دھمال
دھمال
دنیاوی تھکاوٹ اور عذابِ آخرت ھے:
دھمال کیا ھے اور مولا علی ع نے اس فعل کے متعلق کیا فرمایا ھے.
تحریر و تحقیق: "سائیں لوگ"
جب امیرالمومنین علی ع کوفه سے دمشق کی طرف شام جنگ کیلۓ لشکر لے کر جا رھے تھے,
راستے میں انبار شھر کے زمینداروں کو جب پتا چلا که امام علی ع کا گزر ھو رھا ھے تو وه لوگ استقبال کیلۓ شھر سے باھر آ گۓ .
اور آپ علی ع کے لشکر کے آگے ترجل شروع کیا,ترجل ,رجل سے ھے رجل پاؤں کو کھتے ھیں,
یعنی پاؤں اٹھا کر زمین پر مارنا جس کو ھم اپنی زبان میں دھمال یا (بھنگڑا ) کھتے ھیں.
انھوں نے امیر المومینین علی ع کے سامنے دھمال ڈالنا شروع کر دیا.
تو علی ع نے پوچھا:
ماھذه الذی صنعتموه,
یه لوگ کیا حرکت کر رھے ھیں کھا که آپ ع کا استقبال کر رھے ھیں.
ھم اپنے امیروں,حکمرانوں کا استقبال اسی طرح کرتے ھیں.
تو حضرت علی ع نے فرمایا :
والله ماینتفع بھذه امراءکم ,
خدا کی قسم تمھارۓ والی و تمھارۓ حکمران ان باتوں سے کوئی فائده نھیں لیتے ,
یعنی تمھارۓ بھنگڑۓ دھمال مجھے کوئی فائده نھیں دیتے اور نه ھی تمھارۓ لئے کوئی فائده ھے.
ھاں یه ضرور ھے که تم دنیا میں اپنی جانوں کو مشقت میں ڈالتے ہو اور آخرت میں اس دھمال کی وجه سے بدبختی اور عذاب میں ره جاؤ گے.
اور وه کتنے گھاٹے کی مشقت ھو گی جسکی تمھیں سزا بھگتنا پڑے گی.
مجھے ان طریقوں سے خوش کرنے کیلئے نه آؤ بلکه علی ع دھمال یا بھنگڑے سے خوش نھیں ھوتے,
چونکه علی ع دھمال سے خوش نھیں ھوتے نه ھی دھمال کو پسند کرتے ھیں.
لوگ پریشان ھو گئے که یه پہلے امیر ھیں جو دھمال کو ناپسند کر رھے ھیں,
جبکه پہلے جو حکمران آتے تھے وه تعریفیں بھی کرتے تھے.پیسے اور انعام بھی دیتے تھے.
مولا علی ع نے فرمایا یه دھمال دنیاوی تھکاوٹ اور آخروی شقاوت ھے.
اس دھمال یا بھنگڑۓ سے نه میں خوش ھوتا ھوں اور ناں میرا خدا خوش ھو گا.
اور نه ھی تمھارۓ دھمال کا کوئی فائده ھے. بھنگڑوں دھمالوں کو چھوڑو اور سنو پهلے مجھ سے پوچھو که تمھارا فریضه کیا بنتا ھے .
تمھارا فریضه بھنگڑا اور دھمال نھیں بلکه تمھارا فریضه یه ھے که شمشیر اور ڈھال لو نیزه اور تلوار ھاتھ میں پکڑو اور میرۓ ساتھ میری فوج میں مل کر اس طاغوت اور ظالموں کو کچلو جو اسلام کے دشمن ھیں یه تمھارا فریضه ھے.
فرائض سے مت دور رھو دین شناسی لو توھمات کا مت شکار ھو جاؤ.من گھڑت راھوں پر مت سفر کرو قرب خدا حاصل کرو.
حضرت امیر ع فرماتے تھے میری حسرت تھی کاش میری باتوں کو کوئی سمجھتا.
آج یھی دھمال درباروں میلوں پر عبادت و عقیدت اور قرب حاضر صاحب مزار کے طور پر لوگ ادا کرتے ھیں.
جیسے شھباز قلندر کی قلندری دھمال اور بھلے شاه بابا کا دھمال مشھور ھے.
یه جھالت ھے که فرائض کو بھلا کر ناچ کر بزرگ یا رضاۓ الھی کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ھے.
جبکه مولا علی ع نے واضح الفاظ میں اس فعل بد کی مذمت دنیاوی تھکاوٹ اور آخروی عزاب سے تعبیر کیا ھے.
یه تحریر ھدایت و اصلاح پر پیش کی گئی ھے
ناکه تعصب و نکته چینی پر
لھذا بے فائده تنقید و توھین سے پرھیز کیا جاۓ.
مذید یه واقع آپ نھج البلاغه ص نمبر 824/
حکمت نمبر :37 پر تفصیلی ملاحظه فرما سکتے ھیں.
یه فرمان امیر ع ھے ناکه کسی صوفی و عام آدمی کا.
Comments
Post a Comment