کثرت اور قلت سے احادیث کو حاصل کرنا
.🌹ہمیشہ ہم سے پوچھنے والوں سے کچھ پوچھنا ہمارا بھی حق ھے 🌹
سوال ؛ کیا وجہ ہے کہ اہلسنت کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ،حضرت عبداللہ بن عمراور حضرت عائشہ وغیرہ سے کثرت سے احادیث مروی ہیں۔حضرت علی و فاطمہ اور اہلیبیت سے زیادہ احادیث مروی نہیں ہیں؟؟جبکہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا "کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔" کیا حضرت علی کو آپ ﷺ کے پاس رہنے کا موقع کم ملا تھا؟؟
اگر فقط صحیح بخاری کی بات کریں تو
ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری جو کتاب کے مصنف ھیں امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے ہم عصر تھے، لیکن اس کتاب میں ایک حدیث بھی ان دو اماموں سے نقل نہیں ہوئی ہیں..
بات اہلبیت یا آل رسول کے افراد سے کریں صرف چند احادیث جو امیرالمؤمنینؑ ، امام حسن مجتبیؑ ، امام سجادؑ اور امام باقرؑ علیہم السّلام سے روایت کی ہیں..جبکہ اس کے مقابلے میں بعض خوارج اور ناصبی جیسے عکرمہ، عمران بن حطان اور عروہ سے احادیث نقل کی ہوئی ہیں..
دکھ کی بات یہ ہے کہ جو احادیث امام سجادؑ سے نقل کی ہیں.. وہ امیرالمؤمنین علیؑ کی مذمت میں ہیں..
ابوہریرہ جو پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ تین سال سے کم عرصہ معاصر رہا ہے ان سے 446 حدیث، عبداللہ بن عمر سے 270 حدیث، عائشہ سے 242 حدیث، ابوموسی اشعری سے 57 حدیث اور انس بن مالک سے 200 سے زیادہ حدیث نقل کی ہیں لیکن حضرت علیؑ جو کہ مدینۃ العلم کے دروازہ ہیں اور بعثت سے پہلے سے لے کر آنحضرتؐ کی رحلت تک آپؐ کے ساتھ تھے اور قرآن کی تعبیر کے مطابق آپ نَفسِ پیغمبرؐ تھے ان سے صرف 19 حدیث اور پیغمبر اکرمؐ کی دختر ارجمند حضرت زہراؑ سے صرف ( ایک ) حدیث نقل کی ہے..
کیا یہ کھلا تضاد نہیں ھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
Comments
Post a Comment