کبھی تاریخ کا دقیق مطالعه کیا هے

شھید مطہری☆ رحمة الله تعالى عليه ☆ کے قیمتی جملات عزاداری کے لئے ۔ 
"کبھی تاریخ کا دقیق مطالعه کیا هے؟
》"زبیر بن عوام" کو کہا جاتا تھا «سِیفُ الاسلام»! یه واحد شخص تھا جس نے حضرت بی بی فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیہا) کی ضربت کھانے والے دن اپنی تلوار میان سے نکالی ۔ 
》کیا آپ کو معلوم هے اس شخص (زبیر ابن عوام) نے اسلام کی راه میں کتنے خزانوں کے منه کھول دیئے تھے.
》"عبدالرحمن بن ملجم مرادی" کو امیرالمومنین کا شیعه کہا جاتا تھا ۔ اس نے امیر المومنین (علیہ السلام) سے کہا تھا 'آپ کی محبت میرے رگ و خون میں رواں هے' 
》"شمر بن ذی الجوشن" جنگ صفین میں مولا علی (علیہ السلام) کا دلیر سپاهی تھا اور اس جنگ میں شھادت کے دھانے پهنچ چکا تھا ۔
》کیا آپ جانتے هیں "عمربن سعد" نے روز عاشوراء فجر کی نماز تمام کرتے ھی کہا: "قربة الی الله" اور سب سے پہلا تیر خیام سیدالشهدا علیه السلام کی طرف پھینکا ۔ 
》کیا آپ جانتے هیں یه جو سب لوگ یزید کی حمایت میں کربلا آئے تھے , مسلمان تھے , نماز پڑھا کرتے تھے , روزے رکھا کرتے تھے ، بقیه اسلامی احکامات کا لحاظ بھی کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح هی "قربة الی الله" کی نیت سے کربلا آئے (تا کہ ثواب کمانے کے لیئے)  "سیدالشهدا" علیه السلام کو قتل کریں ۔ 
》اور دوسری طرف دیکھیئے ۔ "حضرت زهیر بن قین" عثمانی مسلک کا تھا (یعنی خلیفہ عثمان کا حامی اور اس لے قتل کا بدلہ لینے کا خواھاں) ، لیکن مولا حسین (علیہ السلام) کی مدد کیلئے آیا اور حسینی بن گیا ۔ 
》حضرت وهب مسیحی (عیسائی) تھا لیکن آخری لحظات میں حسینی بن گیا ۔ 
》حضرت حربن یزید ریاحی لشکر یزید کا سپه سالار تھا اس نے امام حسین (علیہ السلام) کا راسته روکا تھا ، مگر آخر میں کہاں پهنچ گیا ۔ 
》الله (جل جلالہ) رحمت فرمائے امام خمینی فرمایا کرتے تھے: 'معیار انسان کا حال هے ، چاهے ماضی میں وه امام زاده هی کیوں نه هو ۔' 
》"شمربن ذی الجوشن" بھی نماز شب (تہجد) پڑھنے والا , شیخ بھی , سابقون میں سے بھی اور امت کا جانباز سپاهی تھا ، لیکن قاتل امام حسین (علیہ السلام) بن گیا ۔ 
》اگر ھم بھی بصیرت نه رکھیں تو 
«خَسِرَ الدُّنیا والآخرة» ھو جائیں گے (یعنی نہ دین رھے گا نہ ھی دنیا) !
[نعوذ باللہ من ذالک] 
》مجالس ، امام بارگاھوں اور جلوسوں میں ھمارے نعرے اور پیغامات جگانے والے ھوں ، سلانے والے نہیں ، زندہ کرنے والے ھوں بے حس کرنے والے نہیں ، کیونکہ اگر بے حس کرنے اور سلانے والے ھونگے تو نہ صرف یہ کہ ھمیں کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا ، بلکہ امام علیہ السلام سے بھی دور ھو جایئں گے ۔ 
》امام حسین علیہ السلام پر رونا بہت ثواب رکھتا ھے، لیکن شرط یہ کہ امام حقیقی معانی میں ھمارے دلوں میں بسے ھوں ۔ 
(☆استاد مرتضی مطہری ☆ رحمة الله تعالى عليه ☆)

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں