حادثاتی دین

حادثاتی دین‼‼
وہ دین  جسکا  پہلے سے کوئی وجود نہ ہو اورحادثات و واقعات کے  عکس  العمل کے طور پر وجود میں آئے۔ جسے حادثات و  واقعات وجود  میں  لائیں اور تحقق بخشیں اسے حادثاتی دین کہا جاتا ہے۔ جس دین کا پہلے سے کوئی نظریہ و بنیاد نہ ہو جس کی بنیاد مختلف واقعات ہوں اور واقعات  کی وجہ سے  اس کے نظریات وجود میں آئیں ۔                        آئیے آپ کو ایک ایسے ہی  حادثاتی دین کا تعارف کراتے ہیں جسکا  عالم امکان میں کوئی وجود نہ تھا جسکو  بحر حوادث  کی موجوں نے اسے نقشہ دیا  تاریخ کے جابر حکمرانوں نے اس میں رنگ بھرا  عمارت اور درباری مفتیان نے اسکی توجیہ کی.                                          ☝اس دین کے اندر کوئی نظریہ وجود نہیں رکھتا مگر یہ کہ اسکے پیچھے کوئی نہ کوئی واقعہ کارفرما ہے۔  انکے نظریات  کی بنیاد حادثات پر ہے۔ جوں جوں حادثات وجود میں آتے رہے نظریات بنتے گئے۔
❓کیا آپ جانتے ہیں کہ اہل سنت کا یہ نظریہ کہ امام کو  بنانا خدا  و رسول کی نہیں بلکہ لوگوں کی ذمہ داری ہے  کے پیچھے کیا  سبب ہے❓ چونکہ   انکے  ہاں پہلہ خلیفہ  لوگوں کی رائے سے  منتخب ہوا  ہے۔ یعنی پہلے خلیفہ کے انتخاب کے پیچھے کوئی نظریہ کارفرما نہیں بلکہ ایک حادثہ کارفرما ہے جیسا کہ حضرت عمر نے خود اسکو 👈فلتہ👉 یعنی ایک اچانک رونما ہونے والا واقعہ جسکے پیچھے کسی قسم کا نظریہ و آئیڈیالوجیز کارفرما نہ تھی۔
👈✅اب کیا  سقیفہ کے اجتماع کے پیچھے کوئی نظریہ  موجود تھا ہر گز نہیں  بلکہ جوں ہی  سقیفہ بنی ساعدہ  کا واقعہ پیش آیا تو اجماع کا نظریہ وجود میں آیا {البتہ ساختگی اجماع}۔
✅جب پہلے خلیفہ نے دوسرے  خلیفہ کو منصوب کیا تو یہ نظریہ وجود میں آیا کہ ایک خلیفہ دوسرے کو بنا سکتا ہے۔
✅جب دوسرے خلیفہ کے بعد شوری کو بٹھانا پڑا تو یہاں سے شورائی نظام بھی متعارف ہوا۔البتہ یاد رہے کہ یہاں کسی کو وھم نہ ہو کہ شوری پہلے ہے اور خلیفہ بعد میں تو کم از کم نظریہ کی بنیاد پر خلیفہ بنا ہے حادثہ پر نہیں لیکن یہ ایک وھم باطل کے سوا کچھ نہیں کیونکہ تاریخ سے واقف افراد جانتے ہیں کہ حقیقیت میں  جناب عمرحضرت  ابو عبیدہ جراح یا حزیفہ کے غلام سالم کو تیسرا خلیفہ  بنانا چاہتے تھے{چونکہ یہ دونوں افراد ان چند رکنی ٹیم میں شامل تھے جو سقیفہ میں موجود تھی}۔ مگر قضا سے وہ پہلے ہی وفات پا گئے تھے اس لئے مجبورا حادثاتی طور پر شوری بٹھانا پڑی۔البتہ شوری کی ترکیب کچھ اس انداز میں تھی کہ جسکا لازمہ حضرت عثمان کا خلیفہ بننا تھا لیکن چونکہ حضرت عثمان کا تعلق چونکہ بنو امیہ سے تھا جنکے ساتھ رسول اللہ ساری زندگی نبردع آزما رہے تو اس لئے ایک دم سے حضرت عثمان کو واضح طور پر منصوب کرنا مشکل تھا۔پس تیسرا خلیفہ  کا انتخاب بھی نظریہ کے تحت نہیں بلکہ حادثات کا نتیجہ تھا۔
✅جب خلیفہ عثمان قتل ہوئے تو بھی فضا غبار آلود تھی اور ۶ نفری شوری میں شرکت کرنے والے بعض افراد کے دل میں خلافت کی تمنا تھی جنمیں سے ایک ایک جناب طلحہ تھے۔اور یہی چیز بعد میں آپ کے دور حکومت میں تین بڑی جنگوں{جنگ جمل و صفین و نہروان} کا پیش خیمہ بنی۔ جسکے عوامل پر و اسرار پر کبھی الگ سے گفتگو کی جائے گی۔
♻المختصر جب بہت سے لوگ دل میں خلافت کی طمع لئے بیٹھے تھے تو ایسے میں تمام تر لوگ جو گذشتہ تین۲۵ سالوں سے  محرومیوں کا شکار رہے تھے یک دم امام علی علیہ السلام کی بیعت کیلئے ٹوٹ پڑے۔ پس امام علی کو  چوتھی خلافت بھی حادثاتی طور پر بغیر کسی طے شدہ پروگرام کے تحت ملی۔اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ  اہل سنت میں امام علی کو چوتھا خلیفہ اسی لئے مانا جاتا ہے کہ اس وقت لوگوں نے آپکی طرف یکدم رجوع کرلیا ورنہ شاید آج ترتیب خلافت میں حتی آپ  چوتھے نمبر پر بھی آپ خلیفہ نہ ہوتے۔
🚫یہ تھا خلافت راشدہ کا مختصر حال جہاں سارے خلیفہ نظریات پر نہیں بلکہ حادثات و اتفاقات کے نیتجہ میں بنتے رہے۔جہاں نظریات  کے نتیجے میں عقائد نہیں بنے بلکہ حادثات کے نتیجے میں عقائد وجود میں آئے ہیں۔❗

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں