مبلغ آعظم کی آب بیتی
مبلغ آعظم کی آب بیتی :
مبلغ آعظم مولانا محمد اسماعیل سابق دیوبندی شیعہ کیسے ھوئے ؟
میدان مناظرہ کا کوہ بیکراں ۔ مبلغ آعظم -
مولانا محمد اسماعیل (سابق دیوبند) پاکستان کے بہت بڑے مناظرے کے خطيب تھے - آپ سے لوگ پوچھتے تھے - آپ شیعوں کو کافر کہتے تھے اور ان سے نفرت کرتے تھے - پھر آپ شيعہ کیسے ھوئے ؟
مولانا محمد اسماعیل کہتے تھے - میری زندگی کا ایک واقعہ مجھے محمد و آل محمد علیہم السلام کے در پر لے آیا - اور استفسار کرنے پر وہ واقعہ کی تفصیل کچھ یوں بیان کیا کرتے تھے :
میں ایک جگہ گیا ۔
مکتب اہلحدیث کے مولوی سے مناظرہ تھا -
دوران گفتگو میں نے کچھ ایسے ایسے جملے کہے ۔ اور ریفرینس پیش کیئے - کہ میں نے مناظرہ جیت لیا - اور ہر کوئی میرے ہاتھوں اور پیروں کے بوسے لے رہا تھا ۔ میرے اردگرد اتنا بڑا اہلسنت کا اجتماع تھا - اور وہ مجھے معجزہ کہہ رہے تھے - اور مبارکبادیں مل رہی تھیں - کہ اتنے میں میرا میزبان میرے قریب آیا اور دھیمی آواز میں کہا -
مولانا صاحب !!
ھمارے گاؤں کا ایک شیعہ ھے - وہ آپ سے ملنا چاہتا ھے ۔ میں نے شیعہ کا نام سنکر حقارت بھرا جملہ ادا کرتے ہوئے کچھ غیر اخلاقی الفاظ ادا کیئے ، اُس نے کہا مولانا آپ ایسا نہیں کر سکتے - وہ ہمارے لیئے بہت معزز ھے - اور اسکا کردار و گفتار اور طور و اطوار ھمارے لیئے مشعل راہ ہیں - اور انکے ہم سب پہ بہت احسان بھی ہیں -
میں نے کہا شیعہ ھے ، كافر ھے ، اُس نے کہا نہیں مولانا صاحب !! اور وہ سید بھی ھے !! اسے دوبارہ آپ نے ایسے الفاظ سے یاد نہیں کرنا - وہ سید ھے اور اولاد زہرا سلام اللہ علیہا میں سے ھے - مولانا ۔۔۔۔۔ !! وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ ہم اس سید کا بہت ادب کرتے ہیں ، اور آپ بھی پابند ہیں - کہ آپ بھی انکے ساتھ کوئی گستاخی نہیں کریں گے ، اور انکا احترام کریں گے-
میں نے کہا ٹھیک ھے - اتنے میں ایک دیہاتی بوڑھا شخص ظاہر ھوا ، سلام کہتے ہوئے وہ قریب آیا - اور ادب سے دھیمی سی آواز میں وہ گویا ھوا...
اس نے کہا مولانا صاحب !!
آپ بہت بڑے عالم ہیں ، آپ خطیب ہیں ، آپ مناظر ہیں ، میرے پاس تو علم نہیں ھے - میں تو سیدھا سادہ سا ایک دیہاتی فرد ہوں ، میرے پاس آپ جتنی معلومات بھی نہیں ہیں ، میرا اور آپ کا کوئی مقابلہ بھی نہیں ، میرے صرف آپ سے تین سوال ہیں - ہاں یا ناں میں جواب دیجیئے گا..
میں نے کہا - پوچھو ۔۔۔۔۔۔ !!
وہ شخص کہنے لگا - مولوی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔ !!
مجھے یہ بتائیئے - کہ کیا نبى صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی جسکا نام فاطمہؑ (ص) تھا - نبیؐ (ص) کی رحلت کے بعد دربار میں گئی تھیں؟
مولانا کہتے ہیں ، میں نے کوشش کی کچھ بولنے کی -
مگر سید بولا نہیں مولانا .. صرف ایک جواب دیں - ہاں یا ناں -
رسولؐ کی بیٹیؑ (ص) دربار میں گئی تھی ؟
میں نے کہا ہاں گئی تھی -
کہتا ہے مولانا پھر ایک اور سوال ھے ،
اس نے کچھ مانگا بھی تھا یا نہیں ؟
مولانا کہتے ہیں - میں پھر کچھ اور کہنے کی کوشش میں تھا - کہ سید پھر بولا .. ہاں یا ناں -
رسولؐ کی بیٹیؑ (ص) نے مسلمانوں سے کچھ مانگا بھی؟
میں نے کہا.. ہاں مانگا تو تھا -
کہتا ھے مولانا !! تیسرا اور آخری سوال :
جواب صرف ہاں یا ناں میں -
تو مسلمانوں نے ان کو حق دیا یا خالی لوٹا دیا ؟
مولانا کہتے ہیں ، میں نے کہا خالی لوٹا دیا -
سید نے سارے سوالوں کے دوران سر جھکایا ہوا تھا - اس جواب کے بعد سر اوپر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا - اُس سید کی آنکھوں میں آنسو تھے ، اُداسی و بے بسی سے مجھے کہنے لگا ...
بس مولانا مجھے آپ سے یہی پوچھنا تھا -
میرے قریب جو بڑے بڑے اہلسنت تھے - بڑی بڑی لاٹھیاں لے کے کھڑے ہو گئے - اور بولے مولانا اُن کمبختوں کا نام بتائیں - جنہوں نے بیبی (ص) کو انکا حق نہیں دیا - وہ لعنتی تھے کون ؟ جنہوں نے محمد مصطفی (ص) کی بیٹی خاتون جنت کیساتھ یہ سلوک کیا ؟
ایک چیخ و پکار کا سماں بن گیا ، جو ماحول خوشی اور جشن کا تھا - وہ ماتم کدہ میں تبدیل ہو گیا - مولانا اسماعیل کہتے ہیں - میری زندگی کا یہ واقعہ تھا - میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا - یہ وہی وقت تھا - کہ جب میں ان چند لمحات میں حق و صداقت کو پہچان چکا تھا - اور اپنے دل و دماغ اور شعور سے اپنا مسلک اور عقیدہ تبدیل کر چکا تھا - الحمدوللہ -
میں آج بھی سوچتا ہوں -
کہ ان لوگوں کو تو ابھی صرف یہ پتہ ھے -
کہ بیبی زہرا سلام اللہ علیہا دربار گئی .. اور وہ دکھ اور غصے سے نڈھال ہو گئے ہیں -
اگر یہ جان جائیں کہ !!
نبیؐ (ص) کی بیٹیؑ (ع) دربار خود نہیں گئی ۔
بلکہ مسلمانوں نے بلائی تھی- اور رسول (ص) کی بیٹی (ع) کئی گھنٹے اپنے بابا محمد مصطفی (ص) کے نوکروں اور غلاموں کے درمیان کھڑی بھی رہیں -
اور کسی بدبخت نے بھی انہیں بیٹھنے کا بھی نہیں کہا -
(بخاری شریف جلد 2 صفہہ 91 ۔۔۔۔۔ مسلم شریف جلد 5 صفہہ 24 ۔۔۔۔۔ سیرت الحلبیہ جلد 6 صفہہ 532 ۔۔۔۔۔ صواعق محرقہ ابن حجر مکی صفہہ 71 ۔۔۔۔۔ ازالتہ الخفاء شاہ ولی اللہ محدث دھلوی مقصد دوئم صفہہ 57 ۔۔۔۔۔ تاریخ یعقوبی صفہہ 361)
وہ تو یہ بھی نہیں جانتے تھے -
کہ جس دروازے پہ نبیؐ (ص) آکر سلام کیا کرتے تھے -
اور آیت تطہیر کی تلاوت کیا کرتے تھے - پھر اجازت طلب کرکے اندر داخل ہوا کرتے تھے - جس در پہ جبرائیل بھی بغیر اجازت اندر داخل نہیں ہو سکتے تھے - اور جس گھر میں بچوں کے پنگھوڑے کی ڈوریاں بھی فرشتے ہلاتے تھے اور گھر کی چکیاں چلاتے تھے - مسلمانوں نے تو اُس گھر کے دروازے کو بھی جلا ڈالا - اور پھر نبی (ص) کی بیٹی (ع) پر مسلمانوں نے وہی جلتا ہوا دروازہ گرایا ۔
نبیؐ (ص) کا نواسہ حضرت محسنؑ (ع) شکم مادر میں شہید ہوگیا - (ترمزی شریف جلد 2 صفہہ 786 ۔۔۔۔۔ ارحج المطالب عبیداللہ امرتسری صفہہ 58 ۔۔۔۔۔ تفسیر در منثور السیوطی جلد 5 صفہہ 565 ۔۔۔۔۔ازالتہ الخفاء شاہ ولی اللہ محدث دھلوی مقصد دوئم صفہہ 534 ۔۔۔۔۔ سفینہ نوح شفیع اوکاڑوی حصہ دوئم صفہہ 35 ۔۔۔۔۔ الفاروق شبلی نعمانی صفہہ 124 ۔۔۔۔۔ تاریخ ابوالفداء صفہہ 105 ۔۔۔۔۔ الامامت والسیاست ابن قتیبہ دینوری صفہہ 22)
میں نے یہ بتایا کہ صرف دربار بلایا ، بلکہ یہ نہیں ، کہ تین گھنٹے کھڑے رکھا - خود کرسیوں پہ بیٹھے ہنستے رھے - یہ بھی چھپا لیا - کہ نبی (ص) کی تحریر کو صرف جٹھلایا نہیں ، بلکہ ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دیا - اور نبیؐ (ص) کی بیٹیؑ ع خود چنتی رہی اور روتی رہی - اور سیدہ (ص) نے انکیلیئے بد دعا کی - (سیرت الحلبیہ جلد 6 صفہہ 533 ۔۔۔۔۔ الامت والسیاست دینوری صفہہ 23)
نبیؐ (ص) کی بیٹیؑ آٹھارہ سال کی تھی -
پر دربار کے واقعے کے بعد سر کے بال سفید ہو گئے -
میں نے تو یہ بھی نہیں بتایا - کہ نبیؐ (ص) کی بیٹیؑ ع نبیؐ (ص) کی رحلت کے بعد تین دن تک صف بچھاکر مسلمانوں کے پُرسے کی راہ دیکھتی رہی - پر مسلمانوں نے رونے پر پابندی لگا کر مدینے سے باہر نکال دیا.... مولا علی (ع) نے انکیلیئے مدینہ سے باہر ایک کوٹھری بنوائی - جسکا نام " بیت الحزن " (رونے کی جگہ) رکھا - اور بیبی (ص) دن رات وہاں روتی رہتی -
و سیعلمو الزین ظلمو ای منقلبون ینقلبون -
اللہ کی لعنت و عذاب ھو -
حق سیدہ فاطمہ زھراؑ و آل محمدؐ علیہم السلام
کے غاصبین پہ ......... بیشمار -
Comments
Post a Comment