سکندر، جہاں ہو وہیں بیٹھ جاؤ۔۔!

سکندر، جہاں ہو وہیں بیٹھ جاؤ۔۔!
تحریر: Raja Sb
نشتر پارک کراچی میں جولائی ۱۹۵۷ کی شدید گرم حبس زدہ شام تھی، عشرہِ اولیٰ کی مرکزی مجلسِ عزا سے خطیبِ عالمِ اسلام حضرت علامہ رشید ترابی صاحب خطاب فرما رہے تھے۔ ان وقتوں میں نشتر پارک ایک وسیع پارک تھا اب تو بوجہ آبادی اور دیگر عوامل اس کا رقبہ کم ہو چکا ہے اور تعمیرات ہو چکی ہیں۔ علامہ صاحب کو سننے شیعہ سنی عزادارانِ امام مظلوم کا جمِ غفیر جمع تھا اور مجمع نشتر پارک کی حدود سے باہر نکلا ہوا تھا۔ آس پاس کی گلیوں میں بھی مومنین بیٹھے علامہ صاحب کا خطاب سن رہے تھے اور حبِ اہلِ بیت ع میں ڈوبے علمی نکّات سے مستفید ہو رہے تھے۔ اسی اثنا میں ایک جانب سے غول اٹھا، معلوم ہوا کہ صدِ پاکستان جناب اسکندر مرزا صاحب تشریف لا رہے ہیں، اور ُان کے آنے کی وجہ سے مجلسِ عزا کے ماحول پر اثر پڑ رہا ہے۔ یہ مجلسِ عزا ہے یہاں امیر کبیر، سرکار و گدا سب برابر ہیں، سب فرشِ عزا پر بیٹھتے ہیں سب حسین علیہ السلام کے عزادار ہیں، یہاں کسی کو اس کی دنیاوی حیثیت کی بنا پر دوسروں پر فوقیت نہیں دی جاتی چہ جائیکہ اس کی وجہ سے زکرِ امامِ مظلوم میں خلل واقع ہو۔ علامہ صاحب نے وہیں سے صدرِ پاکستان کو مخاطب کیا۔

“اسکندر، تمہیں ترابی حکم دیتا ہے ۔۔ جہاں ہو وہیں بیٹھ جاؤ”

واقفانِ حال کہتے ہیں کہ اس وقت صدِ پاکستان اسکندر مرزا صفِ عزا کے باہر پڑے جوتوں کے اوپر سے گزر رہے تھے، انہوں نے جیسے ہی علامہ صاحب کا حکم سنا وہیں بیٹھ گئے اور بقیہ مجلس وہیں جوتوں کے اوپر بیٹھ کر سنی۔

نواب مظفر علی خان قزلباش وزیر اعلٰی مغربی پاکستان تھے۔ ان کا معمول تھا کہ ۹ محرم کو لاہور کے مرکزی جلوس بمقام کرشن نگر تشریف لاتے تھے۔ کار سے ننگے پاؤں اترتے، جلوس میں آتے اور آ کر ذوالجناح کی باگ پکڑ لیتے، اس طرح کچھ دیر ذوالجناح کے ساتھ جلوس میں شریک رہتے اور پھر واپس چلے جاتے۔ بیگم نصرت بھٹو جب اسلام آباد میں بھٹو صاحب کے ساتھ قیام پزیر تھیں تو ان کی عادت تھی سیٹیلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک گھر میں منعقدہ خواتین کی مجلسِ عزا میں شرکت کرتیں۔ اکیلے بنا پروٹوکول کے تشریف لاتیں، عزاداری کرتیں اور واپس تشریف لے جاتیں۔ بیگم صاحبہ کی عزاداری میں شرکت  کی تفصیل Ali Jaffar Zaidi کی کتاب “باہر جنگل اندر آگ” میں درج ہے۔ خود حضرتِ قائدِ اعظم علیہ الرحمہ جو پاکستان بننے کے بعد شدید علیل رہے مگر آنے والے محرم میں ۷ محرم کو آپ نے خود جہانگیر پارک میں منعقدہ مجلسِ عزا  میں شرکت کی اور نیچے بیٹھ کر مجلسِ عزا سنی جس کی تصویر آج بھی قائدِ اعظم آرکائیوز میں محفوظ ہے۔

یہ وہ اقدامات ہوتے ہیں جو ملک میں رہنے والی تمام مذہبی اکائیوں میں احساس پیدا کرتے ہیں کہ ریاست انہیں اپنا رہی ہے، عزت دے رہی ہے اور خوشی غمی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی طرح یحییٰ خان، بیگم نصرت بھٹو اور دیگر صاحبانِ اقتدار کے مجالسِ عزا میں شرکت کے واقعات ملتے ہیں۔

وقت گزرتا گیا، اور قائدِ اعظم، لیاقت علی خان، اسکندر مرزا، بیگم نصرت بھٹو اور نواب قزلباش کے پاکستان میں یہ وقت آ گیا کہ آج ہمارے حکمران رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع میں ہر سال شرکت کر سکتے ہیں، عرس داتا صاحب میں مزار کو غسل دینے جا سکتے ہیں،  کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے ساتھ کیک کاٹ کر ان کو اپنائیت دکھا سکتے ہیں۔ سکھ برادری کے لیے عالمی سکھ کنونشن منعقد کر سکتے ہیں مگر نہیں کر سکتے تو ملتِ جعفریہ کے ساتھ ایامِ عزا میں مجلسِ عزا و جلوس ہائے عزا میں شرکت نہیں کر سکتے۔ ملتِ جعفریہ اس ملک میں پانچ کروڑ کی آبادی پر مشتمل مسلمانوں کا وہ مکتبہِ فکر ہے جو محمد و آلِ محمد ص سے محبت اور عقیدت عزیز از جان رکھتا ہے۔ جن کی مجالس میں سوا بنامِ خدا، ان پاک ہستیوں کی مدح اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ آپ ان کی مجالس میں شرکت نہیں کر سکتے، آپ دو قدم ان کے ساتھ جلوسِ عزا میں شرکت کر کے ان کو یہ عملی پیغام نہیں دے سکتے کہ ہم اپنے شہریوں میں عقیدے کی بنا پر تفریق نہیں کرتےاور ہم صرف زبانی جمع خرچ نہیں کرتے، ہم عملی طور پر بھی امام حسین علیہ السلام کے زکر میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ضیاء ملعون کی یزیدی پالیسیوں نے اس کثیر المشربی معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور اسے ایک وسیع النظر مسلم معاشرے سے تنگ نظر سعودی معاشرہ میں بدل کر رکھ دینے کے لیے پوری کوششیں کیں ہیں، جس کے اثرات آج ہمیں ہر طرف بڑھی ہوئی نفرتوں کی شکل میں نظر آ رہے ہیں۔

اگر آج کے صاحبانِ اقتدار واقعی پرعزم ہیں کہ ملک سے فرقہ واریت کے عفریت کا سر کچلا جائے اور ملک میں تین دہائیوں سے جاری شیہ نسل کشی بند کر جائے تو آگے بڑھیے ملتِ جعفریہ کو بھی دیگر فرقہ جات کی طرح گلے سے لگائیے ان کے ساتھ مجالس و جلوس ہائے عزا میں شرکت کیجیے۔ نام سے نہیں عمل سے اپنے آپ کو حسینی ثابت کیجیے۔

یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس ملکِ خداداد کو دوبارہ سے اقبال کا خواب اور قائد کا پاکستان بنا سکتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں