کربلا میں روضہ حسین کے دس دروازے
روضہ سید الشھدأ سے متعلق ایک حساس اور معلوماتی تحریر
کربلا میں روضہ حسین کے دس دروازے ہیں۔ ان سب کے مختلف نام ہیں اور ان سب پر امام کو الگ طرح سے سلام کیا گیا ہے۔
مرکزی دروازے کا نام باب قبلہ ہے۔ اس پر السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے عبداللہ کے باپ حسین، آپ پر سلام۔ امام حسین کے چھ ماہ کے بیٹے کو ان کے صغیر سن ہونے کی وجہ سے علی اصغر کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام عبداللہ تھا۔ یہ دروازہ قبلہ رخ ہے۔
اس کے ساتھ دوسرے دروازے کا نام باب الرجاء ہے۔ رجا کا مطلب ہے امید۔ اس پر السلام علیک یا شفیع المذنبین لکھا ہوا ہے۔ مذنبین گنہگار یا قصور وار کو کہتے ہیں۔ یعنی قصور واروں کی بخشش کروانے والے، آپ پر سلام۔
تیسرے دروازے کا نام باب قاضی الحاجات ہے۔ قاضی الحاجات امام مہدی کو کہتے ہیں۔ اس نام کا مطلب ہے، لوگوں کی حاجات پوری کرنے والا۔ اس دروازے پر السلام علیک یا سید شباب اھل الجنہ لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے جنت کے جوانوں کے سردار، آپ پر سلام۔
چوتھے دروازے کا نام باب الشہدا ہے۔ یہ شہدائے کربلا سے منسوب ہے۔ اس پر السلام علیک یا ابا الشھدا لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے شہیدوں کے باپ، آپ پر سلام۔
پانچویں دروازے کا نام باب الکرامہ ہے۔ کرامہ کا مطلب ہے عزت و وقار۔ اس پر السلام علیک یا بن زمزم الصفا لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے زمزم اور کوہ صفا کے بیٹے، آپ پر سلام۔ امام زین العابدین نے دمشق میں یزید کے دربار میں اپنا تعارف ان الفاظ سے کروایا تھا کہ میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں۔
چھٹے دروازے کا نام باب السلام ہے۔ سلام کا مطلب ہے سلامتی یا زندگی۔ اس پر السلام علیک یا خامس اصحاب الکساء لکھا ہوا ہے۔ خامس کا مطلب ہے پانچواں۔ کسا کا مطلب ہے چادر۔ مختصراً وہ حدیث یہ ہے کہ ایک دن رسول پاک نے ایک چادر میں اپنی بیٹی فاطمہ، داماد علی اور دونوں پوتوں حسن اور حسین کو ساتھ بٹھایا۔ کسی اور نے اجازت مانگی تو منع کردیا۔ ان پانچوں کو پنج تن اور اس حدیث کو حدیث کسا کہا جاتا ہے۔ اس دروازے پر درج جملے کا مطلب ہے، اے چادر کے اصحاب میں سے پانچویں، آپ پر سلام۔
ساتویں دروازے کا نام باب السدرہ ہے۔ سدرہ دیودار کے درخت کو کہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ بیری کا درخت ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں اس مقام پر درخت لگا ہوا تھا اور زائرین اس سے دروازے کو تلاش کرتے تھے۔ عباسی خلیفہ ہارون رشید نے اس درخت کو کٹوادیا تھا۔ اس پر السلام علیک یا بن سدرۃ المنتہیٰ لکھا ہوا ہے۔ رسول پاک معراج کی شب ساتویں آسمان پر پہنچے تو ایک مقام کا یہ نام تھا۔ گویا یہ بلند ترین مقام ہے۔ ساتویں دروازے پر درج جملے کا مطلب ہے، اے سدرۃ المنتہیٰ تک جانے والے کے فرزند، آپ پر سلام۔
آٹھویں دروازے کا نام باب السلطانیہ ہے۔ اسے کسی ترک سلطان، غالباً سلطان مراد چہارم نے تعمیر کروایا تھا اس لیے اس کا یہ نام ہے۔ اس پر السلام علیک یا امین اللہ و ابن امینہ لکھا ہوا ہے۔ بی بی فاطمہ کا ایک نام امینہ بھی تھا۔ اس جملے کا مطلب ہے، اے اللہ کے امانت دار اور امینہ کے بیٹے، آپ پر سلام۔
نویں دروازے پر باب الراس الشریف لکھا ہے۔ راس عربی میں سر کو کہتے ہیں۔ امام حسین کی قبر کا سرہانہ اس جانب ہے۔ اس پر السلام علیک یا قتیل العبرات لکھا ہوا ہے۔ قتیل العبرات کا مطلب ہے، جسے رلا رلا کر قتل کیا جائے۔ یعنی اے رلا رلا کر قتل کیے گئے، آپ پر سلام۔
دسویں دروازے کا نام باب الزینبیہ ہے۔ اس کے سامنے وہ مقام ہے جہاں بی بی زینب نے شمر لعین کو امام حسین کا سر کاٹتے ہوئے دیکھا۔ اس پر السلام علیک یا بن فاطمہ الزھرا لکھا ہوا ہے۔
یہ تمام تصویریں میں نے 2015 میں خود کھینچی تھیں۔
بشکریہ مبشر زیدی
PROUD To Be SHIA
Comments
Post a Comment