جهانگیر کی بیوی
جهانگیر کی بیوی *********************************************
جہانگیر کی بیوی نور جہاں شیعہ تهی اسنے ایران خط لکها کہ ایران کے سب سے بڑے مناظر کو ہندوستان بهیج دو تاکہ مناظرہ میں شیعہ مزہب کی حقانیت بیان کرے اور ساته میں تحریر کیا کہ وہ مناظر سیدھا آگرہ نہ آئے بلکہ لاہور سے ہوتا ہوا آئے جہاں علماء نہیں ہیں بلکہ صوفیاء ہیں جن کو مات دینا آسان ہے اسطرح شیعہ مناظر کی آگرہ آنے سے پہلے دهاک بیٹه جائے گی
شیعہ مناظر سیدھا میاں میر صاحب کے پاس پہنچا آپ اشراق کی نماز سے ابهی فارغ ہی ہوئے تهے ، جیسے ہی وہ دروازے میں سے داخل ہوا آپ نے فرمایا
" یہ شخص جو آگے آگے آ رہا ہے اس کا دل سیاہ ہے "
علیک سلیک کے بعد حضرت نے دریافت فرمایا کیا کام کرتے ہو ؟ شیعہ مناظر بولا کہ میں ایران سے آیا ہے ہوں اور شان اہل بیت بیان کرتا ہوں
میاں میر صاحب نے فرمایا اہل بیت کی شان بیان کرو تاکہ سنی کا ایمان بڑهے
شیعہ مناظر بولا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی یہ شان ہے کہ کوئی گناہ گار شخص بهی آپ رضی اللہ عنہ کے مزار کے 40 میل کے ارد گرد دفن ہو جائے تو وہ بخش دیا جاتا ہے ، میاں میر صاحب نے بار بار فرمایا پهر سنا پهر سنا اور پهر پوچها کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو یہ مقام کیسے ملا تو شیعہ مناظر بولا کہ آپ رضی اللہ عنہ تو محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے تهے اس وجہ سے یہ مقام ملا
تو میاں میر صاحب نے فرمایا کہ جب نواسے کی یہ شان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا عظیم شان ہو گی ، وہ بولا بے شک بڑی شان ہے پهر میاں میر صاحب نے سوال کیا کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار میں انکے ساته سوئے ہوئے ہیں کیا وہ بخشے نہیں جائیں گے
شیعہ عالم ہکا بکا رہ گیا اور آگرہ آنے کی بجائے واپس ایران چلا گیا اور یہ کہہ کر گیا کہ جہاں کے صوفی بزرگ ایسا علم رکهتے ہیں تو یہاں کے عالموں کا کیا مقام ہو گا اور یہ وہ سوال کیا گیا ہے جس کا جواب قیامت تک کوئی شیعہ نہ دے پائے گا...
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں.
قاری ابو تنویرمعاویہ
🔷🔹 *{کہانی کا دوسرا رخ}*🔹🔷
💎💎 *جہانگیر* کی بیوی *نورجہاں* شیعہ تھی اس نے *ایران* خط لکھا کہ وہاں سے کسی جید عالم کو ہندوستان بھیج دو تاکہ ہندوستان میں شیعہ مذہب کی حقانیت کو بیان کرے،اور ساتھ ہی تحریر کیا کہ عالم سیدھا آگرہ آنے کے بجائے لاہور سے ہوتا ہوا آئے کہ کیونکہ یہاں کے لوگ صوفیائے کرام سے تعلق کی بنا پر محب اہل بیت ہیں اس لئے ان پر تبلیغ کرنا نسبتا آسان ہے۔💎💎
🔶🔸خط کے پہنچتے ہی ایک سید عالم دین جناب *سید حسین موسوی* نے رخت سفر باندھا او اپنے ایک *کمسن شہزادے* کو بھی ہمراہ لیا ،اور سیدھے لاہور پہنچے اور یہاں مختصر قیام کیا ،یہاں کے کچھ متعصب لوگوں کو جب پتہ چلا کہ ایک شیعہ عالم ایران سے آیا ہوا ہے اور لوگوں میں شیعہ مذہب کی تعلیمات کو پھیلا رہا ہے تو انہوں نے وہاں کے سب سے بڑے *مفتی* کو بحث کے لئے آمادہ کیا تاکہ شیعہ عالم کو مات دی جا سکے،
شیعہ عالم *علامہ سید حسین موسوی* ابھی نماز ظہر کی سنتوں سے فارغ ہوئے تھے کہ *مفتی صاحب* حاضر ہوئے،
شاہ صاحب نے اس کو دیکھتے ہی کہا
یہ شخص جو آرہا ہے اس کا دل امیر المومنین ع کے بغض کی وجہ سے سیاہ ہے
علیک سلیک کے بعد *مفتی* نے شاہ صاحب سے سوال کی اجازت مانگی انہوں نے انتہائی فراخدلی سے اثبات میں سر ہلایا تو مفتی صاحب یوں گویا ہوئے؛
" *سنا ہے آپ شیعہ حضرات کے نزدیک کہ امام حسین رض کی یہ شان ہے کوئی گناہ گار شخص بھی آپ رض کے مزار کے 40 میل کے ارد گرد دفن ہو جائے تو وہ بخش دیا جاتا ہے " تو اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر نواسے کی اتنی بڑی شان ہے تو نانا کی شان کیا ہو گی* 🤔
لیکن وہاں آپ لوگ قانون تبدیل کردیتے ہیں اور جو لوگ ان کے پہلو میں دفن ہیں ان کے بارے میں ایسا حکم کیوں نہیں لگاتے.؟
شاہ صاحب نے مسکرا کر اپنے کمسن شہزادے سید محسن علی کی طرف اشارہ کیا
بیٹا محسن یہ مفتی صاحب کیا پوچھ رہے ہیں زرا ان کی بات کا جواب تو دو!
محسن جو ابھی بمشکل 12 یا 13 سال کا ہو گا، بڑے بے باک مگر با ادب انداز میں گویا ہوا
" *مفتی صاحب اگر آپ کی بات درست ہوتی تو ہم لشکر یزید کے ان افراد کو بھی مرحوم و مغفور کہتے جو میدان کربلا میں دفن ہیں اور ہر گز ان پر لعنت نہ بھیجتے جبکہ اس کے برخلاف آپ جانتے ہیں کہ ہم شب و روز تمام لشکر یزید پر لعن طعن کرتے ہیں پس آپ کا سوال ہی غلط ہے* "☑
ابھی بچے کی بات مکمل ہوئی تھی کہ علامہ حسین موسوی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:
📚 *یہ قرآن کریم کا مسلمہ اصول ہے کہ کوئی شخص بھی محض کسی نبی یا ولی کے پہلو میں دفن ہونے سے بخشا نہیں جاتا بلکہ اس کے لئے ایمان و کردار کا اعلی ہونا شرط ہے*"
💡جناب مفتی صاحب آپ جیسے نامور عالم سے بعید تھا کہ ایسی سنی سنائی باتوں پر دھیان دیتا،
مفتی صاحب نے جو پہلے سے ہی بچے کا جواب سن کر دنگ رہ چکے تھے اب اس سے پہلے کہ علامہ موسوی کی عالمانہ باتوں کے سامنے مزید خفت محسوس کرتے وہاں سے جلد واپس جانے کو ہی غنیمت جانا اور ساتھ ہی دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ لوگ سچ کہتے ہیں کہ *شیعوں کا چھوٹا سا بچہ بھی ہمارے عالم سے زیادہ علم رکھتا ہے*۔
سچ ہے کہ سنی سنائی باتوں اور آنکھوں دیکھی باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے.
عزیز دوستان اس تحریر کو
جتنا ہو سکے ثواب سمجھ کر فاروڈ کریں تاکہ کوئی ناصبی و خارجی من گھڑت داستانوں کے ذریعے سادہ لوح افراد کو گمراہ نہ کرسکے۔
Comments
Post a Comment