اصحابِ کھف

اس حقیقت سے تو سب لوگ واقف ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے سرِ اقدس نے نوکِ سناں پہ قرآن کی تلاوت کی ۔ لیکن یہ بات بہت غور طلب ہے کہ امامؑ نے نوکِ سناں پر کس آیت کی تلاوت کی ۔ راویان بیان کرتے ہیں کہ کُوفہ میں امام حسینؑ کا سرِ مبارک اس آیت کی تلاوت کرتا رہا ۔

اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡـكَهۡفِ وَالرَّقِيۡمِۙ كَانُوۡا مِنۡ اٰيٰتِنَا عَجَبًا
"کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اصحابِ کھف و رقیم ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے" سورہ الکھف آیہ 9

امام حسینؑ نے پورے قرآن میں سے اسی آیت کا انتخاب کیوں فرمایا ۔ یہ وہ سوال ہے جو 1400 سال سے محقیقین کے سامنے ہے ۔ محقیقین اس پر مختلف آراء پیش کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی اھم ترین وجہ یہ ہے کہ اس آیہِ مبارکہ میں اصحاب کھف کا ذکر ہے ۔ روایاتِ معصومینؑ کے مطابق اصحابِ کھف امام مھدیؑ کے اصحاب ہیں ۔ امام جعفر صادقؑ کی حدیث میں ہے کہ امام زماںؑ جن ستائیس افراد کو پُشتِ کعبہ سے برآمد کریں گے اُن میں سات اصحابِ کہف بھی شامل ہیں ۔ اس اھم موقعے پر اصحابِ قائمؑ کا تذکرہ کر کے امامؑ نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے انتقام کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

اصحابِ کہف سات جوان تھے جو دینِ حق پر تھے ۔ جنابِ عیسیٰؑ کی تعلیمات کے پیروکار تھے اور اپنا دین چُھپاتے تھے ۔ یہ غالباً موجودہ تُرکی کے ایک شھر اِفسُوس کے رہنے والے تھے (بعض تاریخ نگاروں نے ان کا مسکن موجودہ اُردن کا دارلحکومت عمان بیان کیا ہے) ۔ یہاں کا بادشاہ دقیانوس (Decius) تھا جو مُلکِ رُوم کی طرف سے یہاں حُکمران تھا ۔ ان سات جوانوں میں سے چھ دقیانوس کے اھلِ دربار میں سے تھے ۔ ان کا سردار مکسملینا (Maximillian) دقیانوس کا داماد تھا ۔ دقیانوس کی بیٹی بھی اپنے شوہر کی طرح اھلِ ایمان میں سے تھی ۔ ان چھ کے علاوہ ساتواں وہ چرواہا ہے جو غار کی سمت جاتے وقت ان کے ساتھ ہو گیا تھا ۔ اُسی چرواہے کا کُتا قِطمیر تھا جو ان کے ساتھ ہی غار میں موجود ہے ۔ اِس چرواہے نے ان چھ جوانوں کو اُس رات اپنے گھر میں پناہ دی تھی جب یہ دقیانوس کی قید سے فرار کر گئے تھے ۔ اِنھیں اصحابِ کھف اس لیئے کہا گیا کہ عربی میں کہف غار کو کہا جاتا ہے ۔ لیکن عُرفاء ایک لطیف نُکتہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ "الکھف" حضرتِ حُجتؑ کا لقب بھی ہے ، اس عُنوان سے بھی انھیں اصحاب الکھف کہا گیا ہے ۔ اس داستان میں کئی اسرار ہیں ۔ چرواہا کون تھا ۔ قطمیر کی تخلیق میں کیا راز ہے ۔ غار میں ان کا 309 سال سونا (309 کہ جس کا عدد بارہ بنتا ہے) ۔ پھر جاگنا اور پھر تاوقتِ ظھور سو جانا ۔ انھیں اصحاب الکھف و الرقیم کیوں کہا گیا ۔ الرقیم سے مُراد کیا ہے ۔  آج بھی اگر کوئی ان کے غار تک پہنچ جائے اور اندر داخل ہو تو اُس پر خوف و دہشت طاری ہو جائے گی ، اس کا راز کیا ہے (قِطمیر اُس غار کے دروازے پہ پاؤں پھیلا کے بیٹھا ہے) ۔ آخر کیا راز ہے کہ قائم آلِ محمدؑ کے اصحاب کی حفاظت اللہ عزوجل عجیب انداز میں فرماتا ہے ۔ ان تمام باتوں پر اس مُختصر تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا ، لحاظہ موضوع کی طرف واپس آتے ہیں ۔ (اس تحریر کے آخر میں اصحابِ کھف کے اسماء گرامی تحریر کیئے جائیں گے جنھیں لکھ کر گھر میں لٹکایا جائے تو بہت سی مصیبتوں اور بلاؤں سے اَمان ملتی ہے ۔ بالخصوص چوری سے) ۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ آیت امامؑ نے کوفہ میں تلاوت فرمائی ۔ شھرِ کوفہ کا امامِ زماںؑ کے ظھور میں بہت اہم حصہ ہے ۔ یہ شھر امامِ زماں کا دارلخلافہ بھی ہو گا اور امامؑ کی رھائش گاہ بھی ۔ امامؑ کے اصحابؑ و انصار بھی اسی شھر کو مسکن بنائیں گے ۔ گویا اس آیت کی تلاوت کر کے مولاؑ نے کوفیوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ تم بے وفا ہو مگر تمھارے بعد یہ شھر اُن لوگوں سے بسے گا جو کربلا میں ہونے والے ظُلم کا انتقام بھی لیں گے اور آلِ محمدؑ کے حقیقی وفادار بھی ہوں گے۔ امامؑ نے نوکِ سناں پر تلاوت کی جانے والی آیات کا انتخاب اپنے بیٹے قائمؑ کے حوالے سے کیا ، اس بات کو مزید تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ مُلکِ شام میں مولا کے سرِ اقدسؑ نے جس آیت کی تلاوت فرمائی وہ یہ تھی :

وَ سَیَعلَمُ الَّذینَ ظَلمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ
"جن لوگوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ کہاں پلٹائے جا رہے ہیں"

روایات بتاتی ہیں کہ یہ آیت بھی ظھورِ قائمؑ کے متعلق ہے ۔ لحاظہ اس پورے سفر میں امام حسینؑ نے وہی آیات مُنتخب کیں جن کا تعلق قائم آلِ محمدؑ کے ظھورِ مُقدس سے ہے ۔ دُعا فرمائیں کہ مالکِ زمانہ (عجل اللہ فرجہ) کا ظھور جلدی ہو ۔ تاکہ اصحابِ کھف کا انتظار بھی ختم ہو سکے ۔ (ان کا انتظار ھم سے بھی بہت طویل ہے) ۔

اصحابِ کَھف کے اسمائے مُقدس:

1۔ جنابِ مکسملینا
2۔ جنابِ تِلمیخا
3۔ جنابِ مرطولس
4۔ جنابِ ثبیونس
5۔ جنابِ دردونس
6۔ جنابِ کفاشیطیطوس
7۔ جنابِ منطنواسیس (چرواہا)
آٹھواں اِن کے ساتھ اِن کا وفادار کُتا (قِطمیر) ۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں