ناصبیوں کی جانب سے یزید کی حمایت
*ناصبیوں کی جانب سے یزید کی حمایت*
ھم دیکھتے ہیں کہ ناصبیوں کے سلف اماموں نے یزید کے متعلق کیا تحریر فرمایا۔
اس سلسلے کی شروعات ہم اہل ِسنت کے امام عبدالحامد غزالی سے کرینگے۔
ایک سوال کے جواب میں ابن خلکان امام غزالی کا فتوی نقل کرتے ہیں:
سوال:اس شخص کے مطالق کیا رائے رکھی جائے جو یزید پر لعنت بھیجتا ہے اور اُسےفاسق تسلیم کرتا ہے اور دوسروں کو اُس پر لعنت بھیجنے کی ترغیب دیتا ہے ؟
کیا یزید کی کوشش حسینؑ کو قتل کرنے کی تھی یا اس کے افعال اس کے دفاع پر مبنی تھے ؟ کیا اُس کے نام ساتھ رحمۃ اللہ کہہ سکتے ہیں یا پھر خاموشی اختیار کرنا بہترعمل ہے ؟
جواب:یہ بالکل جائز نہیں کہ کسی بھی مسلمان پر لعنت کی جائے اور ایسا کرنے والا خود
لعنتی ہے اور پھر مسلمان کی لعنت کس طرح جائز ہوسکتی ہے جبکہ اس سلسلے میں واضح ممانعت ہے ۔یزید کا مسلمان ہونا ، اس کا حضرت حسینؑ کے قتل سے لاتعلق ہونا اور نہ ہی اس پر اُس کا خوش ہونا یہ سب معتبر روایات سے واضح ہیں۔ جب حضرت حسینؑ کے قتل میں اُس کا کردار ہونا ثابت نہیں تو اس کے مطالق منفی خیالات رکھنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ یہ بنا ثبوت کسی مسلمان کے بارے میں برے خیالات
ہیں اللہ تعالی فرماتا ہے : اے ایمان والوں گمان کرنے سے بچا کرو کے بعض گمان گناہ ہیں۔
اب جہاں تک یزید کو رحمت کی دعایں دینے کی بات ہے تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب بھی ہے ، یہ ایسا ہر عمل ہے جو ہم نماز کے بعد کرتے ہیں جو کہ ایک جامع دعا ہے:
اے اللہ: تُو تمام مومن مرد اورمومن عورتوں کو معاف فرما کیونکہ یزید بھی ایک مومن تھا۔
حوالہ جات:
1۔ تاریخ ابن خلکان ، ج 1 ص 413 ؛ ذکر عاقل بن حارث
2۔ تفسیر روح المعانی ، ج 26 ص 73 ؛ سورۃ محمد آیت 23
3۔ حیات الحیوان ، ص 196
[09-17, 1:44 PM] +98 938 900 1995: امام ِ اہل ِسنت علامہ جلال الدین سیوطی صحابی انس بن حارث سے بیان کرتے ہیں:
میں نے رسولﷺ کو کہتے سنا : *تحقیق میرا بیٹا حسینؑ کربلا کی زمین پر قتل کردیا جائیگا، تم میں سے جو بھی اُس وقت زندہ ہو وہ جائے اور اس کی مدد کرے۔*
(ج 2 ص 125 خصائص الکبر)
اب ناصبی ہمیں بتائیں کہ:
1۔ کیا جنہیں آپ صحابہ و تابعین کہتے ہیں انہوں نے اس حدیث کا پاس رکھا اور امام حسینؑ کی مدد کی؟
2۔ کیا آپ کے چہیتے اور معزز عبداللہ ابن عمر امام حسینؑ کی مدد کے لئے آئے ؟
3۔ جب یہ فرض تھا کہ امام حسینؑ کی نصرت کی جاتی تو آپ کے چہیتے صحابہ و
تابعین نے واقعہ کربلا کے بعد بھی یزید سے وفاداری کا عہد باندھا۔
4۔ ابن عمر کی یزید کے لئے وفاداری ایسی تھی کہ بقول انہی کے جو بھی یزید کی مخالفت کرے گا میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ رسولﷺ نے فرمایاکہ امام حسینؑ کی مدد کرنا الزم ہے۔ تو اہل ِسنت کس کے الفاظ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، ابن عمر کے یا رسولﷺ کے؟اس وقت تلخ حقیقت یہی ہے کہ آج جو اہل سنت اکژیت میں ہیں ان کے اجداد نے یزید کی قوأل فعأل مدد کا اقرار کیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت آج بھی یزید کی خلافت کو جائز تسلیم کرتے ہیں اور اگر کوئی اس تلخ حقیقت کو جھٹالنا چاہتا ہے تو ہم ناصبی ویب سائٹس کو چیلنج کرتے ہیں کہ اس بات کی تردید ثابت کریں۔۔
*بندہ حقیر بلال رضا*
[09-17, 1:44 PM] +98 938 900 1995: *ناصبیوں کی جانب سے یزید کی حمایت*
ھم دیکھتے ہیں کہ ناصبیوں کے سلف اماموں نے یزید کے متعلق کیا تحریر فرمایا۔
اس سلسلے کی شروعات ہم اہل ِسنت کے امام عبدالحامد غزالی سے کرینگے۔
ایک سوال کے جواب میں ابن خلکان امام غزالی کا فتوی نقل کرتے ہیں:
سوال:اس شخص کے مطالق کیا رائے رکھی جائے جو یزید پر لعنت بھیجتا ہے اور اُسےفاسق تسلیم کرتا ہے اور دوسروں کو اُس پر لعنت بھیجنے کی ترغیب دیتا ہے ؟
کیا یزید کی کوشش حسینؑ کو قتل کرنے کی تھی یا اس کے افعال اس کے دفاع پر مبنی تھے ؟ کیا اُس کے نام ساتھ رحمۃ اللہ کہہ سکتے ہیں یا پھر خاموشی اختیار کرنا بہترعمل ہے ؟
جواب:یہ بالکل جائز نہیں کہ کسی بھی مسلمان پر لعنت کی جائے اور ایسا کرنے والا خود
لعنتی ہے اور پھر مسلمان کی لعنت کس طرح جائز ہوسکتی ہے جبکہ اس سلسلے میں واضح ممانعت ہے ۔یزید کا مسلمان ہونا ، اس کا حضرت حسینؑ کے قتل سے لاتعلق ہونا اور نہ ہی اس پر اُس کا خوش ہونا یہ سب معتبر روایات سے واضح ہیں۔ جب حضرت حسینؑ کے قتل میں اُس کا کردار ہونا ثابت نہیں تو اس کے مطالق منفی خیالات رکھنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ یہ بنا ثبوت کسی مسلمان کے بارے میں برے خیالات
ہیں اللہ تعالی فرماتا ہے : اے ایمان والوں گمان کرنے سے بچا کرو کے بعض گمان گناہ ہیں۔
اب جہاں تک یزید کو رحمت کی دعایں دینے کی بات ہے تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب بھی ہے ، یہ ایسا ہر عمل ہے جو ہم نماز کے بعد کرتے ہیں جو کہ ایک جامع دعا ہے:
اے اللہ: تُو تمام مومن مرد اورمومن عورتوں کو معاف فرما کیونکہ یزید بھی ایک مومن تھا۔
حوالہ جات:
1۔ تاریخ ابن خلکان ، ج 1 ص 413 ؛ ذکر عاقل بن حارث
2۔ تفسیر روح المعانی ، ج 26 ص 73 ؛ سورۃ محمد آیت 23
3۔ حیات الحیوان ، ص 196
ابوبکر کے آخری الفاظ
"کاش مدینے میں ۔ *میں نے فاطمہ بنت_محمد(س.ع) کے گھر کی بےحرمتی نہ کی ھوتی*،چاھے وھاں میرے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی ھی کیوں نہ کی جارہی ھوتی"
(کتب_اھلسنت: 1.تاریخ_یعقوبی 2.تاریخ_طبری 3.مروج الذھب 4.کنزالاعمال 5.الامامۃوالسیاسۃ)
سب مومنین پرفرض ھے کہ پہلے خلیفہ کا یہ اعتراف_جرم دوسرے مومنین تک ضرور پہنچائیں، بی بی فاطمہ(س.ع) آپکے حق میں دعاگو ھونگی
قُرآن کی نص سے ثابت ہے کہ نبی پاک حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گستاخ ولدالزّنا (حرامی) ہوتا ہے
جیسا کہ سورة ن والقلم میں اللہ تعالیٰ نے دُشمن محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبیح صفات کا تذکرہ فرماتے ہوئے تکمیل آیت اس بات پر فرمائی کہ ارشاد ہے .وٙعتلُ بعد ذالکٙ زنیم.. اور ساری باتوں پر طرہ یہ ہے کہ اے حبیب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم .آپ کا گستاخ ذنیم یعنی ولدالزّنا (حرامی) ہے
اور سرکار رسالت پناہ حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے. کہ جس نے علی ( علیہ السلام) کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی
[ من سبّ علیّاً فقد سبّنی]
معلوم ھوا بارگاہ مرتضوی کا گستاخ بارگاہ مصطفوی کا گستاخ ہے اور بارگاہ مصطفوی کے گستاخ کو قُرآن ذنیم یعنی حرامی قرار دیتا یے
تو ہم اگر دشمنِ علیؑ کو حرامی کہتے ہیں تو بہت سی جبینوں پہ شکن آجاتے ہیں ارے ہم تو وھی کہہ رہے ہیں جو ارشاد خداوندی اور فرمان نبویؐ کے عین مطابق ہے ۔۔اگر ایک حرامی کے لیے اتنی ہی ہمدردی کا جذبہ اور محبت کا دریا کسی کے دل میں اُمڈ رہا ہے تو یہ اس کا فطری ذوق اور نصیبا ہے کہ وہ حرامیوں کی وکالت کر کے کس صف میں کھڑا ہونا چاہتا ہے ۔یہ اسکی اپنی پسند اور اپنا مقسوم ہے
حرامی کی محبت کم از کم ایک راز تو فاش کر ھی دیتی ہے
Comments
Post a Comment