اس نکتہ پر غور کیا ؟

جی ہاں !! یہ لوگ مال حرام پر بہت حساس تھے ؟؟
ایسا تھوڑی نہ تھا کہ حرام خوری کی وجہ سے خوارج بن گئے ہوں ؟؟
یا ایسا بھی نہیں تھا کہ نماز میں کوتاہی کرتے ہوں !
جی نہیں !
الٹا یہ کہ بہت طولانی نمازیں پڑھا کرتے تھے
لیکن ؟

جنگ صفین میں وقت کے امام پر تلوار کھینچ لی اور انہیں حکمیت پر مجبور کر دیا ،

یہ قاتل علی ع اور علی ع کیساتھ جنگ لڑنے والا کافر نہیں ہے
خود علی ع کا ساتھی ہے۔

خلافت امام علی علیہ السلام کے آغاز سے ہی یہ گروہ امام ع کی بیعت میں آجاتا ہے ،

حتی کہ جنگ جمل میں جانفشانی کیساتھ امام ع کے ہمراہ جنگ کرتا ہے
لیکن
صفین کے اختتام پر خوارج میں تبدیل ہو جاتا ہے !!

وہ گروہ جس نے شروع سے ہی امام ع کا ساتھ دیا ،

امام ع کی بیعت کی ،
انکے رکاب میں جنگیں لڑیں
کیسے خوارج بن گیا ؟ یہاں تک کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

صبح قیامت تک ملائکہ ابن ملجم پر لعنت کرتے رہیں گے

پس معلوم ہوتا ہے حق سے باطل کی طرف جانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ،

بہترین ماضی کا ہونا ،
علی ع کا ساتھی ہونا ، سعادت کی دلیل نہیں
ہو سکتا بلکہ علی ع کا تا دم مرگ ساتھ دینا سعادت ہے ۔

فقط عابد ہونا کافی نہیں ،
بلکہ با بصیرت ہونا ضروری ہے ،
فقط دیندار ہونا ضروری نہیں ،
بلکہ دین کی معرفت ضروری ہے ،
فقط امام وقت کے نعرے لگانا اور اس کا ساتھی بن جانا کافی نہیں
بلکہ اسکی معرفت ہونا ضروری ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ کتنے ہی ایسے لوگ تھے جو اہلبیت ع کیساتھ تھے ان کے ہمراہ رہے لیکن آخر میں اہلبیت علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ دیا۔

خدا نہ کرے کہیں ایسا ہو ہم بھی العجل العجل پکارتے رہیں اور امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے نعرے لگاتے رہیں لیکن اپنی بے بصیرتی اور بے شعوری کی وجہ سے ولی امر مسلمین کو تنھا چھوڑ دیں۔

التماسءدعا

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں