ادب کا قاری کتاب کا مطالعہ کیسے کرے؟


*ادب کا قاری کتاب کا مطالعہ کیسے کرے؟*

ہر کتاب کو پڑھنے کا معیار ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ کتابیں سطحی فِکر کے حامِل ہوتی ہیں جنہیں پڑھنے کے لیے  غور و فِکر نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی گہری توجہ مرکوز کرنا پڑتی ہے۔ اس کی مثال کچھ یوں پیش کی جا سکتی ہے کہ اخبار اور صحافتی سطح پر لکھے جانے والے کالم کی زبان سادہ ہوتی ہے اور ہم آسان اور سادہ لفظوں میں اخبار کے ذریعے خبر کو اور کالم کے ذریعے سیاسی تجزیوں کو بآسانی سمجھ لیتے ہیں۔
لیکن اخبار میں استعمال ہونے والے لفظوں کے ذریعے آپ خواب نہیں دیکھ سکتے، لُطف اندوز نہیں ہوسکتے اور نہ ہی آپ اس قسم کی تحریر کے انداز سے لذّت کی کیفیت حاصل کر سکتے ہیں جو بعض اوقات زیر لب مسکراہٹ، سنجیدگی کے احساس اور غم کے گہرے شعور کا باعث بنتی ہے۔

اسی طرح بہت سی کتابیں معلومات کی فراہمی کا باعِث تو بنتی ہیں مگر  گہرا اِحساس پیدا نہیں کرتیں۔

ادبی تحریروں پر مشتمل کِسی بھی کِتاب میں آپ کو معلومات کے علاوہ سماجی، معاشرتی اور سیاسی مسائل بھی نظر آئیں گے۔ تاریخی واقعات ہوں یا نفسیاتی مسائل، ادب ہر گہرے شعور اور موضوعِ خیال کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیّت رکھتا ہے۔

ادبی تحریروں میں بلند تخیّل ہوتا ہے گہرے معنی و مفہوم پائے جاتے ہیں۔ آپ کوئی ادبی فن پارہ پڑھتے ہیں تو وہ تحریر آپ کو جگہ جگہ پہ روکتی ہے سوچنے سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔ قاری تحریر کے چُھپے ہوئے معنی کو دریافت کر کے مزہ لیتا ہے۔ تحریر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے چباتا ہے اور مزہ لیتا ہے اور جب وہ تحریر کی روح تک پہنچ جاتا ہے اور اصل معنی اس پر وارد ہو جاتے ہیں تو وہ خوشی سے جُھوم اٹھتا ہے اور بے ساختہ اس کے منہ سے *واہ* کی آواز نکل آتی ہے۔ اسے نشاط آور کیفیّت بھی کہتے ہیں یعنی کِسی ادبی تحریر کو پڑھ کے قلبی تسکین حاصل ہونا، خوشی کا احساس پیدا ہونا، غم کا گہرا شعور حاصل ہونا.
یہ اِحساسات ہمیں کِسی ادبی تحریر سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔ قاری تحریر کے اندر گُھس کے لفظوں کے مِزاج اور لہجے سے واقفیّت حاصل کرتا ہے۔ وہ گہرے معنی کے سمندر میں کُود کر تحریر کے پسِ منظر )backgroun( میں ہونے والے درد انگیز واقعات سے آشنائی حاصل کرتا ہے۔ وہ قدیم لوگوں کی روایات، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور لوگوں کے رویّوں سے واقفیّت حاصل کرتا ہے۔

*اچھے قاری کی ذِمہ داری ہے کہ وہ دیکھے کہ*

1۔ شاعری اور کِسی ادبی فن پارے یا مضمون میں اِحساس کی شدت کتنی ہے اور وہی اِحساس اپنے اندر منتقل کر کے شاعِر کے شعور کی گہرائی کا اِدراک کرے۔

2۔ وہ تحریر میں لہجے کا تعیّن کرنے کے لیے رموز و اوقاف پر غور کرے۔

3۔ اچھا قاری تحریر کی  close reading کرتا ہے۔ یعنی وہ ٹھہر ٹھہر کے بڑی آہستگی کے ساتھ تحریر کو پڑھ کے چُھپے ہوئے نئے معنی اور اِشارات دریافت کرتا ہے اور اس کی لذت محسوس کرتا ہے۔

4۔ اچھا قاری مصنّف کی تحریر کے مقصد تک پہنچ کر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔

~
*سیّد شاہ زمان شمسی*

🍁
دُعائیں

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں