کربلا میں یزیدی فوج کے تین سرکاری افسر
کربلا میں یزیدی فوج کے تین سرکاری افسر:
تین مختلف کردار:
عمرو ابن سعد، شمر ذی الجوشن اور حر بن یزید ریاحی:
۱- عمرو ابن سعد:
عمرو المعروف فاتح ایران و عراق حضرت سعد ابن ابی وقاص کا بیٹا تھا۔ میرٹ پر نہیں مگر اپنے مشہور باپ کی وجہ سے تیزی سے ترقی پاتا ہوا سپہ سالار بن گیا۔ گویا ایک سفارشی افسر تھا۔ فتح ایران کے بعد عمرو نے ایران کے علاقہ "رے" (موجودہ تہران) میں اپنا بچپن اپنے باپ کے ساتھ شان و شوکت سے گزارا ہوا تھا۔ عمرو سابقہ شان و شوکت دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا۔ یزید کو عمرو کی اس شدید خواہش یا دوسرے لفظوں میں کمزوری کا خوب علم تھا۔ یزید نے عمرو ابن سعد کو لالچ دیا کہ اگر وہ حضرت امام حسین (ع) کو یزید کے راستے ہٹا دے تو وہ اسے "رے" کا گورنر بنا دے گا۔ انعام کا وعدہ عمرو کی خواہش کے مطابق تھا۔ مگر عمرو جانتا تھا کہ امام حسین (ع) حق پر ہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح امام حسین کو یزید کی بیعت پر راضی کر لے اور اسے امام حسین (ع) کے قتل کا مجرم نہ بننا پڑے۔ چنانچہ وہ کئی دن امام حسین (ع) کے ساتھ مزاکرات کرتا رہا۔ کوفہ کا یزیدی گورنر عبید اللہ ابن زیاد چاہتا تھا کہ عمرو ابن سعد جلد از جلد امام حسین (ع) کا کام تمام کرے۔ جب اس نے دیکھا کہ عمرو ابن سعد خواہ مخواہ معاملے کو لٹکا رہا ہے تو اس نے ایک اور سرکاری افسر شمر ذی الجوشن کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ عمرو فورا" جنگ شروع کرے اور امام حسین کو شکست دے کر یزید سے اپنا انعام وصول کرے۔ دوسری صورت میں عمرو کو برخواست کر کے خود کمان سنبھال لے اور امام حسین (ع) کا کام تمام کرے۔ جب شمر ذی الجوشن نے گورنر کا پیغام عمرو کو پہنچایا تو عمرو اپنی افسری جاتے دیکھ کر فورا" جنگ کے لئے تیار ہو گیا۔ عمرو جانتا تھا کہ وہ غلط کام کرنے جا رہا ہے مگر اپنی افسری اور لالچ کی خاطر سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہو گیا۔
۲- شمر ذی الجوشن:
شمر کوفہ کے یزیدی گورنر عبید اللہ ابن زیاد کا قریبی ساتھی تھا اور اس کے ہر جائز و نا جائز حکم پر بلا سوچے سمجھے تعمیل کرنے کو تیار رہتا تھا۔ ایک بدکردار اور بدمعاش صفت شخص تھا۔ ایسے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں جو اپنے بے رحم آقاؤں کے حکم پر سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ گویا شمر بھی ایک حکومتی قاتل تھا۔ ایسے لوگ کسی میرٹ پر بھرتی نہیں ہوتے۔ حکمرانوں کے نزدیک ان کی بد معاشی اور غنڈہ گردی ہی ان کا میرٹ ہوتا ہے۔ ان کا کام اپنے آقاؤں کے مخالفین کا قلع قمع کرنا ہوتا ہے۔ کربلا میں شمر کا کردار بھی ایسا ہی تھا اور یہ براہ راست امام حسین (ع) کے بے رحمانہ قتل میں ملوث تھا۔
۳- حر بن یزید ریاحی:
حر بھی یزیدی فوج کا ایک سپہ سالار تھا۔ یہ میرٹ پر بھرتی ہوا اور اپنی محنت سے افسری کے مقام تک پہنچا۔ اس کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ امام حسین (ع) کے قافلے کی نگرانی کرنا ہےاور انہیں کوفہ میں داخل نہیں ہونے دینا۔ اس نے احکامات کی تعمیل کی اور کربلا کے مقام پر قافلے کو روک دیا۔ حر نے امام حسین (ع) کے ساتھ کوئی بد تمیزی نہ کی۔ کربلا میں جب شمر ذی الجوشن کی آمد کے بعد حالات دگر گوں ہو گئے اور معاملات امام حسین (ع) کے قتل کی جانب بڑھ گئے تو حر بہت پریشان ہو گیا۔ حر نے فیصلہ کیا کہ وہ امام حسین (ع) کے قتل میں شامل نہیں ہو گا۔ اس نے اس مقام پر سرکاری نوکری کو لات مار دی اور اپنے چند ساتھیوں سمیت حسینی لشکر میں شامل ہو گئے اور بانئ اسلام کے نواسے کے قدموں میں جان نثار کر دی۔
اس طرح تینوں افسر ایک ہی فوج میں تھے اور ایک ہی گورنر کے ماتحت تھے۔ ایک سفارش اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر اپنے مقام و مرتبہ تک پہنچا تھا۔ دوسرا حکمران کے دو نمبر کاموں اور بدمعاشی میں مشہور تھا اور تیسرا اپنے قابلیت کی بنیاد پر ترقی کرتا ہوا سپہ سالاری کے عہدے پر پہنچا تھا۔ تینوں کے کردار الگ الگ تھے۔ آج بھی ہر شعبۂ زندگی اور ہر محکمے میں حتی کہ حکومتوں میں بھی یہ تینوں کردار پائے جاتے ہیں۔
کربلا ایک عظیم درسگاہ ہے اور یہاں سے ہر شعبۂ زندگی کے لئے راہنمائی مل سکتی ہے بشرطیکہ محض رسومات منانے کی الجھنوں سے ہٹ کر حقیقی تجزیہ کرکے با مقصد اسباق سیکھ کر آگے بڑھا جائے۔
Comments
Post a Comment