حدیث( عشرہ مبشرہ)

سوال: حدیث( عشرہ مبشرہ) کاسند کے اعتبار سے کیا مقام ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اہل سنت کے نزدیک مشہور و معروف احادیث میں سے ایک حدیث ” عشرہ مبشرہ “ ہے  جس کا مضمون یہ ہے کہ پیغمبر اسلام  (ص) نے اصحاب میں سے دس افراد کو بہشت کی بشارت دی ہے لہذا ھل سنت کااس بات پر اجماع ہے کہ یہ دس افراد، رسول خدا  (ص)  کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل ہیں ۔لیکن اس حدیث میںغور و خوض کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حدیث سند اور دلالت کے اعتبار سے قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ اس حدیث کاشمار جعلی اور گھڑی ہوئی حدیثوں میں ہوتا ہے لیکن انھوں نے ان دس افراد کی محبت کی وجہ سے صراحت نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی زیادہ تحقیق کی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس حدیث کو اسی ترتیب کے ساتھ جس طرح بیان ہوئی ہے،موردمناقشہ قرار دیں،ہم یہ نہیں چاہتے کہ جوفضائل و بشارت عام صحابہ کے لئے ہے اس سے انکار کریں ، کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اصحا ب رسول میں سے بعض صحابہ ایسے بھی ہیں جنکے متعلق واقعاً رسول نے بہشت کی بشارت دی ہے اور انکے نام اس طرح ہیں : ۱۔ حضرت علی (علیہ السلام) ، عمار بن یاسر، سلمان فارسی، مقداد بن اسود،  زید بن صوحان ، بلال حبشی ، عبداللہ بن سلام۔  اور واقعاً یہ لوگ بہشتی ہیں بلکہ بعض تابعین جیسے ”اویس قرنی“ کے لئے بھی رسول اسلام  (ص)  نے بہشت کی بشارت دی ہے ۔

 اس حدیث کو پیغمبر اسلام کے بعض اصحاب نے نقل کیا ہے، ہم اس کو یہاں پرتین طرق سند کے ساتھ بیان کریں گے:

(الف )  عبد الرحمن بن عوف :

احمد بن حنبل نے مسند میں، ترمذی نے سنن میں اور نسائی نے فضائل الصحابہ میں قتیہ بن سعید ، عبد العزیز بن محمددر آوردی، عبد الرحمن بن حمید سے اور انہوں نے اپنے والد عبد الرحمن بن عوف سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا   (ص) نے فرمایا :  ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ، زبیر،عبد الرحمن بن عوف ، سعد ،سعیداور ابو عبیدہ بن جرّاح یہ تمام کے تمام بہشت میں جائیں گے (۱)۔

ترمذی مذکورہ حدیث کو نقل کرنے کے کہتا ہے کہ ہم کو مصعب نے خبر دی ہے عبد العزیز بن محمد سے اورعبد الرحمن بن حمید نے اپنے والد سے اور اس کے والد نے  پیغمبر اسلام  (ص) سے اس جیسی حدیث کو عبد الرحمن بن عوف سے نقل کیا ہے۔

نقد حدیث

یہ حدیث چند جہت سے مورد اشکال ہے :

۱۔ ترمذی کی یہ حدیث مصعب کے واسطہ سے مرسل ہے کیونکہ حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے پیغمبر اسلام  (ص) کو درک نہیں کیا ہے لہذا یہ حدیث طرق اول کے اعتبار سے مرسل ہے کیونکہ حمید بن عبد الرحمن نے فلاّس، احمد بن حنبل، ابی اسحاق حربی، بن ابی عاصم ، خلیفہ بن خیاط ، یعقوب بن سفیان اور ابن معین کے قول کی بنیاد پر  ۱۵۰ء ہجری میں وفات پائی (۲) اور اس وقت اس کی عمر ۷۳ سال کی تھی اور ۳۲ویں سال میں اس کے باپ عبد الرحمن بن عوف نے وفات پائی یا اسکے ایک سال بعد وہ متولد ہوا تھا لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ حمید نے اپنے باپ سے یہ حدیث نقل کی ہو جبکہ ا س نے اپنے والد کو بچپنے میںکچھ دن ہی دیکھا ہے۔

 اسی وجہ سے بخاری نے کہا ہے  :حمید بن عبد الرحمن بن عوف نے ، سعید بن زید سے جوحدیث نقل کی ہے وہ اس کے والد کے طرق سند سے زیادہ صحیح ہے (۳) ۔ 

۲۔ حمید بن عبد الر حمن بن عوف کواس حدیث میں جعل کی تہمت سے نہیں بچایا جا سکتا کیوںکہ اس کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جن کومعاویہ نے اس جیسی حدیثوں کو جعل کرنے پر مامور تھا ۔

۳۔ ای حدیث کے راوی یعنی عبدالرحمن بن عوف کا شمار این افراد میں ہوتا ہے جن کانام اس حدیث میں بیان ہوا ہے لہذا اس کے خلاف سوء ظن ہوتا ہے کہ شاید اس نے یہ حدیث اپنی شان میں جعل کی ہو۔

۴۔ عبد العزیز بن محمد بن عبید دراوی ، وہ شخص ہے جس کا نام اس حدیث کی سند میں موجود ہے لیکن علمائے رجال کی نظر میں یہ شخص مورد طعن اور قدح و جرح قرار پایاہے۔

 ابو ذر کہتے ہیں کہ یہ شخص سیٴ الحفظ تھا ؛ یعنی یہ شخص حدیث کوحفظ نہیں کرپاتاتھا ،نسائی بھی اس کو حدیث میں قوی نہیں جانتا ہے (۴) ۔ابو حاتم کہتے ہیں : عبد العزیز بن محمد بن عبید کی حدیث کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا (۵) ابن حجر کہتا ہے کہ بخاری نے اس شخص سے صرف دو حدیث نقل کی ہیں اور ان دو حدیثوں کو بھی عبد العزیز بن ابی حازم اوردیگر لوگوں سے مقرون کیاہے (۶)       

(ب) سعید بن زیدکے طرق سے :

 اس حدیث (عشرہ مبشرہ) کی سند اکثر و بیشتر”سعید بن زید بن عمر و بن نفیل“ کی طرف پلٹتی ہے اور صرف پانچ راویوں نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔

۱۔ روایت عبد اللہ بن ظالم مازنی :

عقیلی نے اس کی حدیث کو صحیح جانا ہے اور ابن عدی نے بھی بخاری سے اس مطلب کو نقل کیا ہے(۷) ۔

حاکم نیشا پوری ”المستد رک الصحیحین“میں بیان کرتا ہے: بخاری اور مسلم نے عبد اللہ بن ظالم کی روایت سے استدلال نہیں کیا ہے (۸) ذھبی نے تلخیص المستدرک میں کہا ہے: بخاری نے عبد اللہ بن ظالم کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی حدیث صحیح نہیں ہے (۹) ۔

۲۔ روایت عبد الرحمن بن اخنس :

ابن حجر نے اس شخص کو مستور کے نام سے تعبیر کیا ہے (۱۰) اور سرخسی کے نزدیک”مستور “ ، فاسق کافر، بے عقل اور شہوت پرست کو کہتے ہیں اور کہا ہے کہ محمد بن حسن شیبانی نے اس کے متعلق تصریح کی ہے کہ اس کی خبر، فاسق کی خبر کی طرح ہے (۱۱) جبکہ خبر صحیح میں شرط ہے کہ اسکا بیان کرنے والا عدالت میں مشہور ہو۔

دوسرا اشکال جو اس حدیث کی سند میں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ محمد بن طلحہ بن مصرف یامی کوفی اس حدیث کی سند میں واقع ہے اور نسائی اس کو قوی نہیں جانتا  جبکہ ابن معین نے اس کو ضعیف کہا ہے ۔

۳۔ روایت حمید بن عبدالرحمن بن عوف :

 حمید بن عبد الرحمن بن عوف نے سعید بن زید سے اور اس نے اسکے بیٹے عبد الرحمن بن حمید سے اور اس نے عمر بن سعید بن شریح مدنی سے اور اس نے موسی بن یعقوب زمعی سے اور اس نے محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک سے حدیث ”عشرہ مبشرہ “کو نقل کیا ہے ۔

 حمید بن عبدالرحمن کے متعلق پہلے ذکر گذر چکاہے ۔

لیکن موسی بن یعقوب کو علی بن مدینی نے ضعیف الحدیث اور منکرالحدیث جانا ہے اور نسائی نے اس کو غیر قوی کہا ہے (۱۲)اور ابن ابی فدیک کو ابن سعد نے غیرمعتبر کہا ہے (۱۳)۔

۴۔ روایت ریاح بن حارث :

ریاح کی روایت کو سعید بن زیدنے تنہاء اپنے پوتے صدقہ بن مثنی بن ریاح سے نقل کی ہے اور صدقہ سے یحیی بن سعید قطان اور عیسی بن یونس نے اور اس سے ہشام بن عمار اور عبد الواحد بن زیاد سے اور اس سے ابو کامل مظفر بن مدرک نے یہ حدیث نقل کی ہے ۔

 ھشام بن عمار کے متعلق ابو داود نے کہا ہے : اس نے چارسومسند حدیثیں ، روایت کی ہیںجن کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے (۱۴) اور عبد الواحد بن زیاد عبدی بصری کے متعلق ذھبی نے اس کے ترجمہ میں کہا ہے:  یحیی اور بن حباّن نے اس شخص کو کوئی مہم شخص نہیں کہا ہے اور ذھبی نے اس کے بارے میں کہا ہے: یہ شخص وہمی ہے (۱۵)۔

۵۔  روایت ابو الطفیل:

ابو طفیل عامر بن واثلہ، تنہا سعید بن زید سے اور اس نے ولید بن عبداللہ بن جمیع قرشی سے اور اس کے بیٹے نے اس سے اور محمد بن بکیر حضرمی نے ثابت سے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔

 لیکن ولید بن عبداللہ کو ابن حبان نے ضعیف لوگوں میں شمار کیا ہے اور اس کی حدیثوں سے استدلال کر نے کو باطل کہا ہے اور عقیلی نے کہا ہے کہ اس کی حدیث میں اضطراب پایا جاتاہے ، حاکم نیشاپوری کہتا ہے : اگر مسلم اس کی حدیث کو خارج نہ کرتا تو بہتر تھا اور اس کا بیٹا ثابت کاشمال مجہول اشخاص میں ہوتا ہے اور محمد بن بکیر بھی صاحب غرائب کے اعتبار سے پہچانا جا تا ہے (۱۶)

 سعید بن زید کی سند میں مشکل ہونے کے باوجود اس کے متن میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی بعد اسناد میں ابو عبیدہ بن جراح کا وجود ملتا ہے جس کا شمار ان دس افراد میں ہوتا ہے (۱۷)اور بعض اسناد میں ابن مسعودکا وجود ملتا ہے اس کے علاوہ سعید بن زیدکا نام حدیث عشرہ مبشرہ میں پایا جاتا ہے لہذا وہ اس بناء پر وہ اپنا اور دوسرے لوگوں کا تزکیہ کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور یہ تہمت کی جگہ ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے آپکا  تزکیہ کرے جب کہ دوسری جگہ ثابت ہوچکا ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے شخص کا تزکیہ کرے جبکہ وہ دوسرا شخص تزکیہ کرنے والا خود مزکی ہو تو اس کا تزکیہ شریعت اسلام میں قابل قبول نہیں ہے(۱۸) ۔

ج۔ طریق عبداللہ بن عمر :

طبرانی، احمد بن الحسین بن عبد الملک قصری مودب سے اور اس نے حامد بن یحیی سے اوراس نے سفیان سے،اور اس نے سفیان بن خمس سے اور اس نے  حبیب بن ابی ثابت سے اور اس نے عبداللہ بن عمر سے اور اس نے رسول خدا  (ص) سے حدیث”عشرہ مبشرہ“ کو نقل کیا ہے ۔ (۱۹) ۔

اس حدیث کی سند میں سفیان بن عینیہ موجود ہے اور یہ اہل تدلیس کے نام سے پہچانا جاتا ہے (۲۰) ۔

 اور اسکی سند میں حبیب بن ابی ثابت بھی ہے جس کو ابن خزیمہ اور ابن حباّن نے مدّلس شمار کیا ہے  (۲۱) ۔(۲۲)۔


حوالہ جات: (۱) کتاب مسنداحمد جلد ۱ ، ص ۱۹۳ ،و ترمذی جلد ۵ ، ص ۶۴۷ ۔ وکتاب المناقب باب مناقب عبد الرحمن بن عوف فضائل الصحابہ ،ص ۲۸

(۲) کتاب تھذیب التھذیب جلد ۲، ص ۳۰

(۳) کتاب سنن ترمذی جلد ۵ ،ص ۴۷ ۶

(۴) کتاب تھذیب التھذیب جلد ۳ ، ص۴۷۱

(۵) کتاب میزان الاعتدال جلد ۲، ص ۶۳۴

(۶) کتاب ھدی البساری ،ص ۴۴۱

(۷) کتاب تھذیب التھذیب جلد ۳ ، ۱۷۶

(۸)کتاب المستدرک علی الصحیحین جلد۳،ص۳۱۶و۳۱۷

(۹) کتاب المستدرک علی الصحیحین جلد۳،ص۳۱۶و۳۱۷

(۱۰)کتاب تھذیب التھذی جلد ۱ ، ص ۴۷۲

(۱۱) کتاب اصول سرخسی جلد۱ ،ص ۳۷۰

(۱۲) کتاب تھذیب التھذیب جلد ۵ ، ص ۵۸۲

(۱۳)کتاب تھذیب التھذیب جلد ۵ ، ص ۴۲

(۱۴)کتاب تھذیب التھذیب جلد ۶ ، ص ۳۷

(۱۵) کتاب تذکرة الحفاظ جلد ۱ ،ص ۲۵۸

(۱۶)کتاب تھذیب التھذیب جلد ۶ ، ص ۹۰

(۱۷) کتاب مستدرک الحاکم جلد ۳ ،ص ۳۱۶

(۸ٍ۱) کتاب الافصاح فی الامامة ،ص ۷۱ ، تلخیص الشافی جلد ۳ ، ص ۲۴۱

(۱۹) کتاب المعجم الاسط جلد ۳، کنز العمال جلد ۱۱ ، ص ۶۴۵

(۲۰ ) کتاب میزان الاعتدال جلد ۲، ص ۱۷۰ رقم ۳۳۲۷

(۲۱)کتاب تھذیب التھذیب جلد ۱ ، ص ۴۳۱

(۲۲) کتاب علی رضوانی امام شناسی اور شبھات کے جوابات ۲ ، ص۶۰۲ ۔
تاریخ انتشار: « 1398/07/26 »


Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں