اسلام اور سیاست میں رابطہ :اسلام اور سیاست کے حوالے

اسلام اور سیاست میں رابطہ :
اسلام اور سیاست کے حوالے سے سب سے پہلے لوگوں کے اذہان میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین سیاست و حکومت کے بارے میں کوئی خاص نظریہ رکھتا ہے تاکہ اسلام اس سیاسی نظریہ کو بیان کرے ؟ 
مغربی تمدن میں دین کو جامعیت نہیں دی گئی اور اس کو محدود کرکے پیش کیا گیا  کہ د ین کا تعلق اجتماعی و سیاسی مسائل سے نہیں ہیں۔ فقط دین    کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ ہونا ضروری  ہے ۔لہذا سیاسی، اجتماعی، بین الاقوامی ، حکومت اور لوگوں کے درمیان روابط اور حکومتوں کے آپسی روابط یہ سب انسان اور خدا کے رابطہ سے جداگانہ چیزیں ہیں۔ یعنی ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 
لیکن اسلامی نقطہ نگاہ سے دین ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس کے اندر انسان کے فردی مسائل اجتماعی مسائل شامل ہیں اور اس کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ، اور انسان کا آپس میں رابطہ اور دیگر سیاسی، اجتماعی اور بین الاقوامی روابط شامل ہیں۔ کیونکہ اسلام کے اعتبار سے خداوند متعال تمام دنیا پر حاکم ہے لہذا سیاست ، اقتصاد ، تعلیم و تربیت، مدیرت اور وہ تمام مسائل جو اسنانی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں وہ سب دینی احکام میں شامل ہیں ۔
با الفاظ دیگر سیاست اور نظم و نسق کا مسئلہ اسلام میں دوسرے ادیان سے کہی زیادہ اور اہم اور نمایاں ہے۔ اسلامی احکام و قوانین پر منصفانہ نظر ڈالنے سے یقین ہوجاتا ہے کہ سیاست کو دین اور مذہب سے جدا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسلام کی رگوں میں سیاست خون کی طرح گردش گردش کرتاہے ۔ 
حکومت ، ولا یت ، امربہ معروف، نہی عن المنکر، جہاد، دفاع، شہادات ، حدود، قصاص، تجارت، معاملات، یتیموں کی ولایت، سماجی اور گھریلو حقوق، تربیتی اور ثقافتی امور ، اقتصادی مسائل، زکات ، خمس، غنائم اور اہل کتاب    کے احکام ، دوسری ملتوں سے امت مسلمہ کے تعلقات، جنگ و صلح اور حکومت     کے وظائف اور ڈیوٹیاں اور اسی طرح کے دوسرے مسائل ان فقہی اور اسلامی معارف کے زمرے میں شامل ہیں جنہیں معاشرے کی سیاست و تدبیر سے علیحدہ اور جدا نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ عبادات میں سے حج، نماز جمعہ اور جماعت وغیرہ کا تعلق سیاست سے قابل توجہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل جدائی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں