حسین ع کو شکوہ ہے ان اہل منبر سے
*حسین ع کو شکوہ ہے ان اہل منبر سے*
بقلم مجتبٰی ہمدانی
ایک دور تک علماء ربانی و انقلابیون اس بات پر مزاحمت کرتے رہے کہ بے بصیرت اہل منبر نے شیعہ کو صرف اس کام پر لگا دیا ہے کہ وہ مقدسات اہلسنت کی توہین کرے اور جذبات مشتعل کرے۔ ایسی مجالس توہین آمیز جملوں، طنزیہ باتوں اور teasers سے بھرپور ہوتی تھیں۔ رفتہ رفتہ اس آفت سے کسی حد تک نجات ملی تو اب اصلاحی مجالس کے نام پر طھارت، وضو، اخلاقیات انسانی و کرامات اہلبیت کی ایسی کلاسز کا اجراء ہوتا ہے کہ جیسے ماہ محرم میں سرے سے کوئی افتاد ہی نہیں ائی!!!
آخر کیوں شیعہ حق کربلا و عاشوراء سے آشنا نہیں ہو رہا؟؟ کیوں وہ راز کربلا بتائے نہیں جاتے کہ عزادار جب مجلس میں آئے تو نارمل (غیر مضطرب) ہو مگر جب مجلس سے جائے تو مضطرب اور بے چین واپس لوٹے؟ کیوں اس مشکل و افتاد کا تذکرہ نہیں ہوتا جس نے حسین ع کا سکون چھین لیا اور حسین ع کو گھر بیٹھے رہنے نہیں دیا؟ کیوں وہ حرارت قلب (بنام حسین ع) عزادار کو نہیں دی جاتی جو کبھی ٹھنڈی نہ ہو۔ کیوں وہ غم دل حسین ع عزادار کے دل میں منتقل نہیں ہوتا کہ جب عزادار شب عاشور میں داخل ہو تو طاغوت وقت و ظالم دوراں کے لیے بے ضرر ہو مگر جب عصر عاشور گھر کو لوٹے تو ایک مزاحمتی کردار اور ایک مقاومتی resistant شخصیت سے تبدیل شدہ ایک نیا انسان جو قلب و فکر میں حسین ع کے سینے کے درد کو اپنے سینے میں لیے لوٹے؟؟
کیوں حسین ع کی شعوری مزاحمت اور اس راہ مزاحمت میں ڈٹ جانے کا ذکر تک نہیں!!! کیوں مجبور، لاچار و بے بسی کے اوصاف سے تراشا ہوا تصوراتی حسین ع جس پر گویا موت آن پڑی ہو (معاذاللہ) جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حسین ع نے موت کو جا لیا تھا
کیوں فضائل کے نام پر ایسے خود سے گھڑے نقطے جو پین کلرز کا کام کرتے ہیں اور ایک آمادہ عزادار کے قلب کو بھی ایسا بے حس کر دیتے ہیں کہ حسین ع کے دل کا درد ہی اسکو محسوس نہیں ہوتا
درد حسین ع یہ خنجر و تیر و سنا و بھالوں کے زخم نہیں تھے، ان تکالیف کے میدان میں تو حسین ع خود ارادتاً اترے تھے۔ اصل درد تو وہ تھا جو حسین ع کو کرب و بلا کے میدان میں لے آیا؛
وہ درد قلب حسین ع یعنی حاکمیت خدا و حکومت قرآن کا نہ ہونا
غم دل حسین ع یعنی خدا کی حاکمیت کے نفاذ کے بارے میں امت کا بے حس ہو جانا ہے اور کوئی اقدام نہ کرنا
درد جان حسین ع یعنی باطل طاغوتی طاقتوں کے سامنے معاشروں کا چپ سادھ لینا
درد حسین ع یعنی امت کا ظالم کے ظلم پر خود کو تسلی دینا، مطمئن کر لینا اور ظالم کے سامنے سر تسلیم خم کر لینا
درد حسین ع یعنی اپنوں کا، قریبیوں کا، دوستوں کا آنسو آنکھوں میں بھر کے حسین ع کو یہ کہنا کہ کیوں یہ راہ چھوڑ نہیں دیتے، کیوں کہیں روپوش نہیں ہو جاتے، کیوں کنبہ کٹوانے جا رہے ہو!! مگر حسین ع کے ہم آواز ہو کر یزید کی حاکمیت کا انکار نہ کرنا اور اللہ کی حاکمیت کا نعرہ بلند نہ کرنا
درد قلب حسین ع یعنی حسین ع کے عزم کی راہ میں تو حائل ہونا مگر باطل کے ارادوں کو خاک میں ملانے کا عزم نہ کرنا
یہ درد قلب حسین ع یہ غم دل نازنین حسین ع اگر عزادار حسین ع کے قلب میں بھی منتقل ہوتا تو یقینا اس عزادار کو اکساتا، اسکو ابھارتا کہ اے عزادار حسین آو، آؤ اس حسرت دل حسین ع کو پورا کرنے میں کسی بھی شکل میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آؤ کہ حاکمیت قرآن کا نعرہ تو بلند کریں، آؤ حکومت الہی کا شعار تو قوموں کو دیں، آؤ حسین ع کی آواز پر لبیک تو کہیں، آؤ کچھ نہیں تو کم از کم حسرت حسین ع کو اپنے دل کی حسرت تو بنا لیں
وہی تشکیل حکومت دین کی حسرت، نفاذ عدل الہی کی حسرت، نفاذ نظام ولایت و حاکمیت قرآن کی حسرت اور اس نفاذ و تشکیل کی راہ میں امت کے لبیک کہنے کی حسرت، یزیدان وقت اور انکے ظلم کے ایوانوں کو زمین بوس کرنے کی حسرت۔۔ یہ حسرتیں کیوں ایک عزادار کے سینے میں ایجاد نہیں ہوتیں!!! کیوں سینکڑوں سال سے کربلا کو کعبہ و قبلہ بنائے امت، حسین ع کے قلب میں چھپی بات کو معلوم نہ کر سکی؟ انہی رسوماتی اہل منبر کی وجہ سے جنھوں نے امت کو یہ سب کچھ بتایا ہی نہیں، راز کربلا کھولا ہی نہیں کیا، غم قلب حسین ع سمجھایا ہی نہیں، مزاحمت کا درس پڑھایا ہی نہیں۔ جنھوں نے ایک دردمند کو بھی اگر وہ مجلس میں چلا جائے تو پین کلر دے کر واپس بھیج دیا۔ ان سب سے حسین ع کا شکوہ ہے ان سب نے حسین سے خیانت برتی ہے۔
*ہمدانی* 🗣للپپ
Comments
Post a Comment