کلمہ طیبہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع کانفرنس: کلمہ طیبہ

👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻

ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ عامیانہ اذہان زیادہ تر شیعوں کے خلاف جب بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے کلمہ پر بات کرتے ہوئے دعوے دار بنتے ہیں کہ شیعوں کا کلمہ مسلمانوں سے الگ ہے لہذا شیعہ کافر ہیں!

👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻بعض یہاں تک بھی اپنا تعصب اگلتے ہیں کہ شیعت ایک الگ دین ہے اور اسلام سے تشیع کا کوئی تعلق نہیں!(الامان من ھذا البھتان والافتراء)

👈🏻👈🏻👈🏻آج کے زمانے میں اسلام میں داخل ہونے کے لیے ایسی تمام باتوں کا اقرار( چاہے عمل کے بغیر ہی ہوں) لازمی ہے جو تمام  اسلامی فرقوں کے ہاں کلیات اور متفقہ ہیں! اب چاہے ان کا تعلق اعتقادی باتوں سے ہو یا ضروریات سے ہو۔
مطلب فقط اعتقادات کا اقرار کافی نہیں ہے بلکہ نماز روزہ جیسی ضروریات کا اقرار بھی واجب ہوگا۔

👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻مختصر مقدمہ کے بعد ایک بات عرض کرتا چلوں کہ
آپ نے ہمارے مخالفین کی زبانی یہ سنا بہت زیادہ سنا ہوگا کہ شیعہ اگر مسلمان ہیں تو اپنے ایمانیات ثابت کریں(ایمانیات کی جگہ اعتقادات ایک علمی لفظ ہے لیکن اہل سنت ایمانیات استعمال کرتے ہیں اور اعتقادات کو بھی اعتقادیات کہتے ہیں جبکہ یہ جاہلانہ الفاظ ہیں)
ایمانیات کے اثبات کے مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بولتے نظر آتے ہیں کہ یہ ایمانیات یکجا یعنی ایک ہی جگہ دکھایا جائے!
اب سوال یہ ہے کہ
جتنے ایمانیات اہل سنت نے مشہور کیے ہوئے ہیں کیا وہی محدود ہیں؟ اگر محدود ہیں تو جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ صحیحین میں ایک کتاب کا نام کتاب الایمان ہے جو سیکڑوں اعتقادات( ایمانیات) کا مجموعہ ہے۔
اور اگر ایمانیات ان کے مشہور کردہ ایمانیات میں محدود نہیں ہیں تو پھر ان کو کوئی حق نہیں کہ مخالفین سے یکجا ایمانیات کا مطالبہ کریں!
اس کے علاوہ ان سے پوچھا جائے کہ نماز ایمانیات میں سے ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو آپ کے ایمانیات میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟
اور اگر ایمانیات میں شامل نہیں ہے تو اس کا منکر ایمان سے خارج نہیں ہونا چاہیے!
بہرحال یہ کیونکہ عام لوگ اعتراضات کرتے ہیں جن کی علمی سظح بالکل نیچے ہوتی ہے جیسے علی شیر رحمانی وغیرہ۔ تو ایسے لوگ بغیر کسی مبنی کے یوں سوالات چھوڑتے ہیں!
👈👈 مزے کی بات یہ ہے کہ بڑے علماء میں آپ نے کبھی سنا یا دیکھا نہیں ہوگا جو کلمہ پر شیعوں سے مناظرے کرتے ہوں یا ایمانیات پر اس انداز میں مناظرے کرتے ہوں! کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ علمی حوالے سے ایسے خرافاتی اعتراضات کی کوئی گنجائش نہیں ہے!

👈🏻👈🏻👈🏻
کیا کسی کے عقیدے کا قرآن سے ثابت نہ ہونا اس بات کا ثوت ہوتا ہے کہ وہ کافر ہے؟
جواب: 1ـ ایسا کبھی بھی کسی سنی معتبر عالم نے نہیں کہا ہے!
2ـ ایسا قانون کہیں سے بھی ثابت نہیں ہے!
3ـ اگر قرآن ہی سے ثابت شدہ باتیں اعتقادات اور ایمانایات میں شامل ہیں تو پھر کتاب الایمان میں ایسی ایمانیات کا ذکر جو قرآن میں نہیں ہیں فضول ہے؟
4ـ یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے!👈 کیا کلمہ طیبہ( لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) قرآن سے ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو کس آیت سے؟
اگر کہا جائے کہ قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا ۔۔۔۔ سے؟
اور محمد رسول اللہ والذین معہ۔۔۔ سے؟
تو سوال یہ ہے کہ:
1ـ کیا یہ آیات کلمہ کے لیے ہیں؟
2ـ کسی مفسر نے ان آیات سے کلمہ کا اثبات کیا ہے؟
3ـ اگر بالفرض یہ آیات کلمہ کے لیے ہیں تو پہلی آیت تو یہ کہہ رہی ہے کہ لا الہ الا اللہ کہہ دو کامیاب ہوجاؤ گے! اب کیا واقعی محؐد رسول اللہ پڑھنا واجب نہیں؟ اب اس کا صاف مطلب ہوا کہ یہ آیت کلمہ طیبہ سے مربوط ہی نہیں ہے!
4ـ محمد رسول اللہ و الزین معہ والی آیت کلمہ سے مربوط ہے؟ اگر مربوط ہے تو کیا آدھا کلمہ ثابت کرے گی یہ آیت؟
بالفرض اگر یہ کلمہ کے لیے ہے تو اس آیت کو آدھا لے لینا یھودیوں کی طرز نہیں ہے؟
کیونکہ محمد مبدل منہ ہے اور رسول اللہ بدل ہے اور یہ مل کر معطوف علیہ ہے (اس نکتہ کو ھتوڑی بہت گرامر جاننے والے ہی سمجھیں گے) بہرحال جملہ یہاں پر آدھا ہے اور اس کی تکمیل والذین معہ کے بعد اشداء علی الکفار سے ہوتی ہے!
مطلب یہ کہ اگر یہ آیت کلمہ کے لیے ہے بالفرض تو اس صاف ظاہر ہونا چاہیے کہ کلمہ محمد رسول اللہ تک نہیں بلکہ آگے بھی ہونا چاہیے۔۔ (اب آیت کے  آگے والے حصے کا مصداق ابوبکر ہو یا شیعوں کے بقول امام علی ع ہوں ہر حال میں کلمہ میں اضافہ ہورہا ہے جس سے ہمارے مخالفین بھاگ رہے ہیں اور جس کی وجہ سے ہمارے مخالفین ہمیں کافر کہتے پھر رہے ہیں!!!
خلاصہ کلام:
یہ آیتیں کلمہ سے مربوط نہیں ہیں اور اگر مربوط ہیں تو محمد رسول اللہ کے بعد بھی کچھ ثابت ہورہا ہے!

👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻اب آتے ہیں کلمہ طیبہ پر
ہمارے مخالفین یہ مختلف دعوے کرتے نظر آتے ہیں:
1ـ شیعہ کا کلمہ قرآن سے ثابت نہیں ہے! لہذا وہ کافر ہیں!
2ـ شیعہ کا کلمہ اگرچہ مسلمانوں والا ہی ہے لیکن وہ کلمہ میں اضافہ کرکے کافر بن جاتے ہیں!
3ـ شیعہ کا کلمہ اسلامی کلمہ سے الگ ہے لہذآ وہ کافر ہیں اور اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے!
👈 اب ہماری بحث ان سوالوں کے ارد گرد گھومے گی!

👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻اب کلمہ طیبہ  یا تو قرآن سے ثابت ہی نہیں یا پھر اضافی کلمہ بھی ثابت ہورہا ہے۔۔!
پہلی صورت میں اب وہ مدعی خود بھی کافر ٹھہر رہا ہے جس نے اسی بنیاد پر شیعوں کو کافر قرار دیا کہ تمہارا کلمہ کیونکہ قرآن سے ثابت نہیں لہذا کافر ہو!
دوسری صورت میں وہ شیعوں کے خلاف بولنے کا حق ہی نہیں رکھتا کیوں کہ ناخواہ بھی اس کے ہاں اضافی کلمہ ثابت ہورہا ہے!

👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻دوسرا سوال ہمارے مخالفین کا یہ تھا کہ شیعہ کلمہ میں اضافہ کر رہے ہیں لہذا کافر ہیں!
جواب یہ ہے کہ:
1ـ اضافی چیز ایسی ہے جو شریعت میں جائز ہے مثلا الصلاۃ واجبۃ یا الموت حق یا الساعۃ قریب۔۔۔ تو اس کو کلمہ میں شامل کرکے پڑھنے پر کوئی کفرنہیں ہے اور کفر پر کوئی دلیل نہیں ہے!
لیکن اگر ایسی چیز کا اضافہ کیا جائے جو شریعت میں شرک ہے یا کفر ہے یا حرام ہے تو اسی چیز کے مطابق حکم شرک کا لگے گا یا کفر کا لگے گا یا حرام کا لگے گا۔۔۔ لیکن اسی منکر بات کی وجہ سے یہ حکم عائد ہوگا!
2ـ ہم جو کلمہ میں علی ولی اللہ پڑھتے ہیں وہ شرک ہے؟ ہرگز نہیں۔ وہ کفر ہے؟ ہرگز نہیں۔ وہ حرام ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ تمام فرقے علی ع کے ولی ہونے کو قبول کرتے ہیں!
اور پھر ایسی جائز چیز کو کلمہ میں پڑھنے کے کفر پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے!

👈 اگر کوئی یہ کہے کہ چار رکعتی نماز میں پانچویں رکعت پڑھی جائے تو یہ بدعت ہے چہ چائیکہ بذات خود اللہ کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے!
جواب: نماز اور کلمہ میں فرق ہے! وہ اس طرح کہ شرعیت میں نماز کی محدودیت بتادی گئی ہے(یعنی توقیفی ہے) کہ دو رکعت ہے یا تین رکعت ہے یا چار۔۔۔ لیکن کلمہ میں ایسی کوئی محدودیت نہیں ہے!
محدودیت نہ ہونے کا ثبوت:
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ:أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ

📚صحيح البخاري (4/ 165)
3435 - حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، حَدَّثَنَا الوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ العَمَلِ» قَالَ الوَلِيدُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، عَنْ جُنَادَةَ وَزَادَ مِنْ أَبْوَابِ الجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَيَّهَا شَاءَ

اب مزے کی بات یہ ہے کہ 🤔👈 زیادہ کلمہ پڑھنے کو جنت کی ضمانت قرار دیا جارہا ہے!

👈 پھر ایک روایت دے رہا ہوں کہ لا إله إلا الله محمد رسول الله أبو بكر الصديق عمر الفاروق عثمان ذو النورين📚

اب اگر گر اضافی کلمہ پڑھنے والا کافر ہے تو  پھر یہ کفریہ روایت یہاں آپ کی کتابوں میں کیا کر رہی ہے؟؟
📚المعجم الكبير (11/ 76)
11093 - حدثنا سعيد بن عبد ربه الصفار البغدادي ثنا علي بن جميل الرقي ثنا جرير عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الجنة شحرة أو ما في الجنة شجرة شك علي بن جميل ما عليها ورقة إلا مكتوب عليها لا إله إلا الله محمد رسول الله أبو بكر الصديق عمر الفاروق عثمان ذو النورين
بہرحال صاف ظاہر ہوا کہ اضافی کلمات پڑھنا کفر نہیں ہے!

👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻تیسرا حملہ جو ہمارے مخالفین کی طرف ہم پر ہوتا ہے وہ تو بہت ہی گھٹیا اور تعصب سے بھرا ہوا ہوتا ہے! کہ شیعوں کا دین ہی الگ ہے کیونکہ شیعوں کا کلمہ الگ ہے!!!!
جواب:
1ـ پہلی بات تو یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ۔۔۔ سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کلمہ کسی الگ دین کا ہے اور اور اسلام سے اس کا کوئی ربط نہیں ہے!؟؟
دوسرے کون سے دین میں محمد کو اللہ کا رسول مانا جاتا ہے؟؟
دوسرے کس دین میں علی ع کو اللہ کا ولی مانا جاتا ہے؟؟ اگر کوئی ایسا دین ہے تو بتادیں!
اگر اضافی کلمات پڑھنے سے بندہ دوسرے دین پر چلا جاتا ہے تو پھر جان لیں کہ صحیح بخاری کے مطابق جنت کی شرط ہی یہی ہے کہ دوسرے دین کی طرف جاؤ(یعنی اضافی کلمات پڑھو جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں نے اوپر پیش کی ہے)۔
اگر اضافی کلمات پرھنے سے بندہ اسلام سے ہٹ کر کسی دوسرے دین پر چلا جاتا ہے تو حجرت ابوبکر یقینا کسی دوسرے دین میں صدیق ہے اسلام میں سچا نہیں ہے! وغیرہ۔

👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻👈🏻کلیدی سوال:
کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ یہی اصلی کلمہ ہے یا شہادتین والا اصلی کلمہ ہے؟
اگر یہ طیبہ ہی اصلی کلمہ ہے تو حضرت ابوبکر اور عمر نے کبھی یہ کلمہ پڑھا؟ کیا یہ دونوں یہی کلمہ پرھ کر مسلمان ہوئے تھے؟ کوئی ہلکا سا ہی ثبوت؟👇🏻👇🏻👇🏻

👈🏻👈🏻👈🏻کلیدی سوال:
کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ یہی اصلی کلمہ ہے یا شہادتین والا اصلی کلمہ ہے؟
اگر یہ طیبہ ہی اصلی کلمہ ہے تو حضرت ابوبکر اور عمر نے کبھی یہ کلمہ پڑھا؟ کیا یہ دونوں یہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے تھے؟ کوئی ہلکا سا ہی ثبوت؟
اگر انہوں نے اگر شہادتین والا کلمہ پڑھا ہے تو شیعہ بھی تو یہی شہادتین پڑھتے ہیں! شیعوں کی کتاب نہج البلاغہ سے لر کر شرح لمعہ تک ہر کتاب میں یہی شہادتین ہی کا ذکر ہے!
تو پھر شیعہ کافر کیوں؟


صلی اللہ علی محمد وآل محمد

متکلم👈🏻ابومہدی عمار حیدر معصومی

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں