حضرت عمر اور حضرت ابو بکر نبی پاک ص کے دائیں بائیں دفن ہیں
🌹ہمیشہ ہم سے پوچھنے والوں سے کچھ پوچھنا ہمارا بھی حق ھے 🌹
حضرت عمر اور حضرت ابو بکر نبی پاک ص کے دائیں بائیں دفن ہیں جب کہ حضرت علی میلوں دور دفن ہیں تو اس لیے یہ صحابہ حضرت علی پر برتری رکھتے ہیں۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ"
"نبی کی اجازت کے بغیر ان کے گھر میں داخل نہ ہو۔"(سورۃ احزاب آیت 53)
آپ ص کی قبر مبارک آپ ص کے شخصی گھر میں ہے۔اور آپ ص نے ایسی کوئی اجازت نہیں دی تھی۔
اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے اپنے مہر کے طور پہ یہ رقم اپنے شوہر حضرت محمد ص سے طلب کی تھی۔ اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے باپ کو بخشی تھی۔
لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ص سے ارشاد فرماتا ہے کہ:
"اے نبی! ہم نے تمہای بیویوں کو تم پر حلال کر دیا ہے جن کا مہر تم دے چکے ہو۔"(سورۃ احزاب آیت 29)
لہذا آپ ص اپنے زمانہ حیات میں ہی مہر ادا کر چکے تھے۔لیکن اس بات کے بعد پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے اپنے حصے کا ارث اس گھر سے لیا تھا۔اور اس کو اپنے والد کو بخشا تھا اس بنا پر ان کے جنازے وہاں دفن کیے گئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہلسنت کے عقیدے کے مطابق نبی پاک ص اپنے ورثہ کےلیے کوئی چیز ارث میں چھوڑ کر نہیں گئے۔اور اگر ورثہ چھوڑ کے گئے تو تین باتیں زیر غور ہیں۔۔۔۔۔۔۔
1۔ حضرت فاطمہ سے باغ فدک کیوں لیا گیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
2. ورثہ میں اسلام بیٹی کا حق دیتا اگر تدفین کا جواز ملکیت ہی تھی تو امام حسن کے دفن سے کیوں روکا گیا اور تیر تک چلاۓ گئے ؟
3۔ آپ ص کے دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت آپ ص کی نو ازواج تھیں۔ اگر اس زمین کہ جس پہ آپ ص اور ساتھ دائیں بائیں دونوں اصحاب مدفون ہیں ، کو نو افراد میں تقسیم کریں تو ہر ایک کےحصے میں ایک بالش زمین آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا حضرت عمر و حضرت ابو بکر کو ایسی زمین میں دفنانا صحیح تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
Comments
Post a Comment